🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3921. -- باب: ما جاء في المسابقة بالعدو
-- باب: دوڑ کا مقابلہ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسُوقُ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسَابِقٍ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يَقُولُ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ، قُلْتُ لَهُ:" أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا، وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟"، قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، ائْذَنْ لِي، فَلْأُسَابِقِ الرَّجُلَ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ"، قَالَ: فَطَفَرْتُ، ثُمَّ عَدَوْتُ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، ثُمَّ إِنِّي تَرَفَّعْتُ حِينَ لَحِقْتُهُ فَأَصْطَكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: سُبِقْتَ وَاللهِ، قَالَ: إِنْ أَظُنُّ، قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ⦗٣١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی عضباء کے پیچھے بٹھا لیا، میں مدینہ کی طرف آرہا تھا اور ہم چل رہے تھے، انصار کا ایک آدمی جو بہت تیز دوڑتا تھا وہ کہہ رہا تھا: کوئی مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے گا؟ ہے کوئی مقابلہ کرنے والا؟ بار بار یہ کہہ رہا تھا، جب میں نے اس کی بات سنی تو کہا: کیا تو معزز کی عزت نہیں کرتا اور تو شریف سے نہیں ڈرتا؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ فدا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو کرلو۔“ کہتے ہیں: میں کودا، پھر میں ایک یا دو گھاٹیوں تک دوڑا پھر میں نے پیچھے سے مل کر اپنی برتری ظاہر کی اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہار گئے، اس نے کہا: میرا بھی یہی گمان ہے۔ کہتے ہیں: پھر میں مدینہ تک اس سے آگے نکل گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19757]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»

الحكم على الحديث: متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالِ أُسَابِقْكِ"، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ، خَرَجْتُ أَيْضًا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" تَقَدَّمُوا"، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالِ أُسَابِقْكِ"، وَنَسِيتُ الَّذِي كَانَ، وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْمَ"، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ أُسَابِقُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقَالَ:" لَتَفْعَلِنَّ" فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقَنِي"، فَقَالَ:" هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور چھوٹی عمر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو، آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ میں مقابلہ کریں“ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ میں سبقت لے گئی، یعنی جیت گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ میں تیرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتا ہوں۔“ لیکن میں پہلی والی دوڑ بھول چکی تھی اور میرا جسم بھاری ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس حالت میں دوڑ میں مقابلہ بازی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور ایسا کرو گی۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ میں مقابلہ بازی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس دوڑ کے مقابلے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19758]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19759
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ، فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ، سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَقَالَ:" هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ". وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
ابوسلمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں جیت گئی۔ جب میرا جسم بھاری ہو گیا، پھر دوڑ میں مقابلہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہلی دوڑ کے عوض میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3922. -- باب: ما جاء في المصارعة
-- باب: کشتی کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ، فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ، قَالَ:" وَعُرِضْتُ عَامًا، فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ، لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، ⦗٣٢⦘ قَالَ:" فَصَارِعْهُ"، فَصَارَعْتُهُ، فَصَرَعْتُهُ، فَأَلْحَقَنِي..
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر سال انصار کے بچے پیش کیے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے اسے اپنے ساتھ ملا لیتے جو بالغ ہو چکا ہوتا۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک سال پیش کیا گیا۔ ایک بچے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا، اگر میں اس کے ساتھ کشتی میں مقابلہ کروں تو میں اس کو گرا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشتی کرو۔“ میں نے اس سے کشتی کی تو میں نے اس کو گرا دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 9/17810»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19761
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِ يَزِيدُ بْنُ رُكَانَةَ، أَوْ رُكَانَةُ بْنُ يَزِيدَ وَمَعَهُ أَعْنُزٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ أَنْ تُصَارِعَنِي؟ فَقَالَ:" مَا تَسْبِقُنِي"، قَالَ: شَاةٌ مِنْ غَنَمِي، فَصَارَعَهُ، فَصَرَعَهُ، فَأَخَذَ شَاةً، قَالَ رُكَانَةُ: هَلْ لَكَ فِي الْعَوْدِ؟ قَالَ:" مَا تَسْبِقُنِي"؟ قَالَ: أُخْرَى، ذَكَرَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا وَضَعَ أَحَدٌ جَنْبِي إِلَى الْأَرْضِ، وَمَا أَنْتَ الَّذِي تَصْرَعُنِي، يَعْنِي: فَأَسْلَمَ، وَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمَهُ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء نامی جگہ پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید آیا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ میرے ساتھ کشتی کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہار گئے تو کیا دو گے؟“ کہنے لگا: ”ایک بکری۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی کی تو اس کو گرا دیا اور ایک بکری لے لی۔ رکانہ کہتا ہے: ”دوبارہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہار گئے تو کیا دو گے؟“ کہتا ہے: ”دوسری بکری۔“ کئی مرتبہ ایسے ہوا۔ کہنے لگا: ”اے محمد! میری کمر کسی نے زمین پر نہیں لگائی، یعنی گرا نہیں، لیکن آپ نے تو مجھے گرا دیا۔“ وہ مسلمان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بکریاں واپس کر دیں۔
یہ مرسل جید ہے، اور یہ ایک دوسری سند سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے، مگر وہ سند ضعیف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19761]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3923. -- باب: ما جاء في اللعب بالحمام
-- باب: کبوتر بازی (کبوتروں سے کھیلنے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19762
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ:" شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً"، خَالَفَهُ شَرِيكٌ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ، فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَى عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: كَرِهَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ التَّرَاهُنَ بِالْحَمَامَتَيْنِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے لگا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» ”شیطانہ کا پیچھا شیطان کر رہا ہے۔“
(ب) حصین بن مصعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کبوتروں کی شرط کو ناپسند خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3924. -- باب: ما جاء في الوالي يسبق بين الخيل من غاية إلى غاية
-- باب: حاکم کے گھوڑوں کے درمیان ایک حد سے دوسری حد تک دوڑ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ، ⦗٣٣⦘ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ سَابَقَ بِهَا"، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ قَتَادَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ فِي الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ لَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَهُ،.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا، حفیاء سے لے کر ثنیۃ الوداع تک اور وہ گھوڑے جو تضمیر شدہ نہ تھے ان کی دوڑ کی مسافت ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق تک تھی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس دوڑ میں شریک ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ بِتَمَامِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ.
لیث بن سعد رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19765
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" أَجْرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ضُمِّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَجْرَى مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کی مسافت حفیاء سے لے کر ثنیۃ الوداع تک مقرر کی اور غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کی مسافت ثنیہ سے لے کر مسجد بنو زریق تک مقرر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمَّرَ الْخَيْلَ، وَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَمَا كَانَ مِنْهَا غَيْرَ مُضَمَّرٍ أَرْسَلَهُ مِنْ ثَنِيَّةَ كَذَا، إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کی دوڑ حفیاء سے شروع کی، جبکہ غیر تضمیر شدہ گھوڑوں کی دوڑ کی ابتدا ثنیہ سے لے کر مسجد بنو زریق تک تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں