السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4003. -- باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20189
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوَا الظَّالِمَ ثُمَّ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكُوْا أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ"..
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں پھر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20189]
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں پھر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20189]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20190
وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ فِيهِ:" إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا،". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ فَذَكَرَهُ.
خالد بن عبداللہ الواسطی، اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں، یہ اسی معنی میں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”تم اس آیت کو پڑھتے ہو لیکن اس کو بغیر محل کے استعمال کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20191
وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِزِيَادَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ.
ہشیم، اسماعیل سے کچھ اضافے کے ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس قوم میں گناہ عام ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں، تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ وَأَعَزُّ مِمَّنْ يَعْمَلُ بِهَا، ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَهُ، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ" وَفِي حَدِيثِ وَهْبٍ" إِلَّا عَمَّهُمْ".
عبیداللہ بن جریر اپنے والد (سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس قوم میں نافرمانی کی جاتی ہو اور وہ (باقی لوگ) نافرمانی کرنے والوں سے تعداد میں زیادہ اور زیادہ طاقتور ہوں، پھر وہ اسے منع نہ کریں، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب مسلط کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20192]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أنبأ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيُّ ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ:" كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ؟" قَالَ:" أَيَّةُ آيَةٍ؟"، قَالَ: قُلْتُ:" قَوْلُهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] قَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلْ أَنْتُمُ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا يَدَانِ لَكَ بِهِ، فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَوَامِّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكَ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ كَأَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ شُعَيْبٍ زَادَ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَزَادَنِي غَيْرُهُ: قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟"، قَالَ:" أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ".
ابن شعیب، ابو امیہ شعبانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کہا: اس آیت کا آپ کیا مفہوم لیتے ہیں؟ کہنے لگے: کون سی آیت؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو۔ جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں ایک باخبر ہستی سے سوال کیا تھا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرو۔ جب تم ایسی بخیلی کو دیکھو جس کی پیروی کی جائے اور ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے اور آدمی اپنی رائے کو پسند کرے اور آپ ایسا معاملہ دیکھیں جو آپ کے بس کی بات نہ ہو، اس وقت اپنے آپ کو لازم پکڑو اور عوام کے مسائل کو چھوڑ دو۔ کیونکہ اس کے بعد صبر کے ایام ہیں۔ ان ایام میں صبر کرنا جیسے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا ہے۔ ان ایام میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“
(ب) یہ ابن شعیب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابن مبارک نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ مجھے کسی اور نے یہ زائد بتایا: صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20193]
(ب) یہ ابن شعیب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابن مبارک نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ مجھے کسی اور نے یہ زائد بتایا: صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20193]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20194
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ:" كَانُوا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَوَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَا يَقَعُ بَيْنَ النَّاسِ، فَوَثَبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ:" أَلَا أَقُومُ فَآمُرَهُمَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَنْهَاهُمَا عَنِ الْمُنْكَرِ"، فَقَالَ بَعْضُهُمْ:" عَلَيْكَ نَفْسَكَ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] فَسَمِعَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:" لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ بَعْدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ مِنْهُ آيٌ مَضَى تَأْوِيلُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ، وَكَانَ مِنْهُ آيٌ وَقَعَ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ ⦗١٥٨⦘ عِنْدَ السَّاعَةِ، وَمَا ذَكَرُوا مِنْ أَمْرِ السَّاعَةِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ يَوْمِ الْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَمَا دَامَتْ قُلُوبُكُمْ وَاحِدَةً وَأَهْوَاؤُكُمْ وَاحِدَةً، وَلَمْ تَلْبِسُوا شِيَعًا وَلَمْ يَذُقْ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَمُرُوا وَانْهَوْا، فَإِذَا اخْتَلَفَتِ الْقُلُوبُ وَالْأَهْوَاءُ وَأُلْبِسْتُمْ شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَامْرُؤٌ وَنَفْسُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ جَاءَ تَأْوِيلُهَا".
ابوعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف کود رہا تھا، ان میں سے بعض نے کہا: کیا میں ان کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہ کروں؟ بعض کہنے لگے: اپنے نفس کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے فرمایا: اس آیت کی تفسیر (کا وقت) ابھی نہیں آیا، جب قرآن نازل کیا گیا، بعض آیات تو ایسی بھی ہیں کہ نزول سے پہلے تفسیر کر دی گئی، کسی آیت کی تفسیر اس دن کے بعد واقع ہوئی اور کسی آیت کی تفسیر قیامت کو ہو گی جو انہوں نے قیامت کے امور کے متعلق بیان کیا اور بعض کی تفسیر حساب و کتاب، جنت و جہنم کے بعد میں ہو گی، تمہارے دل اور خواہشات ایک رہیں اور گروہوں کا التباس نہ ہوا اور بعض تمہارے نے بعض سے تکلیف کو بھی نہ چکھا، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، تمہارے دل اور خواہشات مختلف ہوں گی، تم گروہوں میں بٹ گئے اور جب تمہارے بعض بعض سے تکلیف پائیں گے، اس وقت انسان صرف اپنا بچاؤ رکھیں گے، اس وقت اس کی تفسیر آئے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ:" مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ"، فَقَالَ لِي:" هَلْ تَعْرِفُ أَيْلَةَ"، فَقُلْتُ:" وَمَا أَيْلَةُ؟"، قَالَ:" قَرْيَةٌ كَانَ بِهَا نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَحَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَكَانَتْ حِيتَانُهُمْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا بِيضٌ سِمَانٌ كَأَمْثَالِ الْمَخَاضِ بِأَفْنِيَائِهِمْ وَأَبْنِيَاتِهِمْ فَإِذَا كَانَ غَيْرَ يَوْمِ السَّبْتِ لَمْ يَجِدُوهَا، وَلَمْ يُدْرِكُوهَا إِلَّا فِي مَشَقَّةٍ وَمَؤوُنَةٍ شَدِيدَةٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، أَوْ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنْهُمْ:" لَعَلَّنَا لَوْ أَخَذْنَاهَا يَوْمَ السَّبْتِ، وَأَكَلْنَاهَا فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ"، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْهُمْ، فَأَخَذُوا؛ فَشَوَوْا؛ فَوَجَدَ جِيرَانُهُمْ رِيحَ الشِّوَاءِ، فَقَالُوا:" وَاللهِ مَا نَرَى أَصَابَ بَنِي فُلَانٍ شَيْءٌ"، فَأَخَذَهَا آخَرُونَ حَتَّى فَشَا ذَلِكَ فِيهِمْ وَكَثُرَ، فَافْتَرَقُوا فِرَقًا ثَلَاثَةً: فِرْقَةٌ أَكَلَتْ، وَفِرْقَةٌ نَهَتْ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ" {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] " فَقَالَتِ الْفُرْقَةُ الَّتِي نَهَتْ: إِنَّا نُحَذِّرُكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِتَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، وَاللهِ لَا نُبَايِتُكُمْ فِي مَكَانٍ وَأَنْتُمْ فِيهِ"، قَالَ:" فَخَرَجُوا مِنَ السُّورِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَضَرَبُوا بَابَ السُّورِ، فَلَمْ يُجِبْهُمْ أَحَدٌ، فَأَتَوْا بِسُلَّمٍ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى السُّورِ، ثُمَّ رَقِيَ مِنْهُمْ رَاقٍ عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: يَا عِبَادَ اللهِ، قِرَدَةٌ وَاللهِ لَهَا أَذْنَابٌ تَعَادَى، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ مِنَ السُّورِ، فَفَتَحَ السُّورَ، فَدَخَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْإِنْسِ، وَلَمْ تَعْرِفِ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقُرُودِ، قَالَ: فَيَأْتِي الْقِرْدُ إِلَى نَسِيبِهِ وَقَرِيبِهِ مِنَ الْإِنْسِ، فَيَحْتَكُّ بِهِ، وَيَلْصَقُ بِهِ، وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ:" أَنْتَ فُلَانٌ؟" فَيُشِيرُ بِرَأْسِهِ، أَيْ: نَعَمْ، وَيَبْكِي، وَتَأْتِي الْقِرْدَةُ إِلَى نَسِيبِهَا وَقَرِيبِهَا مِنَ الْإِنْسِ، فَيَقُولُ لَهَا الْإِنْسَانُ:" أَنْتِ فُلَانَةُ؟" فتشيرُ بِرَأْسِهَا، أَيْ: نَعَمْ، وَتَبْكِي، فَيَقُولُ لَهُمُ الْإِنْسُ:" إِنَّا حَذَّرْنَاكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِقَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَأَسْمَعُ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ {فأَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ} فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلْتِ الْفِرْقَةُ الثَّالِثَةُ؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مُنْكَرًا فَلَمْ نَنْهَ عَنْهُ، قَالَ عِكْرِمَةُ:" فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى - جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ - أَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا وَكَرِهُوا حِينَ قَالُوا: {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ⦗١٥٩⦘ اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] "، فَأَعْجَبَهُ قُولِي ذَلِكَ، وَأَمَرَ لِي بِبُرْدَيْنِ غَلِيظَينِ، فَكَسَانِيهِمَا.
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جب کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ابھی ان کی بینائی درست تھی اور وہ رو رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم ایلہ بستی کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ایلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”اس بستی میں یہودی آباد تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن ان پر مچھلی پکڑنا حرام قرار دے دیا، ہفتہ کے دن مچھلیاں خوب موٹی تازی اور ظاہر ہو کر آتیں، گویا کہ ان کے حوض بھرے ہوئے محسوس ہوتے اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ صرف مشقت اور تکلیف کے ساتھ مچھلی حاصل کر پاتے۔ ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے یا ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر ہم انہیں ہفتہ کے دن پکڑ لیں اور دوسرے دن کھا لیا کریں (تو کیا حرج ہے)؟ چنانچہ ایک گھر والوں نے ایسا کر لیا، انہوں نے مچھلی پکڑی اور اسے بھونا تو ان کے پڑوسیوں نے بھنی ہوئی مچھلی کی خوشبو پائی، وہ کہنے لگے: فلاں کو تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر دوسروں نے بھی مچھلی پکڑنا شروع کر دی، یہاں تک کہ یہ بات بستی میں عام ہو گئی اور وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے: ایک وہ جو مچھلی کھاتے تھے، دوسرے وہ جو منع کرتے تھے اور تیسرے وہ جنہوں نے کہا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164] ”تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جسے اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا اسے سخت عذاب دینے والا ہے؟“
اس گروہ نے جو (برائی سے) منع کرتا تھا، کہا: ہم تمہیں اللہ کے غصے، عذاب اور زمین میں دھنسائے جانے یا پتھروں کی بارش ہونے یا اس کے علاوہ دیگر عذابوں سے ڈراتے ہیں، اللہ کی قسم! ہم اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم رہتے ہو۔ چنانچہ وہ بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے آ کر ان کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی جواب نہ ملا، پھر وہ سیڑھیاں لائے اور انہیں دیواروں کے ساتھ لگایا، ایک شخص اس کے ذریعے دیوار پر چڑھا اور پکارنے لگا: اے اللہ کے بندو! یہ تو بندر بن چکے ہیں، اللہ کی قسم! ان کی دمیں ہیں، اس نے تین مرتبہ یہ کہا، پھر وہ دیوار سے اترا اور دروازہ کھولا، جب لوگ داخل ہوئے تو بندروں نے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان بندروں میں سے اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے، وہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتے اور اس سے چمٹ جاتے، انسان ان سے پوچھتے: کیا تم فلاں ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتے: ہاں، اور وہ روتے تھے۔ اور بندریا اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتی تو انسان اس سے پوچھتا: کیا تم فلانی ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور وہ روتی تھی۔ انسان ان سے کہتے تھے: ہم تمہیں اللہ کے غضب، عذاب، زمین میں دھنسائے جانے، شکلوں کے بگڑنے یا اس کے علاوہ اللہ کے دیگر عذابوں سے ڈراتے رہے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا ہوں: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [سورة الأعراف: 165] ”ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں نہیں جانتا کہ تیسرے گروہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم کتنی ہی برائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان سے منع نہیں کرتے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے تو (برائی کا) انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164] ۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات انہیں پسند آئی اور انہوں نے مجھے دو موٹی چادریں پہنانے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20195]
اس گروہ نے جو (برائی سے) منع کرتا تھا، کہا: ہم تمہیں اللہ کے غصے، عذاب اور زمین میں دھنسائے جانے یا پتھروں کی بارش ہونے یا اس کے علاوہ دیگر عذابوں سے ڈراتے ہیں، اللہ کی قسم! ہم اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم رہتے ہو۔ چنانچہ وہ بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے آ کر ان کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی جواب نہ ملا، پھر وہ سیڑھیاں لائے اور انہیں دیواروں کے ساتھ لگایا، ایک شخص اس کے ذریعے دیوار پر چڑھا اور پکارنے لگا: اے اللہ کے بندو! یہ تو بندر بن چکے ہیں، اللہ کی قسم! ان کی دمیں ہیں، اس نے تین مرتبہ یہ کہا، پھر وہ دیوار سے اترا اور دروازہ کھولا، جب لوگ داخل ہوئے تو بندروں نے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان بندروں میں سے اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے، وہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتے اور اس سے چمٹ جاتے، انسان ان سے پوچھتے: کیا تم فلاں ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتے: ہاں، اور وہ روتے تھے۔ اور بندریا اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتی تو انسان اس سے پوچھتا: کیا تم فلانی ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور وہ روتی تھی۔ انسان ان سے کہتے تھے: ہم تمہیں اللہ کے غضب، عذاب، زمین میں دھنسائے جانے، شکلوں کے بگڑنے یا اس کے علاوہ اللہ کے دیگر عذابوں سے ڈراتے رہے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا ہوں: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [سورة الأعراف: 165] ”ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں نہیں جانتا کہ تیسرے گروہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم کتنی ہی برائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان سے منع نہیں کرتے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے تو (برائی کا) انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164] ۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات انہیں پسند آئی اور انہوں نے مجھے دو موٹی چادریں پہنانے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20195]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ، فَيَقُولُ:" يَا هَذَا، اتَّقِ اللهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ"،" ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ، فَلَا يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ"، ثُمَّ قَالَ" {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ} {كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ} [المائدة: ٧٩] "، ثُمَّ قَالَ:" كَلَّا وَاللهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدِ الظَّالِمِ، وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے اندر سب سے پہلا نقص جو پیدا ہوا یہ تھا کہ آدمی آدمی سے ملتا اور کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو کر رہے ہو چھوڑ دو۔ یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، پھر دوسرے دن ملاقات ہوتی تو منع نہ کرتا بلکہ ان کے ساتھ کھانے، پینے اور مجلس میں خود بھی شریک ہو جاتا۔ جب انہوں نے یہ کام کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں اختلاف پیدا کر دیا،“ پھر فرمایا: ﴿لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ * كَانُوْا لَا يَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ﴾ [سورة المائدة: 78-79] ”بنی اسرائیل کے کافر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت کیے گئے۔ یہ ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کی وجہ سے ہوا۔ وہ برائی سے منع نہ کرتے تھے۔ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔“
پھر فرمایا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! ضرور تم نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے۔ ضرور تم ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور اسے حق کی طرف موڑ کر لاؤ گے اور اسے حق پر روکے رکھو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20196]
پھر فرمایا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! ضرور تم نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے۔ ضرور تم ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور اسے حق کی طرف موڑ کر لاؤ گے اور اسے حق پر روکے رکھو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20196]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20197
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، فَقِيلَ:" يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَنْ ذَكَرْتَ؟"، قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، قِيلَ:" يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَا اسْمُهُنَّ؟"، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ، وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَقَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ" وَعَقَدَ تِسْعِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ"..
زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے چار عورتوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ بعض، بعض سے (روایت کرنے میں) نیچے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابو محمد! کس نے تذکرہ کیا؟ کہتے ہیں: زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چار عورتوں کے متعلق ان کی روایت بعض کی بعض سے ہے۔ کہا گیا: اے ابو محمد! ان کے نام کیا ہیں؟ زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا سے، وہ اپنی والدہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس شر سے عرب کے لیے ہلاکت ہے جو قریب آ پہنچا ہے، آج یاجوج و ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کی گرہ لگا کر اشارہ کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے اندر نیک لوگ ہوں گے اور پھر بھی ہم ہلاک کر دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب خباثت عام ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20197]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20198
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ:" وَحَلَّقَ حَلْقَةً بِإِصْبَعِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے اس طرح تذکرہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» “ ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے“، تین مرتبہ اور اپنی انگلی سے حلقہ بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20198]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح