🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3829. -- باب: ما جاء في حلاق الشعر بعد ذبح الأضحية
-- باب: قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد بال مونڈنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19189
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يُضَحِّي عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ.
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عورت کے پیٹ کے بچے کی جانب سے قربانی نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19189]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3830. -- باب: الرجل يوجب شاة أضحية لم يكن له أن يبدلها بخير ولا شر منها
-- باب: جو شخص کسی بکری کو قربانی کے لیے نامزد کر دے تو اس کے لیے اسے کسی بہتر یا کمتر جانور سے بدلنا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19190
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حَمَلَ الْكَبْشَ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذَبَحَ الْكَبْشَ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى إِذَا لَمْ يَحُجَّ. وَقَدْ فَعَلَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ مدینہ میں قربانی کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سینگوں والا، غیر خصی مینڈھا خریدنے کا حکم دیا، پھر یہ کہ میں اسے قربانی کے دن لوگوں کی عید گاہ میں ذبح کروں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، پھر مینڈھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا، جب مینڈھا ذبح ہوا تو انہوں نے اپنا سر منڈوایا، وہ بیمار تھے اور لوگوں کے ساتھ عید میں حاضر نہ ہو سکے تھے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو حج نہ کرے تو قربانی کرنے والے پر سر منڈوانا واجب نہیں ہے، حالانکہ خود سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19190]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3831. -- باب: ما جاء في ولد الأضحية ولبنها
-- باب: قربانی کے جانور کے بچے اور اس کے دودھ کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19191
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْأَلْثَغُ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنِ الْجَهْمِ بْنِ جَارُودٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُهْدِيَ بُخْتِيَّةً لَهُ قَدْ أُعْطِيَ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا وَيَشْتَرِيَ بِثَمَنِهَا بُدْنًا، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَهَا وَلَا يَبِيعَهَا. كَذَا قَالَ: بُخْتِيَّةً لَهُ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بختی اونٹ قربانی (ہدی) کے لیے مقرر کیا گیا، جس کی تین سو دینار قیمت لگ چکی تھی۔ انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے قربانی کے اونٹ خریدنا چاہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اسی کو نحر کریں اور اسے فروخت نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19191]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3832. -- باب: الرجل يشتري أضحية وهي تامة ثم عرض لها نقص وبلغت المنسك
-- باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا مکمل (بے عیب) جانور خریدے، پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اور وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19192
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ حَذْفٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ يَسُوقُ بَقَرَةً مَعَهَا وَلَدُهَا، فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا أُضَحِّي بِهَا وَإِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: فَلَا تَشْرَبْ مِنْ لَبَنِهَا إِلَّا فَضْلًا عَنْ وَلَدِهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَانْحَرْهَا هِيَ وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ.
مغیرہ بن حذف عبسی فرماتے ہیں: ہم رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمدان کا ایک شخص آیا، وہ ایک گائے اور اس کے بچے کو ہانک رہا تھا، پھر کہنے لگا: میں نے اسے قربانی کے لیے خریدا تھا پھر اس نے بچہ جن دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جو بچے سے زائد رہ جائے، جب قربانی کا دن آئے گا تو اسے اور اس کے بچے کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19192]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19193
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ قَرَظَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً لِأُضَحِّيَ بِهَا فَخَرَجْتُ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهَا، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا". وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ: اشْتَرَيْنَا كَبْشًا لِنُضَحِّيَ بِهِ فَقَطَعَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهُ أَوْ مِنْ أَلْيَتِهِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ بِهِ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، إِلَّا أَنَّ جَابِرًا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے لیے ایک بکری خریدی اور نکلا تو ایک بھیڑیے نے اس کی چکی (دم والا حصہ) پکڑ لی۔ میں نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“
(ب) سفیان کی روایت میں ہے کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا تو بھیڑیے نے اس کی چکی یا چکی کا کچھ حصہ کاٹ ڈالا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قربانی کرنے کا حکم دیا۔
البتہ جابر (جعفی) قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19193]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19194
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ بِالْأُضْحِيَّةِ الْمَقْطُوعَةِ الذَّنَبِ". وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، فَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَاةٍ قَطَعَ الذِّئْبُ ذَنَبَهَا يُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم کٹے جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
(ب) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بکری کے بارے میں پوچھا جس کی دم کو بھیڑیے نے کاٹ دیا تھا کہ کیا اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3833. -- باب: الرجل يشتري أضحية فتموت أو تسرق أو تضل
-- باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19195
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَأَى هَدَايَا لَهُ فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا.
ابوحصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی قربانی کے جانوروں (ہدی) میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا: اگر خریدنے کے بعد عیب پیدا ہوا ہے تو اس کی قربانی کر دو، اور اگر خریدنے سے پہلے عیب موجود تھا تو اسے تبدیل کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19195]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19196
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: ⦗٤٨٧⦘ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَهْدَى هَدِيَّةً فَضَلَّتْ فَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا. هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کی بھیجی ہوئی قربانی (ہدی) گم ہو جائے، اگر وہ نذر کا جانور تھا تو اسے تبدیل کرے، اور اگر نفلی قربانی تھی تو اسے اختیار ہے، چاہے تو بدل لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19196]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حُوَيَصٍ يَعْنِي الْمِصْرِيَّ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً بِمِنًى أُضْحِيَّةً فَضَلَّتْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَكِنَّهُ إِنْ وَجَدَهَا بَعْدَ مَا أَوْجَبَهَا ذَبَحَهَا وَإِنْ مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْبُدْنِ مِنَ الْهَدْيِ.
تمیم بن حویص مصری فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں قربانی کے لیے ایک بکری خریدی جو گم ہو گئی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن اگر اسے (قربانی کے لیے) واجب کر لینے کے بعد وہ مل جائے تو اسے ذبح کر دے، اگرچہ قربانی کے دن گزر چکے ہوں، جیسا کہ ہدی کے اونٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19197]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19198
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَّتَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَنَحَرَتْهُمَا ثُمَّ وَجَدَتِ الْأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ: هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ..
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قربانی کے دو اونٹ روانہ کیے جو گم ہو گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی جگہ دو اونٹ بھیج دیے جنہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نحر کروا دیا۔ پھر پہلے والے دونوں اونٹ بھی مل گئے تو انہیں بھی نحر کروا دیا۔ پھر فرمایا: قربانی کے اونٹوں میں یہی سنت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19198]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں