🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3910. -- باب: ما يحل من الجبن، وما لا يحل
-- باب: پنیر میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19692
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ - هُوَ - ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كُلُوا الْجُبْنَ مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ".
قیس بن سکن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان اور اہل کتاب کا بنا ہوا پنیر کھاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19692]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ، فَقَالَ:" كُلْ مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ"، وَرُوِّينَا مِثْلَ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَهَذَا لِأَنَّ السِّخَالَ تُذْبَحُ، فَتُؤْخَذُ مِنْهَا الْإِنْفَحَةُ الَّتِي بِهَا يَصْلُحُ الْجُبْنُ، فَإِذَا كَانَتْ مِنْ ذَبَائِحِ الْمَجُوسِ، وَأَهْلِ الْأَوْثَانِ لَمْ يَحِلَّ، وَهَكَذَا إِذَا مَاتَتِ السَّخْلَةُ فَأُخِذَتْ مِنْهَا الْإِنْفَحَةُ لَمْ تَحِلَّ.
علی بارقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے پنیر کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”جو مسلمان اور اہل کتاب بنائیں کھا لیا کرو۔“ اس طرح کی روایت سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
نوٹ: بکری کا چھوٹا بچہ جو ابھی دودھ پیتا ہو اس کو ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے کوئی چیز نکالنا پھر کپڑے میں لت پت کرنے کے بعد وہ پنیر کی طرح ہو جاتی ہے جس کو لوگ پنیر کی طرح کھاتے ہیں۔ اگر یہ ذبح شدہ مجوس اور بت پرستوں کا ہو تو کھانا جائز نہیں۔ اگر بکری کا بچہ مر جائے تو تب بھی اس سے پنیر کی مانند کوئی چیز بنانا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19693]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19694
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ، فَقَالَ:" سَمِّ وَكُلْ"، فَقِيلَ: إِنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَقَالَ:" إِنْ عَلِمْتَ أَنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَلَا تَأْكُلْهُ". وَقَدْ كَانَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَا يَسْأَلُ عَنْهُ تَغْلِيبًا لِلطَّهَارَةِ، رُوِّينَا ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، وَبَعْضُهُمْ يَسْأَلُ عَنْهُ احْتِيَاطًا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" لَأَنْ أَخِرَّ مِنْ هَذَا الْقَصْرِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ جُبْنًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ" وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنِ الْجُبْنِ، وَلَا يَسْأَلُونَ عَنِ السَّمْنِ".
جبلہ بن سحیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پنیر اور گھی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ کہا گیا: اگر وہ مردہ ہو؟ تو فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ مردار سے بنایا گیا ہے تب نہ کھاؤ۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم طہارت کو ترجیح دیتے ہوئے سوال نہیں فرماتے تھے، یہ بات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ سے منقول ہے، اور بعض حضرات احتیاط کی وجہ سے سوال کر لیتے تھے۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس محل سے گر پڑوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسا پنیر کھاؤں جس کے بارے میں سوال نہ کروں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم پنیر کے متعلق سوال کر لیتے تھے لیکن گھی کے متعلق سوال نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19694]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19695
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ - هُوَ - الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا نَأْكُلُ الْجُبْنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعْدَ ذَلِكَ لَا نَسْأَلُ عَنْهُ، وَكَانَ أَنَسٌ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مَا صَنَعُ الْمُسْلِمُونَ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ" ⦗١٢⦘ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ مَتْرُوكٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپ کے بعد بھی پنیر کھاتے تھے، لیکن اس کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ صرف وہ پنیر کھاتے تھے جو مسلمان اور اہل کتاب بناتے تھے۔
ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19695]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ أَوْ قَالَ غَيْرِي مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ، آكُلُهَا؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ فَفَرَّخْتُهَا، فَأَخْرَجَتْ فَرْخًا، آكُلُهُ؟"، قَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟"، قَالَ: قُلْتُ:" مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ".
کثیر بن جمعان فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبدالرحمن، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا (یا میرے علاوہ کسی اور نے کہا): میرا گزر ایک مردہ مرغی کے پاس سے ہوا، میں نے اس کو روندا تو انڈا باہر آگیا، کیا یہ انڈا میں کھا لوں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! اگر میں مردہ مرغی کے پاس سے گزروں اور اس پر وزن ڈالوں اور اس سے انڈا نکل آئے اور اس انڈے سے چوزہ نکل آئے تو کیا پھر میں اسے کھا لوں؟ فرمایا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19696]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3911. -- باب: ما جاء في الكبد والطحال
-- باب: کلیجی اور تلی کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19697
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ، فَالْجَرَادُ وَالْحِيتَانُ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالطِّحَالُ وَالْكَبِدُ" كَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَخَوَاهُ، عَنْ أَبِيهِمْ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ الصَّحِيحُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو خون اور دو مردار حلال ہیں، دو خون سے مراد جگر اور تلی ہے اور دو مردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہے۔“
عبدالرحمن اور ان کے دونوں بھائیوں نے اپنے والد سے اسی طرح (مرفوع) روایت کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19697]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم برقم ١١٩٦»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19698
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبَغْدَادِيِّ الْهَرَوِيُّ، بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنِّي لِآكُلُ الطِّحَالَ، وَمَا بِي إِلَيْهِ حَاجَةٌ، إِلَّا لِيَعْلَمَ أَهْلِي أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تلی کھا لیتا تھا حالانکہ مجھے ضرورت نہ ہوتی، صرف اس لیے کہ میرے گھر والے جان لیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19698]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19699
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاذٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" آكُلُ الطِّحَالَ؟"، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: إِنَّ عَامَّتَهَا دَمٌ، قَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ الدَّمُ الْمَسْفُوحُ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: کیا میں تلی کھا لوں؟ فرمایا: ہاں۔ وہ کہنے لگا: اس میں اکثر خون ہوتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ صرف بہنے والا خون حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19699]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3912. -- باب: ما يكره من الشاة إذا ذبحت
-- باب: ذبح شدہ بکری کے کن حصوں کو کھانا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ، حَدَّثَهُمْ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي جَمِيلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ وَالْمَرَارَ وَالذَّكَرَ وَالْأُنْثَيَيْنِ وَالْحَيَا وَالْغُدَّةَ وَالْمَثَانَةَ"، قَالَ:" وَكَانَ أَعْجَبَ الشَّاةِ إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدِّمُهَا"، ⦗١٣⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذبح شدہ بکری سے سات چیزیں ناپسند فرماتے تھے: ”خون، پتّہ، نر کی شرمگاہ، خصیتین، مادہ کی شرمگاہ، غدود اور مثانہ“، اور بکری کے آگے والا حصہ (یعنی گوشت) آپ کو پسند تھا۔
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19700]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19701
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي جَمِيلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَكْلَ سَبْعٍ مِنَ الشَّاةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا وَقَّارُ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ الْوَزَّانُ، ثنا فِهْرُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى،، فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا، وَلَا يَصِحُّ وَصْلُهُ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ:" الدَّمُ حَرَامٌ بِالْإجْمَاعِ، وَعَامَّةُ الْمَذْكُورَاتِ مَعَهُ مَكْرُوهَةٌ، غَيْرُ مُحَرَّمَةٍ".
مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”سات چیزیں بکری سے ناپسند فرماتے تھے“، اس طرح انہوں نے حدیث ذکر کی ہے۔
ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خون تو بالاجماع حرام ہے، لیکن باقی اشیاء مکروہ ہیں۔
عمر بن موسیٰ بن وجیہ، جس نے اسے موصول بیان کیا ہے، ضعیف ہے اور اس کا موصول ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19701]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں