السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4249. -- باب:: الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له
-- باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21789
وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِي ذَلِكَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَيْرِيزِ الْجُمَحِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٥٨٢⦘ قَالُوا: فَلَوْلَا أَنَّ الِاسْتِيلَادَ يَمْنَعُ مِنْ نَقْلِ الْمِلْكِ، وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ لِعَزْلِهِمْ مَحَبَّةَ الْأَثْمَانِ فَائِدَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے، ایک انصاری آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری لونڈیاں ہیں، ہم قیمت کو پسند کرتے ہیں، کیا ان سے عزل کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم یہ کیوں کرتے ہو؟“ پھر فرمایا: ”تم پر لازم نہیں، جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہے گی تم کچھ بھی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21790
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا صِرْمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبْيًا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا، وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَ، فَتَرَاجَعْنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَيْسَ بِجَائِزٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابن محیریز، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں غزوہ بنو مصطلق میں لونڈیاں ملیں، ہم میں سے بعض انہیں اپنی بیویاں بنانا چاہتے تھے اور بعض فروخت کرنا چاہتے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عزل نہ کرو، جو اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ جس نے قیامت تک پیدا ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21790]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
4250. -- باب:: الخلاف في أمهات الأولاد
-- باب: امہات الاولاد (بچوں والی لونڈیوں) کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 21791
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم امہات الاولاد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں فروخت کرتے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21791]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21792
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيُّ، لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا..
ابوزبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم امہات الاولاد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فروخت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21792]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21793
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ بِذَلِكَ فَأَقَرَّهُمْ عَلَيْهِ، وَقَدْ رُوِّينَا مَا يَدُلُّ عَلَى النَّهْيِ وَاللهُ أَعْلَمُ..
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں امہات الاولاد کو فروخت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21793]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21794
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" اجْتَمَعَ رَأْيِي وَرَأْيُ عُمَرَ عَلَى عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بَعْدُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ فِي كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأْيُكَ وَرَأْيُ عُمَرَ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِكَ وَحْدَكَ فِي الْفُرْقَةِ".
عبیدہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میری اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے امہات الاولاد کو آزاد کرنے میں ایک تھی، لیکن میں بعد میں ان کو غلام رکھتا تھا، میں نے کہا: مجھے آپ کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اکٹھی رائے آپ کی اکیلے کی رائے سے زیادہ پسند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21794]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ بِبَغْدَادَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: لَقِيَ رَجُلَانِ ابْنَ عُمَرَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَا لَهُ: تَرَكْنَا هَذَا الرَّجُلَ يَعْنُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ لَهُمْ: لَكِنَّ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ أَتَعْرِفَانِهِ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: قَضَى فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ لَا يُبَعْنَ، وَلَا يُوهَبْنَ، وَلَا يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ..
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ، حضرت نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے راستے میں دو آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے، انہوں نے کہا: ہم نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ہے، وہ امہات الاولاد کو فروخت کرتا ہے، وہ ان سے کہنے لگے: کیا تم ابوحفص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، فرمایا: انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ امہات الاولاد کو فروخت کرنا، ہبہ اور وراثت بنانا جائز نہیں ہے، اس کا مالک اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے، مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21795]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكْبًا، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ عِنْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ؟ قَالُوا: أَحَلَّ لَنَا أَنْ تُبَاعَ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُونَ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَعْنَ، أَوْ يُوهَبْنَ، أَوْ يُورَثْنَ، يَسْتَمْتِعُ مِنْهُنَّ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ عَتَقْنَ..
عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک قافلہ کو ملے تو پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے، انہوں نے ہمارے لیے کچھ ایسی چیزیں حلال قرار دے دی ہیں جو ہم پر حرام کی گئی تھیں۔ انہوں نے پوچھا: اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا؟ انہوں نے کہا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کو فروخت کرنا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم ابو حفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، فرمایا: وہ ان کو فروخت کرنے، «هِبَة» ”ہبہ“ کرنے اور وراثت بنانے سے منع کرتے ہیں۔ مالک اپنی زندگی میں جتنا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا لے، اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21796]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ نَسْأَلُهُ عَنْ أُمِّ الْوَلَدِ: هَلْ تَعْتِقُ؟ فَقَالَ:" تَعْتِقُ مِنْ نَصِيبِ وَلَدِهَا". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَكَمَ بِعِتْقِهِنَّ بِمَوْتِ سَادَاتِهِنَّ نَصًّا، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَغَيْرُهُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهِنَّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هُوَ وَغَيْرُهُ اسْتَدَلَّ بِبَعْضِ مَا بَلَغَنَا وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى عِتْقِهِنَّ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَغَيْرُهُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهِنَّ، فَالْأَوْلَى بِنَا مُتَابَعَتُهُمْ فِيمَا اجْتَمَعُوا عَلَيْهِ قَبْلَ الِاخْتِلَافِ، مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِالسُّنَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے «أُمُّ الْوَلَدِ» کی آزادی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ اپنی اولاد کے حصے سے آزاد ہوگی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ لگتا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ «نَصٌّ» پہنچی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مالکوں کی موت پر ان کی آزادی کا فیصلہ فرمایا، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ اور یہ بھی لگتا ہے کہ انہوں نے اور دوسروں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک پہنچنے والی اور ہماری روایت کردہ ان بعض باتوں سے استدلال کیا ہو جو ان کی آزادی پر دلالت کرتی ہیں، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ لہٰذا ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ سنت سے استدلال کے ساتھ ساتھ ہم ان کی اس بات میں پیروی کریں جس پر وہ اختلاف سے پہلے متفق تھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21797]
شیخ فرماتے ہیں کہ لگتا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ «نَصٌّ» پہنچی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مالکوں کی موت پر ان کی آزادی کا فیصلہ فرمایا، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ اور یہ بھی لگتا ہے کہ انہوں نے اور دوسروں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک پہنچنے والی اور ہماری روایت کردہ ان بعض باتوں سے استدلال کیا ہو جو ان کی آزادی پر دلالت کرتی ہیں، اس لیے وہ اور دوسرے حضرات ان کی بیع کے حرام ہونے پر متفق ہو گئے۔ لہٰذا ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ سنت سے استدلال کے ساتھ ساتھ ہم ان کی اس بات میں پیروی کریں جس پر وہ اختلاف سے پہلے متفق تھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21797]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4251. -- باب:: الولد الذي تكون به أم ولد.
-- باب: اس بچے کا بیان جس کی وجہ سے وہ (لونڈی) ”اُمِ ولد“ بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 21798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ بِنْتِ مَنِيعٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أُمُّ الْوَلَدِ تَعْتِقُ وَإِنْ كَانَ سَقْطًا"..
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ام ولد آزاد ہوگی، بچہ اگرچہ مردہ ہی کیوں نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21798]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف