🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4251. -- باب:: الولد الذي تكون به أم ولد.
-- باب: اس بچے کا بیان جس کی وجہ سے وہ (لونڈی) ”اُمِ ولد“ بنتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" إِذَا أَسْقَطَتْ أُمُّ الْوَلَدِ شَيْئًا يُعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ حَمْلٍ عَتَقَتْ بِهِ وَصَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد سے بچہ ساقط ہو جائے اور اس کا حمل معلوم ہو تو وہ اس کی وجہ سے آزاد ہو جائے گی اور ام ولد ہی شمار ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21799]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4252. -- باب:: ولد أم الولد من غير سيدها بعد الاستيلاد.
-- باب: اُمِ ولد کے اس بچے کا بیان جو استیلاد (آقا کی طرف سے اولاد ہونے) کے بعد اس کے آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ سَيِّدِهَا فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا كَانَ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا عَبِيدًا مَا عَاشَ سَيِّدُهَا، فَإِنْ مَاتَ فَهُمْ أَحْرَارٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی اپنے مالک کی اولاد کو جنم دے اور وہ (لونڈی) بعد میں نکاح کر لے اور اس کی اولاد ہو تو اس کی اولاد اسی کے مرتبہ میں غلام ہوگی جب تک سید زندہ رہے۔ اگر وہ فوت ہو گیا تو وہ آزاد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21800]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21801
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ:" وَلَدُ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ وَأُمِّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمَا، إِذَا عَتَقَتْ فَهُمْ مُعْتَقُونَ، إِذَا مَاتَ السَّيِّدُ"..
اسماعیل، عامر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «مُدَبَّرَہ» لونڈی کی اولاد اور «اُمُّ الْوَلَدِ» کی اولاد ایک ہی مرتبہ میں ہیں، جب ان کی مائیں آزاد ہوں گی ان کی اولادیں بھی آزاد ہو جائیں گی، جب مالک فوت ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21801]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ وَأُمِّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَتِهِمَا".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ اور ام الولد کی اولاد اپنی ماؤں کے مرتبہ میں ہیں۔
(ب) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی ام ولد کا نکاح غلام سے کر دیا، اس کی اولاد ہو گئی، فرماتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کے مرتبہ میں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21802]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَعْتِقُ وَلَهَا أَوْلَادٌ قَالَ:" تَعْتِقُ هِيَ وَأَوْلَادُهَا".
حضرت حسن رحمہ اللہ ام ولد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ آزاد ہے اور اس کی اولاد ہے، وہ اور اس کی اولاد دونوں ہی آزاد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21803]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4253. -- باب:: الرجل ينكح الأمة فتلد له ثم يملكها.
-- باب: وہ شخص جو کسی لونڈی سے نکاح کرے، اس سے اس کا بچہ پیدا ہو پھر وہ اس (لونڈی) کا مالک بن جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَذَكَرَ قِصَّةً، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعْرِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَالَ:" أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ لِسَيِّدِهَا فَهِيَ لَهُ مُتْعَةٌ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ بَعْدهِ، وَمَنْ وَطِئَ وَلِيدَةً فَضَيَّعَهَا، فَالْوَلَدُ لَهُ وَالضَّيْعَةُ عَلَيْهِ"..
نافع رحمہ اللہ نے قصہ ذکر کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا تھا: ”وہ لونڈی جو اپنے آقا کی اولاد کو جنم دے تو وہ (آقا) اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ جس نے لونڈی سے مجامعت کی پھر اس کو (بے نگرانی) چھوڑ دیا تو اولاد اسی کی ہوگی اور نقصان بھی اسی پر ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21804]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21805
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى شُرَيْحٍ رَجُلٌ تَزَوَّجَ أَمَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا، فَرَفَعَهُمْ شُرَيْحٌ إِلَى عُبَيْدَةَ، فَقَالَ عُبَيْدَةُ:" إِنَّمَا تَعْتِقُ أُمُّ الْوَلَدِ إِذَا وَلَدَتْهُمْ أَحْرَارًا، فَإِذَا وَلَدَتْهُمْ مَمْلُوكِينَ فَإِنَّهَا لَا تَعْتِقُ".
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، اس نے ایک لونڈی سے شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ پھر اس نے اس کو خرید لیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے عبیدہ رحمہ اللہ کی طرف فیصلہ منتقل کر دیا، تو عبیدہ رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا کہ ام ولد تب آزاد ہوتی ہے جب اس نے اولاد کو آزاد جنم دیا ہو، اور جب وہ اولاد کو غلام جنم دے تو وہ آزاد نہ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21805]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4254. -- باب:: ما جاء في جناية أم الولد.
-- باب: اُمِ ولد کے جرم کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّهَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَجْنِي قَالَ:" تُقَوَّمُ عَلَى سَيِّدِهَا".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد جرم کرے تو اس کے مالک پر ڈالا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21806]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21807
قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا جَنَتْ:" فَعَلَى سَيِّدِهَا جِنَايَتُهَا".
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد جرم کرے تو اس کی سزا اس کے آقا کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21807]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21808
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ هَاشِمٍ عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" جِنَايَةُ أُمِّ الْوَلَدِ عَلَى سَيِّدِهَا".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد کا جرم اس کے آقا کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21808]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں