🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3979. -- باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20081
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي" فَأَمَرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِكَبْشٍ وَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے“، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔ فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“
اس روایت میں میں نے اسی طرح پایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20081]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20082
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَذْبَحَ نَفْسَهُ، قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ فَأَفْتَاهُ بِكَبْشٍ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عطاء رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی کہ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ تو انہوں نے ایک مینڈھے کا فتویٰ دیا۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عثمان بن عمر کی روایت غلط ہے، اور سفیان کے علاوہ دوسروں نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20082]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20083
أخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ح، وَأنبأ أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ أَخُو الشَّيْخِ أَبِي الْفَتْحِ الْحَافِظِ بِبَغْدَادَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ بِمِصْرَ ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَزَعَمَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ نَفْسِي"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} [الصافات: ١٠٧] ". وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِرَسُولِ اللهِ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى نَبِيِّنَا، ⦗١٢٦⦘ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ فَتْوَى أُخْرَى.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا: ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ [سورة الصافات: 107] ”کہ ہم نے عظیم بدلہ دیا۔“ یہ دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ سے مراد یہاں ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دوسرا فتویٰ بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ:" إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي"، قَالَ: وَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْجِهَادِ، وَمعهُ أَبَوَاهُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُشْتَغِلٌ يَقُولُ لَهُ:" أَقِمْ مَعَ أَبَوَيْكَ"، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ:" إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" مَا أَصْنَعُ بِكَ؟ اذْهَبْ فَانْحَرْ نَفْسَكَ"، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الرَّجُلِ وَأَبَوَيْهِ قَالَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَذَهَبُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ بَرَكَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، يُرِيدُ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ، فَجَاءُوا بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" وَيْحَكَ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحِلَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنْ تُحِلَّ بَلَدًا حَرَامًا، وَتَقْطَعَ رَحِمًا حَرَامًا - نَفْسَكَ أَقْرَبَ الْأَرْحَامِ إِلَيْكَ، وَأَنْ تَسْفِكَ دَمًا حَرَامًا، أَتَجِدُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ؟"، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَانْحَرْ فِي كُلِّ عَامٍ ثُلُثًا، لَا يَفْسَدُ اللَّحْمُ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَرِوَايَةُ ابْنِ نُمَيْرٍ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ كُرَيْبٌ:" فَشَهِدْتُهُ عَامَيْنِ، فَأَمَّا الثَّالِثُ، فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلَ"، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَبَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ:" لَوِ اعْتَلَّ عَلَيَّ، لَأَمَرْتُهُ بِكَبْشٍ،.
کریب رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت ایک آدمی تھا جو جہاد کے لیے جانا چاہتا تھا، اس کے والدین بھی موجود تھے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرما رہے تھے: والدین کے ساتھ رہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ (نذر ماننے والا) کہنے لگا: میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں کیا کروں؟ جاؤ اپنے آپ کو قتل کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آدمی اور اس کے والدین سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ وہ گئے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ وہ اس کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تو نے تین اشیاء کو حلال کرنے کی کوشش کی ہے: 1۔ حرمت والے شہر کی حرمت کو ختم کرنا، 2۔ قطع رحمی کرنا، یعنی تیرا اپنا نفس سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق رکھتا ہے، 3۔ اور حرام خون بہانا۔ کیا تیرے پاس سو اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: جاؤ ہر سال اونٹوں کا تہائی حصہ ذبح کرو لیکن گوشت خراب نہ کرنا۔
(ب) کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو سال تک میں حاضر ہوتا رہا، لیکن تیسرے سال میں حاضر نہ ہوا، مجھے معلوم نہیں اس نے (ایسا) کیا یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20084]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَمَرَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِكَبْشٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" اخْتِلَافُ فَتَاوِيهِ فِي ذَلِكَ، وَفِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ابْنَهُ، يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ اسْتِدْلَالًا وَنَظَرًا، لَا أَنَّهُ عَرَفَ فِيهِ تَوقِيفًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجھے خبر ملی کہ انہوں نے فرمایا: اگر وہ مجھ پر اصرار کرتا (اور عذر پیش کرتا) تو میں اس کو ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیتا۔
ایک دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے اس جیسے مسئلے میں ایک مینڈھے (کی قربانی) کا حکم دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر ماننے والے کے بارے میں ان کے فتووں کا مختلف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہ بات استدلال اور غور و فکر سے کہتے تھے، نہ یہ کہ انہیں اس بارے میں کوئی نص (توقیف) معلوم تھی، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20085]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20086
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي ⦗١٢٧⦘ رَجُلٌ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ أَخَاهُ، فَإِنْ كَلَّمَهُ فَهُوَ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بَيْنَ الْمَقَامِ وَالرُّكْنِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي، أَبْلِغْ مَنْ وَرَاءَكَ أَنَّهُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، لَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يَصُومَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ، كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَوْ نَذَرَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ فَصَلَّى، كَانَ خَيْرًا لَهُ، مُرْ صَاحِبَكَ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيُكَلِّمْ أَخَاهُ". هَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُنْقَطِعٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ فلاں آدمی نے اپنے بھائی سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی ہے کہ اگر اس نے کلام کر لی تو وہ ایامِ تشریق کے اندر مقامِ ابراہیم اور رکن کے درمیان اپنے آپ کو ذبح کرے گا۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! دوسروں کو بھی بتاؤ، ”نافرمانی کے اندر نذر نہیں ہوتی۔“ اگر کسی نے رمضان کے روزے نہ رکھنے کی قسم کھائی ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر نماز نہ پڑھنے کی قسم اٹھائی ہے تو نماز پڑھنا اس کے لیے بہتر ہے، اپنے ساتھی کو کہو کہ قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے کلام کرے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20086]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3980. -- باب: الوفاء بالنذر
-- باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20087
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي مَدْحِ قَوْمٍ {يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا} [الإنسان: 7] ، وَقَالَ فِي ذَمِّ آخَرِينَ {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ} [التوبة: 76] .
اللہ جل ثناؤہ نے ایک قوم کی مدح میں فرمایا: ﴿يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا﴾ ”وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔“ [سورة الإنسان: 7]
اور دوسرے لوگوں کی مذمت میں فرمایا: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴾ ”اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے، پھر جب اس نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور منہ پھیر گئے اور وہ اعراض کرنے والے ہیں، تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے نفاق ڈال دیا جس دن وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔“ [سورة التوبة: 75-77] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20087]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں