السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4146. -- باب:: المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة
-- باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21176
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو كَعْبٍ أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ".
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے کو ترک کر دے، میں جنت کے کنارے میں اس کے گھر کی ضمانت دیتا ہوں، جو جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے اگرچہ مذاق میں ہی کیوں نہ ہو، جنت کے وسط میں اس کے گھر کی ضمانت دیتا ہوں اور اچھے اخلاق والے انسان کے لیے اعلیٰ جنت والے گھر کا ضامن ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21176]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَحْبُلٍ مَعَهُ، فَأَخَذَهَا، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا".
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہمیں بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، (سفر میں تھے) ایک آدمی ان میں سے سو گیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک رسی پکڑی جس کے ذریعے اس کو ڈرایا، وہ گھبرا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» ”کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21177]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4147. -- باب:: ما جاء في " أكذب الناس: الصباغون والصواغون "
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ کے بارے میں وارد شدہ بیان: ”سب سے زیادہ جھوٹے لوگ رنگ ساز اور سنار ہوتے ہیں“۔
«اَلسَّبَّاغُونَ»: ”وہ انسان جو بات میں الفاظ کو زائد بیان کرتا ہے اس کو مزین کرنے کے لیے۔“
«اَلصَّوَّاغُوْنَ»: ”ایسا انسان جو ایسی بات بیان کرے جس کی کوئی اصل نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21178]
«اَلصَّوَّاغُوْنَ»: ”ایسا انسان جو ایسی بات بیان کرے جس کی کوئی اصل نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21178]
حدیث نمبر: 21178
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ". هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ، حَدِيثُ هَمَّامٍ عَنْ فَرْقَدٍ، وَأَخْطَأَ فِيهِ عَنْ بَعْضِهِمْ عَنْ هَمَّامٍ، فَقَالَ: عَنْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَكِلَاهُمَا بَاطِلٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقِيلَ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے «الصَّبَّاغُونَ» اور «الصَّوَّاغُونَ» ہیں۔“
یہی (روایت) محفوظ ہے، یعنی ہمام کی فرقد سے روایت۔ بعض راویوں نے ہمام سے اس میں غلطی کی اور کہا: ہمام عن قتادہ عن یزید، اور بعض نے کہا: ہمام عن قتادہ عن انس، اور یہ دونوں باطل ہیں۔ یہ ایک اور سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21178]
یہی (روایت) محفوظ ہے، یعنی ہمام کی فرقد سے روایت۔ بعض راویوں نے ہمام سے اس میں غلطی کی اور کہا: ہمام عن قتادہ عن یزید، اور بعض نے کہا: ہمام عن قتادہ عن انس، اور یہ دونوں باطل ہیں۔ یہ ایک اور سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21178]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21179
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدٍ الْقَاسِمَ بْنَ سَلَّامٍ عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا، فَقَالَ: أَمَّا الصَّبَّاغُ فَهُوَ الَّذِيُ يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ أَلْفَاظًا يُزَيِّنُهُ بِهَا، وَأَمَّا الصَّائِغُ فَهُوَ الَّذِي يَصُوغُ الْحَدِيثَ لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" كَذَا قَالَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادَ الْعَامِلُ بِيَدَيْهِ، وَهُوَ صَرِيحٌ فِيمَا رُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَإِنَّمَا نَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، لِكَثْرَةِ مَوَاعِيدِهِ الْكَاذِبَةِ، مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّهُ لَا يَفِي بِهَا، وَفِي صِحَّةِ الْحَدِيثِ نَظَرٌ، ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ شَهَادَةَ مَنْ يَأْخُذُ الْجُعْلَ عَلَى الْخَيْرِ، وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى جَوَازِهِ فِي كِتَابِ الْإِجَارَةِ، وَكِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ وَغَيْرِهِمَا، وَذَكَرَ شَهَادَةَ السُّؤَالِ، وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى مَنْ يَجُوزُ لَهُ السُّؤَالُ، وَمَنْ لَا يَجُوزُ فِي كِتَابِ قَسْمِ الصَّدَقَاتِ، وَذَكَرَ شَهَادَةَ مَنْ يَأْتِي الدَّعْوَةَ بِغَيْرِ دُعَاءٍ، وَقَدْ مَضَى الْخَبَرُ فِيهِ فِي كِتَابِ الْوَلِيمَةِ، فَلَا مَعْنَى لِلْإِعَادَةِ، وَكُلُّ مَنْ كَانَ عَلَى شَيْءٍ تُرَدُّ بِهِ شَهَادَتُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" إِنَّمَا تُرَدُّ شَهَادَتُهُ مَا كَانَ عَلَيْهِ، فَإِذَا نَزَعَ وَتَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَتِ الْأَخْبَارُ فِيهِ فِي بَابِ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ.
حضرت یحییٰ بن موسیٰ بلخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ سے اس کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: «الصَّبَّاغُ» ”صباغ“ اس شخص کو کہتے ہیں جو بات کو مزین کرنے کے لیے الفاظ زیادہ کرے اور «الصَّائِغُ» ”صائغ“ اس شخص کو کہتے ہیں جو بے بنیاد بات بیان کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان سے یہی منقول ہے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہاتھ سے کام کرنے والا (کاریگر) ہو، جیسا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے، اور اسے جھوٹا اس لیے کہا گیا، واللہ اعلم، کہ وہ کثرت سے جھوٹے وعدے کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ انہیں پورا نہیں کرے گا۔ اور اس حدیث کی صحت میں نظر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھلائی کے کاموں پر اجرت لینے والے کی گواہی کا ذکر کیا ہے، اور اس کے جائز ہونے کی دلیل کتاب الاجارہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اور جو شخص کسی ایسی حالت پر ہو جس کی وجہ سے اس کی گواہی رد کی جاتی ہے، اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی صرف اسی وقت تک رد ہوگی جب تک وہ اس حالت پر رہے، جب وہ اسے چھوڑ دے اور توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21179]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان سے یہی منقول ہے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہاتھ سے کام کرنے والا (کاریگر) ہو، جیسا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے، اور اسے جھوٹا اس لیے کہا گیا، واللہ اعلم، کہ وہ کثرت سے جھوٹے وعدے کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ انہیں پورا نہیں کرے گا۔ اور اس حدیث کی صحت میں نظر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھلائی کے کاموں پر اجرت لینے والے کی گواہی کا ذکر کیا ہے، اور اس کے جائز ہونے کی دلیل کتاب الاجارہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ اور جو شخص کسی ایسی حالت پر ہو جس کی وجہ سے اس کی گواہی رد کی جاتی ہے، اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی صرف اسی وقت تک رد ہوگی جب تک وہ اس حالت پر رہے، جب وہ اسے چھوڑ دے اور توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21179]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4148. -- باب:: شهادة ولد الزنا
-- باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q21180
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ"، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَالشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا قَالَا:" تَجُوزُ شَهَادَةُ وَلَدِ الزِّنَا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
اور ہمیں عطاء اور شعبی رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”ولد الزنا (ناجائز اولاد) کی گواہی جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21180]
اور ہمیں عطاء اور شعبی رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”ولد الزنا (ناجائز اولاد) کی گواہی جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21180]
حدیث نمبر: 21180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا زِيَادُ بْنُ ⦗٤٢٢⦘ أَيُّوبَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ:" لَا يَفْضُلُهُ وَلَدُ الرِّشْدَةِ إِلَّا بِالتَّقْوَى".
حضرت حسن رحمہ اللہ حرامی بچے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صحیح النسب بچہ اس سے صرف تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت رکھتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21180]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21181
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي وَلَدِ الزِّنَا:" إِنَّ أَصْلَهُ لَأَصْلُ سُوءٍ، وَإِذَا حَسُنَتْ حَالَتُهُ وَمُرُوءَتُهُ جَازَتْ شَهَادَتُهُ"، وَكَانُوا يَرَوْنَ عِتْقَهُ حَسَنًا.
عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے معتبر فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچہ کی اصل بری ہے، جب اس کی حالت اور مروّت اچھی ہو تو پھر وہ گواہی کے قابل ہے اور اس کو آزاد کر دینا بھی اچھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21181]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4149. -- باب:: ما جاء في شهادة البدوي على القروي
-- باب: دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21182
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَرَدَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى الِاعْتِبَارِ، وَفِيمَا يُعْتَبَرُ أَنْ يَكُونَ الشَّاهِدُ فِيهِ مِنْ أَهْلِ الْخِبْرَةِ الْبَاطِنَةِ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا كَرِهَ شَهَادَةَ أَهْلِ الْبَدْوِ لِمَا فِيهِمْ مِنَ الْجَفَاءِ فِي الدِّينِ وَالْجَهَالَةِ بِأَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ، لِأَنَّهُمْ فِي الْغَالِبِ لَا يَضْبِطُونَ الشَّهَادَةَ عَلَى وَجْهِهَا، وَلَا يُقِيمُونَهَا عَلَى حَقِّهَا، لِقُصُورِ عِلْمِهِمْ عَمَّا يُحِيلُهَا وَيُغَيِّرُهَا عَنْ جِهَتِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف جائز نہیں ہے۔“ یہ شہادت کے معتبر ہونے کے اعتبار سے ہے، گواہ باطن کی خبروں کی بھی پہچان رکھتا ہو۔ شیخ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیہاتی کی شہادت اس لیے ناپسندیدہ ہے، کیونکہ یہ دین میں سختی اور شرعی احکام سے جہالت کی بنا پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21182]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4150. -- باب:: ما جاء في الغلام يشهد قبل أن يبلغ، والعبد قبل أن يعتق، والكافر قبل أن يسلم، ثم بلغ الصبي، وعتق العبد، وأسلم الكافر، وكانوا عدولا، فشهدوا بها
-- باب: اس لڑکے کے بارے میں جو بالغ ہونے سے پہلے، اور وہ غلام جو آزاد ہونے سے پہلے، اور وہ کافر جو مسلمان ہونے سے پہلے کسی بات کا گواہ بنے، پھر وہ بچہ بالغ ہو گیا، غلام آزاد ہو گیا اور کافر مسلمان ہو گیا اور وہ عادل (ثقہ) تھے تو انہوں نے اس کی گواہی دی۔
حدیث نمبر: Q21183
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قُبِلَتْ شَهَادَاتُهُمْ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کی گواہیاں قبول کی جائیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21183]