السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3846. -- باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية
-- باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19278
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"..
ام کرز رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19278]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19279
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ يَعْنِي لِعَطَاءٍ: وَمَا الْمُكَافَأَتَانِ؟ قَالَ: الْمِثْلَانِ، وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْمَعْزِ، وَذُكْرَانُهَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهَا، رَأْيٌ مِنْهُ. قَالَ إِنْسَانٌ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ ذَبَحْتُ مَكَانَهَا جَزُورًا؟ قَالَ: ابْدَأْ بِالَّذِي سَمَّى ثُمَّ اذْبَحْ بَعْدُ مَا شِئْتَ. قُلْتُ لَهُ: وَالسُّنَّةُ؟ قَالَ: وَالسُّنَّةُ.
ابن جریج رحمہ اللہ، عطا رحمہ اللہ سے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ «مُكَافَاتَانِ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دونوں ایک جیسی ہوں“ اور بھیڑ، بکری سے زیادہ محبوب ہے اور مذکر، مؤنث سے زیادہ، یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ عطا رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ اگر میں اس کی جگہ اونٹ ذبح کر دوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے ابتدا کر جس کا نام لیا گیا ہے، اس کے بعد جو تیرا دل چاہے، میں نے ان سے کہا: کیا یہ سنت طریقہ ہے؟ فرمانے لگے: ہاں، یہ سنت طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19279]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19280
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: نُفِسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عُقِّي عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ: عَنْهُ جَزُورًا، فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ وَلَكِنْ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے گھر بچہ پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: ”اے مومنوں کی ماں! اس بچے کی جانب سے اونٹ کا عقیقہ کریں۔“ انہوں نے فرمایا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ”دو ایک جیسی بکریاں“ ذبح کرنے کا فرمایا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19280]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون القصة»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخْبَرَتْنَا، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكْفَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19281]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19282
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ سَالِمُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ تَعُقُّ عَنِ الْغُلَامِ وَلَا تَعُقُّ عَنِ الْجَارِيَةِ، فَعُقُّوا عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود بچے کی جانب سے عقیقہ کرتے ہیں جبکہ بچی کا عقیقہ نہیں کرتے۔ تم بچے کی جانب سے دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19282]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3847. -- باب: من اقتصر في عقيقة الغلام على شاة واحدة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے لڑکے کے عقیقے میں صرف ایک بکری پر اکتفا کیا۔
حدیث نمبر: 19283
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْهُذَلِيُّ الْمُقْعَدُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ كَبْشًا وَعَنِ الْحُسَيْنِ كَبْشًا.
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے ایک ایک مینڈھا عقیقہ میں ذبح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19283]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم برقم ١٩٢٦٧»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19284
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ عَقِيقَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَكَانَ يَعُقُّ عَنْ أَوْلَادِهِ شَاةً شَاةً عَنِ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے جو کوئی بھی ان سے عقیقہ کا سوال کرتا تو وہ اسے عطا کر دیتے اور اپنی اولاد مذکر و مؤنث کی جانب سے ایک ایک بکری کا عقیقہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19284]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19285
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَعُقُّ عَنْ بَنِيهِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ شَاةً شَاةً.
ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی جانب سے ایک ایک بکری کا عقیقہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19285]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3848. -- باب: من قال: لا تكسر عظام العقيقة ويأكل أهلها منها ويتصدقون ويهدون
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”عقیقے کی ہڈیاں نہیں توڑی جائیں گی، اور گھر والے اس میں سے کھائیں گے، صدقہ کریں گے اور ہدیہ دیں گے“۔
حدیث نمبر: 19286
رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ الَّتِي عَقَّتْهَا فَاطِمَةُ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَنْ يَبْعَثُوا إِلَى الْقَابِلَةِ مِنْهَا بِرِجْلٍ، وَكُلُوا وَأَطْعِمُوا وَلَا تَكْسِرُوا مِنْهَا عَظْمًا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عقیقہ کے بارے میں فرمایا جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے کیا: ”تم اس کی ایک ٹانگ دائی کو بھیجو، کھاؤ، کھلاؤ اور اس کی ہڈی نہ توڑنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19286]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19287
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ". قَالَ: وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ: ⦗٥٠٩⦘ تُقْطَعُ جُدُولًا وَلَا يُكْسَرُ لَهَا عَظْمٌ. أَظُنُّهُ قَالَ: وَيُطْبَخُ. قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: إِذَا ذَبَحْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ: يَقْطَعُ آرَابًا آرَابًا، وَيَطْبُخُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، وَيُهْدِي فِي الْجِيرَانِ. وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مِنْ قَوْلِهِ.
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ میں ہے۔“
عطاء کہتے ہیں: گوشت کاٹا جائے لیکن ہڈی نہ توڑی جائے۔ پکایا جائے اور ذبح کرتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، هٰذَا عَقِيقَةُ فُلَانٍ» ”بسم اللہ واللہ اکبر، یہ فلاں کا عقیقہ ہے“ کہا جائے۔ گوشت کاٹ کر نمک و پانی کے ساتھ پکایا جائے اور ہمسایوں میں تقسیم کردیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19287]
عطاء کہتے ہیں: گوشت کاٹا جائے لیکن ہڈی نہ توڑی جائے۔ پکایا جائے اور ذبح کرتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، هٰذَا عَقِيقَةُ فُلَانٍ» ”بسم اللہ واللہ اکبر، یہ فلاں کا عقیقہ ہے“ کہا جائے۔ گوشت کاٹ کر نمک و پانی کے ساتھ پکایا جائے اور ہمسایوں میں تقسیم کردیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19287]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح