🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3926. -- باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز
-- باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ:" قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنُنِي؟ قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَهُ، قَالَ:" فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ".
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کون مجھ سے شرط لگائے گا؟ ایک جوان نے کہا: میں، اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ جوان ان سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی دونوں چوٹیوں کو اچھلتے ہوئے دیکھا اور وہ اس کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19776]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ، وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُ فِي سَبِيلِ اللهِ، رَوَثُهُ وَبَوْلُهُ ⦗٣٧⦘ فِي مِيزَانِهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُرَاهِنُ عَلَيْهِ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ، فَالَّذِي يَرْتَبِطُهَا يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا مَخَافَةَ الْفَقْرِ". وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ، فَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنْ يُخْرِجَا سَبَقَيْنِ مِنْ عِنْدِهِمَا، وَلَمْ يُدْخِلَا بَيْنَهُمَا مُحَلِّلًا، فَيَكُونُ قِمَارًا، فَلَا يَجُوزُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہیں: ”ایک رحمن کے لیے، ایک شیطان کے لیے اور ایک انسان کے لیے۔ وہ گھوڑا جو رحمن کے لیے ہے جسے انسان اللہ کے راستے میں باندھتا ہے، اس کا پیشاب اور لید میزان میں رکھا جائے گا۔ وہ گھوڑا جو شیطان کا ہے جس پر شرط لگائی جائے۔ انسان کا گھوڑا وہ ہے جس کے ذریعے وہ فقیری کے ڈر سے اپنی روزی تلاش کرتا ہے۔“ اگر یہ ثابت ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کی مراد یہ ہے کہ اگر دو شرط لگاتے ہیں اور تیسرے کو درمیان میں شامل نہیں کرتے تو تب جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3927. -- باب: لا جلب ولا جنب في الرهان
-- باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”شرط کے مقابلوں میں جلب (پیچھے سے شور مچانا) اور جنب (ساتھ دوسرا گھوڑا دوڑانا) جائز نہیں“۔
«جَنَب»: ”کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: Q19778]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19778
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنَ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا عَنْبَسَةُ جَمِيعًا، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ فِي الرِّهَانِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، وَفِي رِوَايَةِ حُمَيْدٍ،" لَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑ دوڑ میں «الْجَلَبُ» (کسی شخص کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنا تاکہ اسے تیز دوڑنے پر ابھارتا رہے) اور «الْجَنَبُ» (کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہو جائے) کی اجازت شرط میں نہیں ہے۔“
(ب) حمید کی روایت میں ہے کہ ” «الْجَلَبُ» اور «الْجَنَبُ» اور «الشِّغَارُ» (یعنی وٹہ سٹہ کی شادی) اسلام میں جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19778]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون قوله الرهان»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ:" الْجَلَبُ وَالْجَنَبُ فِي الرِّهَانِ".
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھوڑ دوڑ کی شرط میں «الْجَلَبُ» (یعنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے کسی کو پیچھے رکھنا) اور «الْجَنَبُ» (یعنی کسی کو گھوڑے سمیت اپنے ساتھ رکھنا پہلے کے تھک جانے کی صورت میں اس پر سواری کی جا سکے) جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19779]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19780
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: مَا تَفْسِيرُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" أَمَّا الْجَلَبُ، فَأَنْ يَتَخَلَّفَ الْفَرَسُ فِي السِّبَاقِ، فَيُحَرَّكَ وَرَاءَهُ الشَّيْءُ يُسْتَحَثُّ بِهِ، فيَسَبِقُ، فَهَذَا الْجَلَبُ، وَأَمَّا الْجَنَبُ، فَإِنَّهُ يُجْنَبُ مَعَ الْفَرَسِ الَّذِي يُسَابِقُ بِهِ فَرَسٌ آخَرُ، حَتَّى إِذَا دَنَى تَحَوَّلَ رَاكِبُهُ عَلَى الْفَرَسِ الْمَجْنُوبِ فَأَخَذَ السَّبْقَ".
ابن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے اس کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: «الْجَلَبُ» ”جلب“ یہ ہے کہ دوڑ میں گھوڑا پیچھے رہ جائے تو اس کے پیچھے کوئی چیز ہلائی جائے جس سے اسے تیز کیا جائے اور وہ آگے نکل جائے، اور «الْجَنَبُ» ”جنب“ یہ ہے کہ دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ ایک دوسرا گھوڑا پہلو میں رکھا جائے، جب منزل قریب ہو تو اس کا سوار اس دوسرے گھوڑے پر منتقل ہو کر انعام لے لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19780]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19781
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صُدْرَانَ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَائِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَوْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - شَكَّ ابْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَا عَلِيُّ قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ السَّبْقَةَ بَيْنَ النَّاسِ"، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ إِلَيْكَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُنُقِي مِنْ هَذِهِ السَّبْقَةِ فِي عُنُقِكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ الْمِيطَارَ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالْمِيطَارُ مَرْسَلُهَا مِنَ الْغَايَةِ - فَصُفَّ الْخَيْلَ، ثُمَّ نَادِ: هَلْ مُصْلٍ لِلِجَامِ أَوْ حَامِلٍ لِغُلَامٍ، أَوْ ⦗٣٨⦘ طَارِحٍ لِجِلٍّ، فَإِذَا لَمْ يُجِبْكَ أَحَدٌ، فَكَبِّرْ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَلِّهَا عِنْدَ الثَّالِثَةِ، يُسْعِدِ اللهُ بِسَبَقِهِ مَنْ شَاءُ مِنْ خَلْقِهِ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَهَى الْغَايَةِ، وَيَخُطُّ خَطًّا، يُقِيمُ رَجُلَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ، طَرَفُهُ بَيْنَ إِبْهَامِ أَرْجُلِهِمَا، وَتَمُرُّ الْخَيْلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، وَيَقُولُ لَهُمَا: إِذَا أَخْرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَيْنِ عَلَى صَاحِبِهِ بِطَرَفِ أُذُنَيْهِ، أَوْ أُذُنٍ، أَوْ عِذَارٍ، فَاجْعَلُوا السَّبْقَةَ لَهُ، فَإِنْ شَكَكْتُمَا، فَاجْعَلُوا سَبْقَهُمَا نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَرَنْتُمُ الشَّيْئَيْنِ، فَاجْعَلُوا الْغَايَةَ مِنْ غَايَةِ أَصْغَرِ الشَّيْئَيْنِ، وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ"، هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
سیدنا حسن یا خلاس، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں (یہ ابن میمون کو شک ہے) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! میں نے لوگوں کے درمیان اس دوڑ کا انتظام تمہارے سپرد کیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور سراقہ بن مالک کو بلایا اور فرمایا: ”اے سراقہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کے ذمہ وہ ذمہ داری لگاتا ہوں جو میری ذمہ داری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ کے بارے میں لگائی تھی؛ جب آپ میطار (یعنی دوڑ کے نقطۂ آغاز) پر پہنچیں تو گھوڑوں کی صفیں بنائیں، پھر آواز دیں: کیا کوئی لگام درست کرنے والا ہے، یا کسی لڑکے کو سوار کرنے والا ہے، یا جھول اتارنے والا ہے؟ جب کوئی ایک بھی جواب نہ دے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہنا، پھر تیسری مرتبہ ان کا راستہ چھوڑ دینا، پھر اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے اس دوڑ کی جیت سے خوش نصیب بنائے۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسافت کی انتہا پر تشریف رکھتے اور ایک لکیر کھینچ لیتے۔ لکیر کے کنارے پر دو آدمی آمنے سامنے کھڑے کر دیتے، لکیر کا سرا ان کے پاؤں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتا اور گھوڑے دونوں آدمیوں کے درمیان سے گزرتے۔ آپ رضی اللہ عنہ دونوں اشخاص سے فرماتے: ”جب ایک گھوڑا دوسرے سے اپنے دونوں کانوں کے کنارے یا ایک کان یا رخسار کے پٹے کے برابر آگے نکل جائے تو دوڑ کی جیت اسی کی ہے۔ اگر تم کو شک پڑ جائے تو انعام دونوں میں آدھا آدھا کر دو۔ جب تم دو چیزوں کو ملا کر دوڑاؤ تو ان دونوں میں سے چھوٹی کی حد کو حد مقرر کرو، اور دوڑ میں «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”جلب اور جنب نہیں ہوتا“ اور اسلام میں «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» ”وٹہ سٹہ (شغار) نہیں ہوتا۔““
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19781]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3928. -- باب: النهي عن التحريش بين البهائم
-- باب: جانوروں کو آپس میں لڑانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19782
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَاهُ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ مَا:.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”چوپاؤں کے درمیان لڑائی کروائی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19782]
تخریج الحدیث: «منكر۔ العلل الترمذي 511»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ"، وَهَذَا مُرْسَلٌ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چوپاؤں کے درمیان لڑائی کرانے سے منع فرمایا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19783]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3929. -- باب: كراهية إنزاء الحمر على الخيل
-- باب: گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے چھوڑنے (خچر پیدا کرنے) کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19784
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَرَكِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ حَمَلْنَا الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ، فَكَانَ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ هَكَذَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنِ اللَّيْثِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ هِشَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ كَمَا.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سواری فرمائی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگر ہم گدھے کو گھوڑی سے جفتی کروائیں تو ہمارے لیے بھی ایسا حاصل ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19784]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں