السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3904. -- باب: ما يحل للمضطر من مال الغير
-- باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19662
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أنبأ صَالِحُ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا، فَقَالَ:" يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجُوعُ، قَالَ:" لَا تَرْمِ، وَكُلْ مِمَّا يَقَعُ، أَشْبَعَكَ اللهُ، وَرَوَاكَ"..
رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یہ ہماری کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے رافع! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مار رہے تھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے کھا لیا کرو۔ اللہ آپ کو سیر اور سیراب کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ⦗٤⦘ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ قَالَ:" خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ"، فَإِذَا هُوَ رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو أَخُو الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ.
صالح بن ابوجبیر جو حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ بنو غفار کا غلام ان کی کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔“ تو وہ رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ جو حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19663]
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19663]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ العلل الترمذي ٣٤٠»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19664
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ:" خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ"، قَالَ:" يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ:" لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا"، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ:" اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچپن میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19664]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19665
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي، نُرِيدُ الْهِجْرَةَ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُونِي فِي ظَهْرِهِمْ وَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ، فَأَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ، فَأَصَبْتَ مِنْ ثِمَارِ حَوَائِطِهَا، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَقَطَعْتُ قِنْوَيْنِ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ وَهُمَا مَعِي، فَذَهَبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟" فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، فَقَالَ:" خُذْهُ"، وَأَمَرَ صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَأَخَذَ الْآخَرَ، وَخَلَّى سَبِيلِي. وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ - إِنْ ثَبَتَتْ - كَانَتْ دَالَّةً مَعَ غَيْرِهَا عَلَى جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ مَالِ الْغَيْرِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ، ثُمَّ وُجُوبِ الْبَدَلِ فَمُسْتَفَادٌ مِنَ الدَّلَائِلِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدِ اسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حِينَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَ مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ حَتَّى أَتَى بِهَا، وَأَخَذُوا مِنْ مَائِهَا، وَالْمَزَادَتَانِ كَمَا هُمَا، لَمْ تَزْدَادَا إِلَّا امْتِلَاءً، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا مِنْ زِادِهِمْ حَتَّى مَلَأَ لَهَا ثَوْبَهَا.
سیدنا ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقاؤں کے ساتھ آیا اور ہم ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو انہوں نے مجھے پیچھے کر دیا اور وہ مدینہ میں داخل ہو گئے اور مجھے سخت بھوک لگ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے مدینہ کے باشندے گزرے تو کہنے لگے: ”اگر آپ مدینہ میں داخل ہوں اور وہاں کے باغوں کے پھل کھا لیں۔“ میں مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوا اور دو خوشے توڑ لیے۔ باغ والا آ گیا اور دونوں خوشے میرے پاس ہی تھے۔ وہ پکڑ کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں پوچھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان دو خوشوں میں سے کون سا اچھا ہے؟“ تو میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو۔“ اور باغ والے سے فرمایا: ”تم دوسرا خوشہ لے لو۔“ اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19665]
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19665]
3905. -- باب:: صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده
-- باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ، فَجَعَلَ يَصْرِفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ"، وَذَكَرَ أَصْنَافَ الْأَمْوَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ عِنْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک آدمی اونٹ پر سوار آیا وہ دائیں بائیں گھوم رہا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو، وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی اقسام ذکر کیں تو ہم نے خیال کیا کہ زائد مال میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19666]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٢٨»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19667
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھوکوں کو کھلایا کرو، بیمار کی تیمار داری کرو اور گردنوں کو آزاد کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٧٣٥٣»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19668
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُسَاوِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يُبَخِّلُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ، وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ.
عبداللہ بن مساور فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو بخل کی جانب منسوب کر رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”وہ شخص مومن نہیں جو بذات خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19668]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون قصه تبخيل ابن زبير»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19669
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شُعْبَةُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَافَرَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْمَلُوا، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، أَوِ الشِّرَى، فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ، فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ مِنْ ذَلِكَ، فَهَمَّ بِهِمْ عُمَرُ ⦗٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ:" تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يُخْلِفُ اللهُ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ؛ ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ"، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کے لوگوں نے سفر کیا، وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے تو ان سے مہمان نوازی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان کو پکڑ کر تکلیف بھی دی۔ دیہاتی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انصاری ڈر گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تکلیف دینے کا قصد کیا اور فرمایا: تم مسافروں سے اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں کا وہ دودھ روکتے ہو جو اللہ رات اور دن پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ مسافر اس پانی کا وہاں رہنے والے سے زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19669]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ وَاقِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ:" ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ وَالظِّلِّ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر آدمی پانی کا اور سائے کا وہاں رہنے والے سے زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19670]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19671
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ آدَمَ -، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَهْلَ مَاءٍ، فَاسْتَسْقَاهُمْ، فَلَمْ يَسْقُوهُ حَتَّى مَاتَ عَطَشًا، فَأَغْرَمَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِيَتَهُ"..
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی چشمہ والوں کے پاس آیا، اس نے ان سے پانی طلب کیا، لیکن انہوں نے اسے پانی نہ دیا بلکہ وہ پیاسا ہی مر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر چٹی کے طور پر دیت ڈال دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19671]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف