السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3836. -- باب: الرخصة في الأكل من لحوم الضحايا والإطعام والادخار
-- باب: قربانی کے گوشت میں سے خود کھانے، دوسروں کو کھلانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ يَسَعَكُمْ، جَاءَ اللهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ". قَوْلُهُ: وَاتَّجِرُوا صِلَةُ ائْتَجِرُوا، عَلَى وَزْنِ افْتَعِلُوا، يُرِيدُ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُبْتَغَى أَجْرُهَا، وَلَيْسَ مِنْ بَابِ التِّجَارَةِ.
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قربانیوں کے گوشت تین دن سے زائد کھانے سے منع کیا تھا تاکہ وسعت پیدا ہو جائے، اب اللہ نے وسعت پیدا کر دی ہے، اب کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اجر حاصل کرو، کیونکہ یہ ایام کھانے، پینے اور اللہ کے ذکر کے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19219]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ ⦗٤٩٣⦘ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ وَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ:" لَا تَأْكُلُوا مِنْهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ". وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَطْعَمُوا مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
سیدہ عمرہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہم قربانی کا گوشت نمک لگا کر خشک کر لیتی تھیں، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں (وہ گوشت) لے کر آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت صرف تین دن تک کھاؤ۔“ لیکن یہ لازم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے ذریعے) دوسروں کو کھلانے کا ارادہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19220]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٥٥٧٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19221
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ". قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ"؟ أَوْ كَمَا قَالَ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَهَيْتَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رَوْحٍ عَنْ مَالِكٍ.
عبداللہ بن واقد بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے، کیونکہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیہاتی لوگ قربانی کے موقع پر شہر آتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے لیے ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔“ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد کہا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی پگھلاتے اور ان (کی کھالوں) سے مشکیزے بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے صرف دیہاتی لوگوں کے قربانی کے موقع پر آنے کی وجہ سے منع کیا تھا، اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19221]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٧١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19222
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى، ح وأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: مَا نَهَى عَنْهُ إِلَّا مَرَّةً فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ مِنْهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَلَقَدْ كُنَّا نُخْرِجُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَنَأْكُلُهُ. فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَضَحِكَتْ، وَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ ⦗٤٩٤⦘.
عبدالرحمن بن عابس کے والد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے گوشت) سے منع فرمایا تھا؟
(ب) عبدالرحمن بن عابس بن ربیعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا؟ فرماتی ہیں: صرف ایک مرتبہ اس سال منع فرمایا تھا جس میں لوگ بھوکے تھے، تاکہ غنی، فقیر آدمیوں کو کھلائیں، اور ہم پندرہ دن کے بعد (قربانی کے جانور کے) پائے نکالتے اور انہیں کھاتے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سالن کے ساتھ گندم کی روٹی تین دن سیر ہو کر نہ کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل سے جا ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19222]
(ب) عبدالرحمن بن عابس بن ربیعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا؟ فرماتی ہیں: صرف ایک مرتبہ اس سال منع فرمایا تھا جس میں لوگ بھوکے تھے، تاکہ غنی، فقیر آدمیوں کو کھلائیں، اور ہم پندرہ دن کے بعد (قربانی کے جانور کے) پائے نکالتے اور انہیں کھاتے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سالن کے ساتھ گندم کی روٹی تین دن سیر ہو کر نہ کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل سے جا ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٥٤٣٨»
الحكم على الحديث: صحيح
3837. -- باب: إطعام البائس الفقير وإطعام القانع والمعتر، وما جاء في تفسيرهم
-- باب: خستہ حال فقیر، نیز قانع (سوال نہ کرنے والے محتاج) اور معتر (بن مانگے سامنے آنے والے) کو کھلانے اور ان کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: Q19223
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ} [الحج: 28] ، وَقَالَ: {وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ} [الحج: 36] . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْقَانِعُ هُوَ السَّائِلُ وَالْمُعْتَرُّ هُوَ الزَّائِرُ وَالْمَارُّ بِلَا وَقْتٍ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْقَانِعُ: الْفَقِيرُ، وَالْمُعْتَرُّ: الزَّائِرُ، وَقِيلَ الَّذِي يَتَعَرَّضُ الْعَطِيَّةَ مِنْهَا..
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ ”پس اس میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 28]
اور فرمایا: ﴿وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ ”اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے (دونوں) کو کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قانع سے مراد سوال کرنے والا ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا اور بغیر کسی مقررہ وقت کے گزرنے والا ہے۔“
اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ”قانع سے مراد فقیر ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا ہے، اور کہا گیا ہے کہ (معتر) وہ شخص ہے جو اس (قربانی) میں سے عطیہ لینے کے لیے سامنے آتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19223]
اور فرمایا: ﴿وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ ”اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے (دونوں) کو کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قانع سے مراد سوال کرنے والا ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا اور بغیر کسی مقررہ وقت کے گزرنے والا ہے۔“
اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ”قانع سے مراد فقیر ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا ہے، اور کہا گیا ہے کہ (معتر) وہ شخص ہے جو اس (قربانی) میں سے عطیہ لینے کے لیے سامنے آتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19223]
حدیث نمبر: 19223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمَّا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ لِلدَّافَّةِ ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا"، وَرَوَى جَابِرٌ مَا ذَكَرْنَا كَانَ يَجِبُ عَلَى مَنْ عَلِمَ الْأَمْرَيْنِ مَعًا أَنْ يَقُولَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَعْنًى فَإِذَا كَانَ مِثْلُهُ فَهُوَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ مِثْلُهُ لَمْ يَكُنْ مَنْهِيًّا عَنْهُ، أَوْ يَقُولَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَقْتٍ ثُمَّ أَرْخَصَ فِيهِ بَعْدَهُ، وَالْآخِرُ مِنْ أَمْرِهِ نَاسِخٌ لِلْأَوَّلِ. قَالَ: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ إِذَا كَانَتِ الدَّافَّةُ عَلَى مَعْنَى الِاخْتِيَارِ لَا عَلَى مَعْنَى الْفَرْضِ، لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى فِي الْبُدْنِ: {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا} [الحج: ٣٦] ، وَهَذِهِ الْآيَةُ فِي الْبُدْنِ الَّتِي يَتَطَوَّعُ بِهَا أَصْحَابُهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں کے آنے کی وجہ سے منع فرمایا تھا، پھر فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو“ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے وہ روایت کی جو ہم نے ذکر کی، تو جو شخص دونوں باتوں کو جانتا ہو اس پر لازم ہے کہ یوں کہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص وجہ سے منع فرمایا تھا، جب ویسی صورت حال ہو تو ممانعت ہے اور جب ویسی صورت حال نہ ہو تو ممانعت نہیں، یا یوں کہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت میں منع فرمایا، پھر اس کے بعد رخصت دے دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم پہلے حکم کو منسوخ کرنے والا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: معلوم یہ ہوتا ہے کہ دیہاتیوں کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت روک رکھنے سے منع فرمانا استحباب کے طور پر تھا، فرض کے طور پر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کے اونٹوں کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ [سورة الحج: 36] ”پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور کھلاؤ۔“ اور یہ آیت ان اونٹوں کے بارے میں ہے جنہیں ان کے مالک نفلی طور پر قربان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19223]
امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: معلوم یہ ہوتا ہے کہ دیہاتیوں کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت روک رکھنے سے منع فرمانا استحباب کے طور پر تھا، فرض کے طور پر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کے اونٹوں کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ [سورة الحج: 36] ”پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور کھلاؤ۔“ اور یہ آیت ان اونٹوں کے بارے میں ہے جنہیں ان کے مالک نفلی طور پر قربان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19223]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19224
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ} [الحج: ٢٨] قَالَ: الَّذِي يَسْأَلُكَ.
حضرت عطاء رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ [سورة الحج: 28] کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ شخص جو آپ سے سوال کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19224]
حدیث نمبر: 19225
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: الْقَانِعُ: السَّائِلُ، وَالْمُعْتَرُّ: الَّذِي يَعْتَرِيكَ يُرِيدُكَ وَلَا يَسْأَلُكَ.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْقَانِعُ» سے مراد ”سوال کرنے والا“ اور «الْمُعْتَرُّ» سے مراد ”ایسا شخص جو آپ سے عطیہ کا ارادہ رکھتا ہو لیکن آپ سے سوال نہ کرے“ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19225]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19226
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُجَاهِدٍ: الْقَانِعُ: الْجَالِسُ فِي بَيْتِهِ، وَالْمُعْتَرُّ: الَّذِي يَعْتَرِيكَ.
ابراہیم اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ «الْقَانِعُ» سے مراد اپنے گھر میں بیٹھنے والا اور «الْمُعْتَرُّ» وہ ہے جو آپ کے پاس آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19226]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19227
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ} [الحج: ٣٦] قَالَ: الْقَانِعُ: الَّذِي يَقْنَعُ لِلرَّجُلِ يَسْأَلُهُ، وَالْمُعْتَرُّ: الَّذِي يَتَعَرَّضُ وَلَا يَسْأَلُ ⦗٤٩٥⦘.
حضرت حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ [سورة الحج: 36] کے متعلق فرماتے ہیں کہ «الْقَانِعُ» وہ شخص ہے جو اپنی ضرورت کا سوال کرے اور «الْمُعْتَرُّ» وہ ہے جو سامنے آتا ہے لیکن سوال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19227]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح