السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4186. -- باب:: من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه.
-- باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: ذَكَرْتُ أَنَا وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ وَخِلَافَهُ عَنِ الثِّقَاتِ وَالْحُفَّاظِ، فَتَذَاكَرْنَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً، قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ الْحَجَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ أَنَّ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ إِنْ شَاءَ ضَمِنَ الْمُعْتِقَ الْقِيمَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا مِنْ أَعْظَمِ الْفِرْيَةِ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا عَلَى مَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، لَمْ يَكُنْ فِي آلِ عُمَرَ أَثْبَتَ مِنْهُ، وَلَا أَحْفَظَ، وَلَا أَوْثَقَ، وَلَا أَشَدَّ تَقَدُّمَةً فِي عِلْمِ الْحَدِيثِ فِي زَمَانِهِ، فَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ وَاحِدُ دَهْرِهِ فِي الْحِفْظِ، ثُمَّ تَلَاهُ فِي رِوَايَتِهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَلَمْ يَكُنْ دُونَهُ فِي الْحِفْظِ، بَلْ هُوَ عِنْدَنَا فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ مِثْلُهُ، أَوْ أَجْمَعُ مِنْهُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مِنْ أَثْبَتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَصَحِّهِمْ رِوَايَةً، رَوَوْهُ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ⦗٤٨٠⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ شِقْصًا فِي عَبْدٍ كُلِّفَ عِتْقَ مَا بَقِيَ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَإِنَّهُ يُعْتِقُ مِنَ الْعَبْدِ مَا أَعْتَقَ". قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمْرُ السِّعَايَةِ إِنْ ثَبَتَ فِي حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عَلَى الِاخْتِيَارِ مِنْ جِهَةِ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، وَفِي الْإِجْبَارِ عَلَيْهِ وَهُوَ يَأْبَاهُ مَشَقَّةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ بِاخْتِيَارِهِ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْأَخْبَارِ مُخَالَفَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ تَأَوَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقَالَ: مَعْنَى السِّعَايَةِ أَنْ يُسْتَسْعَى الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسْتَخْدَمَ لِمَالِكِهِ، وَلِذَلِكَ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، أَيْ لَا يُحَمَّلُ مِنَ الْخِدْمَةِ فَوْقَ مَا يَلْزَمُهُ بِحِصَّةِ الرِّقِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جب دو آدمیوں کا غلام ہو، ایک آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے کو ضامن بنایا جائے گا اگر وہ مالدار ہو۔ اگر مالدار نہ ہو تو غلام سے مزدوری کروائی جائے۔“
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21386]
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21386]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التِّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يَضْمَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ - يَعْنِي: التِّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغَ، لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ مَا مَضَى مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَإِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعْسِرِ إِذَا أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَا يَضْمَنُ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن ثلب اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ضامن نہیں ٹھہرایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21387]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4187. -- باب:: من أعتق نصيبه من مملوك في مرض موته.
-- باب: جس نے اپنے مرض الوفات میں مملوک (غلام) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 21388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ شِرْكٌ فِي غُلَامٍ ثُمَّ أَعْتَقَ نَصِيبَهُ وَهُوَ حِيُّ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ فِي مَالِهِ، ثُمَّ أَعْتَقَ". قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ: قَالَ أَصْحَابُنَا: قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهُوَ حَيٌّ" - يَعْنِي: حِينَ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ، يَدُلُّ عَلَى أَنْ لَا يُقَوَّمَ عَلَيْهِ بَعْدَ الْمَوْتِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَكَذَا قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب آدمی غلام میں شریک ہو، پھر اپنا حصہ آزاد کر دے اور وہ زندہ ہو، پھر اس کے مال سے عدل والی قیمت قائم کی جائے گی، پھر آزاد کر دیا جائے گا۔“
ابو الولید فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”اور وہ زندہ ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ قیمت اس کی زندگی میں قائم کی جائے گی موت کے بعد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21388]
ابو الولید فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”اور وہ زندہ ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ قیمت اس کی زندگی میں قائم کی جائے گی موت کے بعد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21388]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي في الكبري 4927»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21389
أُخْبِرْنَا، عَنْ زَاهِرِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهِ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ فِيهِ شِرْكٌ، وَأَعْتَقَ رَجُلٌ نَصِيبَهُ"، قَالَ:" يُقَامُ عَلَيْهِ الْقِيمَةُ يَوْمَ الْعِتْقِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ عِنْدَ الْمَوْتِ". قَالَ الشَّيْخُ الزَّاهِرُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَلَيْسَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فِي كُلِّ حَدِيثٍ"..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو غلام مشترک ہو اور آدمی اپنے حصہ کو آزاد کر دے تو آزادی والے دن کی قیمت قائم ہوگی، موت کے وقت نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21389]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4188. -- باب:: عتق العبيد لا يخرجون من الثلث.
-- باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21390
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمَالِيكَ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، أَوْ قَالَ: أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ مَمَالِيكَ لَهُ، وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ: دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً..
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری مرد نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت کلام فرمایا، پھر غلاموں کو منگوا کر تین حصوں میں تقسیم کر دیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21390]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1668»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21391
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى: رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ، لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَابْنِ أَبِي عُمَرَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
اسحاق کی روایت میں ہے کہ ایک انصاری نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، محمد بن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ ایک انصاری نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، کوئی دوسرا مال نہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21391]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ..
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، اس کا کوئی دوسرا مال بھی نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی۔ دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام باقی رکھا اور سخت بات بھی کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21392]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21393]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ أَعْبُدٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَزَّأَهُمْ، أَظُنُّهُ قَالَ: ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْهَالِ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے چھ غلام تھے، اس کا کوئی دوسرا مال نہ تھا، اس نے اپنی موت کے وقت آزاد کر دیے، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام باقی رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21394]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، وَيَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ رَأْيِيَ لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ..
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، ان کے علاوہ اس کا مال بھی نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام باقی رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21395]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح