السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3975. -- باب: من جعل شيئا من ماله صدقة، أو في سبيل الله أو في رتاج الكعبة على معاني الأيمان
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے قسم کے معنوں میں اپنے مال میں سے کسی چیز کو صدقہ، یا اللہ کی راہ میں، یا کعبہ کے غلاف کے لیے مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 20043
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا غَالِبٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَتْ مَوْلَاتِي:" لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ:" إِنَّ مَوْلَاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي"، فَقَالَتْ:" انْطَلِقْ إِلَى مَوْلَاتِكَ، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكِ"، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ فَقَالَ:" هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ"، قَالَ:" فَمَا تَأْكُلِينَ"؟ قَالَتْ: وَقُلْتُ:" وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ"، فَقَالَ:" إِنْ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَمَجَّسْتِ قُتِلْتِ"، فَقَالَتْ:" فَمَا تَأْمُرُنِي؟"، قَالَ:" تُكَفِّرِي يَمِينَكِ، وَتَجْمَعِي بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ".
بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میری مالکہ نے کہا: میں تیرے اور تیری بیوی کے درمیان ضرور تفریق کرواؤں گی، اس کا تمام مال کعبہ کی تعمیر کے لیے ہے اور وہ یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہو اگر تیرے اور تیری بیوی کے درمیان جدائی نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے کہا: میری مالکہ ہمارے درمیان جدائی چاہتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جاؤ اس سے کہو، تیرے لیے یہ جائز نہیں ہے۔ میں واپس پلٹ کر آیا۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، وہ دروازے تک آئے اور فرمانے لگے: کیا یہاں «هَارُوتُ وَمَارُوتُ» ”ہاروت و ماروت“ ہیں؟ وہ مالکہ کہنے لگی: میں نے اپنا تمام مال کعبہ کی تعمیر میں لگا دیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: تم کیا کھاؤ گی؟ وہ کہتی ہے: میں یہودیہ یا عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی، انہوں نے فرمایا: اگر تو یہودیہ، عیسائیہ یا مجوسیہ ہوئی تو قتل کر دی جائے گی، تو وہ عورت کہنے لگی: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے غلام اور اس کی بیوی کو اکٹھا رہنے دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20043]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح تقدم
حدیث نمبر: 20044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ الْعَجْمَاءِ مَوْلَاتَهُ قَالَتْ:" هِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ مُحَرَّرٌ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا هَدْيٌ إِنْ لَمْ يُطَلِّقِ امْرَأَتَهُ، إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكُمَا"، فَأَتَى زَيْنَبَ فَانْطَلَقَتْ مَعَهُ، فَقَالَتْ:" هَهُنَا هَارُوتُ، وَمَارُوتُ"، قَالَتْ:" قَدْ عَلِمَ اللهُ مَا قُلْتُ:" كُلُّ مَالٍ لِي هَدْيٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي مُحَرَّرٌ، وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ"، قَالَتْ:" خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ"، قَالَ:" فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا كَمَا قَالَتْ زَيْنَبُ"، قَالَتْ:" خَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ"، فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَجَاءَ مَعِي، فَقَامَ بِالْبَابِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَتْ:" بِأَبِي أَنْتَ وَأَبُوكَ"، قَالَ:" أَمِنْ حِجَارَةٍ أَنْتِ؟ أَمْ مِنْ حَدِيدٍ؟ أَتَتْكِ زَيْنَبُ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْكِ حَفْصَةُ"، قَالَتْ:" قَدْ حَلَفْتُ بِكَذَا وَكَذَا"، قَالَ:" كَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، وَخَلِّي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ". قَالَ الشَّيْخُ:" وَهَذَا فِي غَيْرِ الْعِتْقِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهَ عَنْهُمَا مِنْ وَجْهٍ ⦗١١٤⦘ آخَرَ:" أَنَّ الْعِتَاقَ يَقَعُ"، وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَأَنَّ الرَّاوِيَ قَصَّرَ بِنَقْلِهِ فِي رِوَايَةِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهَا فِي الْوَقْتِ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَتَعَرَّضُوا لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
بکر بن عبداللہ مزنی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلیٰ بنت عجماء ان کی مالکہ تھی۔ کہنے لگی: یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے، اس کے تمام غلام آزاد ہیں اور اس کا تمام مال ہدی (قربانی) ہے، اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق نہ ہوئی۔ ابورافع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ ان کے ساتھ چلیں۔ کہتی ہیں: کیا یہاں ہاروت و ماروت ہیں؟ وہ کہنے لگی: اللہ جانتا ہے جو میں نے کہا کہ میرا تمام مال ہدی ہے اور تمام غلام آزاد ہیں اور یہ یہودیہ اور عیسائیہ ہے۔ (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: تم مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی طرح پیغام بھیجا کہ مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دو۔ پھر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ میرے ساتھ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جب انہوں نے سلام کہا تو وہ کہنے لگی: میرا باپ آپ پر اور آپ کے والد پر قربان! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تو پتھر سے بنی ہے یا لوہے سے؟ تیرے پاس سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے تیرے پاس پیغام بھیجا۔ کہتی ہے: میں نے فلاں فلاں قسم کھائی ہے۔ فرمانے لگے: اپنی قسم کا کفارہ دے اور مرد اور اس کی بیوی کا راستہ چھوڑ دے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ گویا راوی نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں اسے نقل کرنے میں کوتاہی کی، یا اس وقت اس کا کوئی غلام نہ تھا، اس لیے انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20044]
شیخ فرماتے ہیں: یہ گردن کی آزادی کے علاوہ ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے مروی ہے کہ آزادی بھی واقع ہو جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ گویا راوی نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں اسے نقل کرنے میں کوتاہی کی، یا اس وقت اس کا کوئی غلام نہ تھا، اس لیے انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20045
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ خَشْكُنَانَةُ الْبَلْخِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُوسَى الْخَنْبُ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَبِيبٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ، أَوْ مَالِهِ فِي الْمَسَاكِينِ، أَوْ فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ:" أَنَّهَا يَمِينٌ، يُكَفِّرُهَا إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ".
مجاہد حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”آدمی پیدل چل کر حج کرنے کی قسم اٹھاتا ہے یا یہ کہ اس کا مال مسکینوں میں صدقہ ہے یا کعبہ کی تعمیر میں ہے تو یہ قسم ہے، اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20045]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20046
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْمَشْيِ، فَحَنَثَ بِالْمَشْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ؟ فَأَفْتَاهُ بِكَفَّارَةِ يَمِينٍ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ:" بِهَذَا تَقُولُ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟"، فَقَالَ:" هَذَا قَوْلُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي"، قَالَ:" مَنْ هُوَ؟"، قَالَ:" عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ".
ربیع رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پیدل چل کر حج کرنے کے بارے میں پوچھا کہ وہ کعبہ کی طرف پیدل چلنے کی قسم میں حانث ہو گیا ہے، تو آپ نے اسے قسم کے کفارے کا فتویٰ دیا۔ تو وہ آدمی کہنے لگا: اے ابو عبد اللہ! کیا آپ یہ کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کی بات ہے جو مجھ سے بہتر تھے۔ اس نے پوچھا: وہ کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20046]
حدیث نمبر: 20047
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ، ثنا هَيْثَمٌ يَعْنِي: ابْنَ خَارِجَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ وَحَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُمَا قَالَا فِيمَنْ قَالَ:" هُوَ مُحْرِمٌ بِحَجَّةٍ"، فَحَنَثَ:" فِيهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ". قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِهَذَا الْقَوْلِ يُشْبِهُ أَنْ يَحْتَجَّ بِمَا.
منصور نے حسن رحمہ اللہ سے اور حجاج نے عطاء رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے کہا کہ وہ حج کا احرام باندھے گا، پھر حانث ہو گیا کہ اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20047]
حدیث نمبر: 20048
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". سَقَطَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَبُو الْخَيْرِ فَلَمْ يَذْكُرْهُ فِي إِسْنَادِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20048]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20049
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر وہ ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20049]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند احمد 6714۔ 6975»
الحكم على الحديث: ضعيف
3976. -- باب: الخلاف في النذر الذي يخرجه مخرج اليمين
-- باب: اس نذر کے بارے میں اختلاف کا بیان جسے قسم کے طور پر ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: Q20050
قَدْ مَضَى قَوْلُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي أَنَّهُ يَمِينٌ، يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَالَ غَيْرُهُ: يَتَصَدَّقُ بِجَمِيعِ مَا يَمْلِكُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيَحْبِسُ قَدْرَ مَا يَقُوتُهُ، فَإِذَا أَيْسَرَ، تَصَدَّقَ بِالَّذِي حَبَسَ"، وَذَهَبَ غَيْرُهُ إِلَى أَنْ يَتَصَدَّقَ بِثُلُثِ مَالِهِ، وَغَيْرُهُ إِلَى أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالزَّكَاةِ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْمَذْهَبُ الْأَوَّلُ، فَيُحْكَى عَنْ بَعْضِ الْعِرَاقيِّينَ، وَأَمَّا الثَّانِي فَهُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَهُ بِمَا:.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا قول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ان حضرات کا قول گزر چکا ہے جنہوں نے ان جیسی بات کہی ہے کہ یہ قسم ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ان کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے: وہ اپنی تمام ملکیت صدقہ کر دے گا، البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی مقدار روک لے جو اس کی گزر بسر کے لیے کافی ہو، پھر جب وہ خوشحال ہو جائے تو جو روکا تھا اسے بھی صدقہ کر دے۔
اور ایک اور (عالم) اس طرف گئے ہیں کہ وہ اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے گا، اور ایک اور اس طرف گئے ہیں کہ وہ زکاۃ (کی مقدار) صدقہ کرے گا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہاں تک پہلے مذہب کا تعلق ہے تو وہ بعض عراقی علماء سے نقل کیا جاتا ہے، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے، اور ان کے مذہب کو اختیار کرنے والے بعض لوگوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20050]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ان کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے: وہ اپنی تمام ملکیت صدقہ کر دے گا، البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی مقدار روک لے جو اس کی گزر بسر کے لیے کافی ہو، پھر جب وہ خوشحال ہو جائے تو جو روکا تھا اسے بھی صدقہ کر دے۔
اور ایک اور (عالم) اس طرف گئے ہیں کہ وہ اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے گا، اور ایک اور اس طرف گئے ہیں کہ وہ زکاۃ (کی مقدار) صدقہ کرے گا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہاں تک پہلے مذہب کا تعلق ہے تو وہ بعض عراقی علماء سے نقل کیا جاتا ہے، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے، اور ان کے مذہب کو اختیار کرنے والے بعض لوگوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20050]
حدیث نمبر: 20050
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ حِينَ ارْتَبَطَ فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأُجَاوِرَكَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ مِنْ مَالِكَ". وَرَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَذَكَرَهُ. ⦗١١٦⦘ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ أَبِيهِ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ أَوْ غَيْرِهِ نَحْوَهُ.
بنو سائب بن ابی لبابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں اپنا وہ گھر چھوڑنا چاہتا ہوں جس میں گناہ سرزد ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہوں اور اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مال کا ثلث حصہ صدقہ کرو یہ کفایت کر جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20050]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللهُ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِيَ الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مُلْكِي كُلِّهِ صَدَقَةً"، قَالَ:" يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ"..
ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا جسے اللہ نے چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: میری توبہ میں سے یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا وہ گھر چھوڑ دوں جس میں مجھ سے گناہ سرزد ہوا، اور اپنا سارا مال صدقہ کر کے اس سے الگ ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف مال کا تیسرا حصہ صدقہ کرو، یہ تجھے کفایت کر جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20051]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف