🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3957. -- باب: الإطعام في كفارة اليمين
-- باب: قسم کے کفارے میں کھانا کھلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19976
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ إِذَا أَعْطَوا فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ أَعْطَوا مُدًّا مِنَ الْحِنْطَةِ بِالْمُدِّ الْأَصْغَرِ، وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُمْ".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا کہ وہ کفارۂ قسم میں گندم کا چھوٹا «مُدّ» دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ کفایت کر جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19976]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19977
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغَطْرِيفِ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا قَالَا: فِي الْكَفَّارَةِ:" مُدُّ حِنْطَةٍ أوْ مُدُّ شَعِيرٍ".
حضرت حسن رحمہ اللہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا خیال تھا کہ کفارہ قسم میں ایک مد گندم یا ایک مد جو کفایت کر جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19977]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19978
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنِّي أَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَ أَقْوَامًا، ثُمَّ يَبْدُوَ لِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتَنِي قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَطْعِمْ عَنِّي عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ". فَهَذَا شَيْءٌ كَانَ يَرَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَعَلَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَزِيدَ، وَيُجْزِئُ أَقَلُّ مِنْهُ، بِدَلِيلِ مَا ذَكَرْنَا.
یسار بن نمیر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قسم اٹھاتا ہوں کہ لوگوں کو کچھ نہ دوں گا، لیکن بعد میں دے دیتا ہوں۔ جب آپ یہ صورتِ حال دیکھیں کہ میں نے ایسا کیا ہے تو میری جانب سے دس مسکینوں کو کھانا کھلا دیا کرو، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور کا دے دیا کرو۔
یہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا۔ ممکن ہے کہ زیادہ کو مستحب خیال کرتے ہوں یا اس سے کم بھی کفایت کر جاتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19978]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3958. -- باب: من حلف في الشيء لا يفعله مرارا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک ہی کام نہ کرنے پر بار بار قسم کھائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19979
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامٌ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي هِلَالٌ الْوَزَّانُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، احْمِلْنِي" فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ"، فَقَالَ: وَاللهِ لَتَحْمِلَنِّي"، قَالَ:" وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ"، قَالَ:" وَاللهِ لَتَحْمِلَنِّي، إِنِّي ابْنُ سَبِيلٍ قَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي"، فَقَالَ:" وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ"، حَتَّى حَلَفَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ يَمِينًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ:" مَا لَكَ وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ"، قَالَ:" وَاللهِ لِيَحْمِلَنِّي، إِنِّي ابْنُ سَبِيلٍ، قَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:" وَاللهِ لَأَحْمِلَنَّكَ، ثُمَّ وَاللهِ لَأَحْمِلَنَّكَ"، قَالَ: فَحَمَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:" هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، الْكَفَّارَةُ وَاحِدَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ:" لَيْسَ ذَلِكَ بِبَيِّنٍ فِي الْحَدِيثِ" وَيُذْكَرُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَقْسَمَ مِرَارًا، فَكَفَّرَ كَفَّارَةً وَاحِدَةً" وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي تَوْكِيدِ الْيَمِينِ، وَهُوَ تَكْرِيرُهَا فِي الشَّيْءِ الْوَاحِدِ، مَذْهَبٌ آخَرُ.
ہلال وزان کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی یعلیٰ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! مجھے سواری دیں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ اس نے کہا: ضرور آپ مجھے سواری دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سواری نہ دوں گا۔ اس نے دوبارہ کہا: آپ ضرور مجھے سواری دیں گے، میں مسافر ہوں، میری سواری تھک چکی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تجھے سواری نہ دوں گا اللہ کی قسم! یہاں تک کہ انہوں نے بیس کے قریب قسم کھا لیں۔
اس سے ایک انصاری آدمی نے کہا: تجھے کیا ہے امیر المومنین سے؟ وہ کہنے لگا: میں مسافر ہوں، میری سواری عاجز آچکی، ان کو چاہیے کہ وہ مجھے سواری دیں، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔
راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھے ضرور سواری دوں گا، پھر اللہ کی قسم! میں تجھے ضرور سواری دوں گا۔ پھر انہوں نے سواری دے دی۔ پھر فرمایا: ”جو کسی کام پر قسم کھالے اور دوسرا اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کرلے۔“ علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، کفارہ ایک ہی ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں اس میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح کی قسم میں کفارہ ایک دفعہ ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19979]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بَنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ، فَوَكَّدَهَا، ثُمَّ حَنِثَ، فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ، أَوْ كِسْوَةُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، وَمَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ، فَلَمْ يُؤَكِّدْهَا، فَعَلَيْهِ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنَطَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَرِوَايَةُ الشَّافِعِيِّ مُخْتَصَرَةٌ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَوَكَّدَهَا، فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ". قَالَ الشَّيْخُ: ظَاهِرُ الْكِتَابِ، ثُمَّ ظَاهِرُ السُّنَّةِ، ثُمَّ مَا رَوَيْنَا فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا - لَا يُفَرِّقُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ بَيْنَ تَوْكِيدِ الْيَمِينِ، وَغَيْرِ تَوْكِيدِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو پختہ قسم اٹھائے پھر توڑ ڈالے تو اس پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے اور جس نے پختہ قسم نہ اٹھائی اس پر دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے، ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے، جو نہ پائے اس پر تین دن کے روزے ہیں۔
(ب) ابن بکیر کی حدیث میں ہے کہ پختہ قسم پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے۔
(ج) پختہ اور عام قسم کے کفارے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
(28) «بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْكِسْوَةِ فِي الْكَفَّارَةِ وَهُوَ كُلُّ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ كِسْوَةٍ مِنْ عِمَامَةٍ أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ إِزَارٍ أَوْ مِقْنَعَةٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ» ”باب: کفارے میں کتنا لباس کافی ہے؟ اور وہ ہر وہ چیز ہے جس پر لباس کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، پاجامہ، تہبند یا اوڑھنی وغیرہ۔“
ہر وہ چیز جس پر پہنانے کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، شلوار، ازار یا معمولی چیز کا کفارہ میں دینا جائز ہے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ [سورة المائدة: 89] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19980]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19981
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَكَفَّرَ، وَأَمَرَ بِالْمَسَاكِينِ، فَأُدْخِلُوا بَيْتَ الْمَالِ، فَأَمَرَ بِجَفْنَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقُدِّمَتْ إِلَيْهِمْ، فَأَكَلُوا، ثُمَّ كَسَا كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ ثَوْبًا، إِمَّا مُعَقَّدًا وَإِمَّا ظَهْرَانِيًا" قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ الْكَفَّارَةَ بِمَا أَعْطَاهُمْ مِنَ الثَّرِيدِ مُجْزِيَةً، فَأَعْطَى كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَوْبًا، وَرُوِيَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَلَفَ، فَأَعْطَى عَشَرَةَ مَسَاكِينَ عَشَرَةَ أَثْوَابٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبًا مِنْ مُعَقَّدِ هَجَرَ.
محمد بن سیرین سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھلائی کے کام پر قسم اٹھائی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور مسکینوں کو بیت المال میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ثرید کا پیالہ لانے کا حکم فرمایا، جو ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس سے کھایا۔ پھر ہر انسان کو پہنایا یا تو اوپر پہننے والا کپڑا یا ازار عطا فرمائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے ثرید کو کفارہ میں کافی نہیں سمجھا بلکہ ہر ایک کو کپڑے بھی پہنائے۔
زہدم اجرمی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کپڑے عطا کیے، ہر مسکین کو معقدِ ہجر کا بنا ہوا ایک ایک کپڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19981]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3959. -- باب: ما يجزئ من الكسوة في الكفارة وهو كل ما وقع عليه اسم كسوة، من عمامة، أو سراويل، أو إزار، أو مقنعة، وغير ذلك
-- باب: کفارے میں کپڑا پہنانے کے حوالے سے کیا چیز کفایت کرتی ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو، خواہ وہ پگڑی ہو، شلوار ہو، تہہ بند ہو، اوڑھنی ہو، یا ان کے علاوہ کچھ اور ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ خُصَيْفٌ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ قَالُوا:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبٌ: قَمِيصٌ، أَوْ إِزَارٌ أَوْ رِدَاءٌ، فَقُلْتُ لِخُصَيفٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُوسِرًا؟ قَالَ: أِيَّ ذَا فَعَلَ فَحَسَنٌ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَذِهِ الْخِصَالَ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ:" مُتَتَابِعَةٍ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ:" مُدٌّ مُدٌّ وَالْكُسْوَةُ: ثَوْبٌ ثَوْبٌ".
عطاء، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: ہر مسکین کے لیے ایک قمیص یا تہبند یا چادر ہونی چاہیے۔ میں نے خصیف رحمہ اللہ سے کہا: اگر وہ خوشحال ہو تو پھر؟ فرمایا: جو بھی کرلے گا اس نے اچھا کیا۔ اگر کچھ بھی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ ابی رضی اللہ عنہ کی قراءت ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت جو عطاء رحمہ اللہ سے ہے کہ یہ کفارۂ قسم میں ہے؛ ایک ایک مد اور ایک ایک کپڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19983
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّ صَاحِبَنَا لَيْسَ بِالْمُوسِرِ، فَبِمَ يُكَفِّرُ؟" قَالَ:" لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، وَكَسَا كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ قَلَنْسُوَةً، لَقَالَ النَّاسُ: قَدْ كَسَاهُمْ". وَيُذْكَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ".
ابن زبیر حنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“ میں نے کہا: اے ابو نجید! ہمارا ساتھی خوشحال نہیں ہے، پھر وہ کس چیز سے کفارہ ادا کرے؟ فرمایا: ”اگر کچھ لوگ امراء میں سے کسی امیر کے پاس جائیں اور وہ ان میں سے ہر انسان کو ٹوپی پہنا دے تو لوگ کہیں گے: اس نے انہیں لباس پہنا دیا۔“ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جانگیہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3960. -- باب: ما يجوز في عتق الكفارات
-- باب: کفارات میں غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کیا جائز ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19984
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي، فَفَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ:" أَكَلَهَا الذِّئْبُ"، فَأَسِفْتُ وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا، وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ، أَأُعْتِقُهَا؟"، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللهُ؟"، فَقَالَتْ:" هُوَ فِي السَّمَاءِ"، فَقَالَ:" مَنْ أَنَا"؟ فَقَالَتْ:" أَنْتَ رَسُولُ اللهِ"، قَالَ:" أَعْتِقْهَا". كَذَا قَالَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ.
سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن ایک بکری گم ہوگئی۔ میں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: بھیڑیا کھا گیا۔ مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ میرے اوپر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: «أَيْنَ اللهُ؟» ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: «مَنْ أَنَا؟» ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَعْتِقْهَا» ”اس کو آزاد کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1311»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19985
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الطِّيَرَةِ، وَفِي الْعُطَاسِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ:"، ثُمَّ أَطَلَعْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْهَا شَاةً، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ:" بَلَى، ائْتِنِي بِهَا"، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ اللهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" فَمَنْ أَنَا"؟ قَالَتْ:" أَنْتَ رَسُولُ اللهِ"، قَالَ:" إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ دُونَ قِصَّةِ الْجَارِيَةِ.
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر چھینکنے کے متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جسے ایک لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا، میں بھی ابنِ آدم ہوں جیسے ان کو غصہ آتا ہے مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کر دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لاؤ۔“ کہتے ہیں: میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: آسمان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19985]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں