السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3844. جماع أبواب العقيقة -- باب: العقيقة سنة
0عقیقہ کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: عقیقہ سنت ہے۔
حدیث نمبر: 19268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ بْنُ عَبْدَانَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشَيْنِ.
قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے دو مینڈھوں سے عقیقہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19268]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19269
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَةِ ذَلِكَ فِضَّةً.
محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے بالوں کا وزن کر کے اس کے برابر چاندی صدقہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19269]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19270
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ عَقَّ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ. وَقِيلَ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
امام مالک رحمہ اللہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے عقیقہ کیا گیا۔
اور کہا گیا ہے کہ یہ ربیعہ سے، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19270]
اور کہا گیا ہے کہ یہ ربیعہ سے، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19270]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19271
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عُثْمَانَ بْنُ عَبْدَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِرَأْسِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَوْمَ سَابِعِهِمَا فَحُلِقَا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِوَزْنِهِ فِضَّةً وَلَمْ يَجِدْ أَوْ يَجُدَّ ذَبْحًا. وَقِيلَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ساتویں دن سر مونڈنے کا حکم دیا، پھر ان کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی اور پھر کوئی اور جانور ذبح نہیں کیا۔
اور کہا گیا ہے کہ یہ یحییٰ بن سعید سے، عمرہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، لیکن یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19271]
اور کہا گیا ہے کہ یہ یحییٰ بن سعید سے، عمرہ سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، لیکن یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19272
أنبأنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي الْيَافِعِيَّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، ⦗٥٠٥⦘ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" عَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِمَا الْأَذَى. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْيَافِعِيِّ وَعَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ فِي عَقِيقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَفْسِهِ حَدِيثًا مُنْكَرًا.
عمرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے ساتویں دن عقیقہ کیا اور ان کے نام رکھے اور ان کے سر سے ”تکلیف کو دور کرنے“ کا حکم دیا۔
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ابن جریج سے اس سند کے ساتھ محمد بن عمرو یافعی اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کے علاوہ کسی نے اسے روایت کیا ہو۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن محرر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی جانب سے عقیقہ کرنے کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19272]
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ابن جریج سے اس سند کے ساتھ محمد بن عمرو یافعی اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کے علاوہ کسی نے اسے روایت کیا ہو۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن محرر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی جانب سے عقیقہ کرنے کے بارے میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19272]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19273
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبْيُورْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنْ نَفْسِهِ بَعْدَ النُّبُوَّةِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: إِنَّمَا تَرَكُوا عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَرَّرٍ لِحَالِ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ قَتَادَةَ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
قتادہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جانب سے نبوت کے بعد عقیقہ کیا۔
عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین نے عبداللہ بن محرر کو اسی حدیث کی وجہ سے ترک کیا ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ایک اور سند سے قتادہ سے اور ایک اور سند سے انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19273]
عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین نے عبداللہ بن محرر کو اسی حدیث کی وجہ سے ترک کیا ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ایک اور سند سے قتادہ سے اور ایک اور سند سے انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19273]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3845. -- باب: ما يستدل به على أن العقيقة على الاختيار لا على الوجوب
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ اختیاری ہے، واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لَا يُحِبُّ اللهُ الْعُقُوقَ". كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ:" مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت «الْعُقُوقَ» ”نافرمانی“ کو ناپسند فرماتے ہیں۔“ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کے نام کو ہی ناپسند کیا ہے اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ پسند کرے کہ اس کی جانب سے عقیقہ کرے تو بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19274]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19275
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ". وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ:" مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ". ⦗٥٠٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ قَوِيَا، وَقَدْ عَلَّقَ فِيهِمَا ذَلِكَ بِمَحَبَّتِهِ.
زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «الْعُقُوقَ» (عقوق) کو ناپسند کرتا ہوں۔“ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کے نام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو وہ اپنے بچے کی جانب سے جانور ذبح کرنا چاہے تو کرلے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19275]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19275]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
3846. -- باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية
-- باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَهِي الْكَعْبِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا". كَذَا قَالَهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَذِكْرُ أَبِيهِ فِيهِ وَهْمٌ.
سیدہ ام کرز خزاعیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیقہ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”بچے کی جانب سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری، مذکر ہوں یا مؤنث، تمہیں کوئی نقصان نہ دے گا۔“
سفیان بن عیینہ نے اسے اسی طرح «عن أبيه» (اپنے والد سے) کہہ کر روایت کیا ہے، اور اس میں ان کے والد کا ذکر وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19276]
سفیان بن عیینہ نے اسے اسی طرح «عن أبيه» (اپنے والد سے) کہہ کر روایت کیا ہے، اور اس میں ان کے والد کا ذکر وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19276]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ. قَالَ الْفَقِيهُ الْعَالِمُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ الْمُزَنِيُّ فِي الْمُخْتَصَرِ عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، وَالْمُزَنِيُّ وَاهِمٌ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَنَّ سَائِرَ الرُّوَاةِ رَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِبَاعٍ، وَالْآخَرُ أَنَّهُمْ قَالُوا فِيهِ: سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ عَنِ الْمُزَنِيِّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ عَلَى الصَّوَابِ، كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنْ سُفْيَانَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. ⦗٥٠٧⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ.
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری۔“
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی (صحیح) حدیث ہے اور سفیان کی حدیث وہم ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزنی نے اسے مختصر میں امام شافعی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے سباع بن وہب سے، انہوں نے ام کرز سے روایت کیا ہے، اور مزنی کو اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک یہ کہ باقی تمام راویوں نے اسے ابن عیینہ سے، عبیداللہ بن ابی یزید سے، ان کے والد سے، سباع سے روایت کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس میں سباع بن ثابت کہا ہے۔ طحاوی نے اسے مزنی سے کتاب السنن میں ان دو جگہوں میں سے ایک جگہ درست روایت کیا ہے، جیسا کہ باقی سب لوگوں نے سفیان سے روایت کیا ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19277]
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی (صحیح) حدیث ہے اور سفیان کی حدیث وہم ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزنی نے اسے مختصر میں امام شافعی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے سباع بن وہب سے، انہوں نے ام کرز سے روایت کیا ہے، اور مزنی کو اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک یہ کہ باقی تمام راویوں نے اسے ابن عیینہ سے، عبیداللہ بن ابی یزید سے، ان کے والد سے، سباع سے روایت کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس میں سباع بن ثابت کہا ہے۔ طحاوی نے اسے مزنی سے کتاب السنن میں ان دو جگہوں میں سے ایک جگہ درست روایت کیا ہے، جیسا کہ باقی سب لوگوں نے سفیان سے روایت کیا ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19277]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح