🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1699. إن الله أبى ذلك لكم ورسوله أن يجعل لكم أوساخ ....
بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے تمہارے (اہلِ بیت ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1697
«إن الله أبى ذلك لكم ورسوله أن يجعل لكم أوساخ أيدي الناس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے تمہارے (اہلِ بیت کے) لیے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ وہ تمہارے لیے لوگوں کے ہاتھوں کا میل کچیل (یعنی زکوٰۃ و صدقات) مقرر کریں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن عبد المطلب بن ربيعة. حم 4/166 وم 3/118.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1700. إن الله أبى علي فيمن قتل مؤمنا ثلاثا
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو (ناحق) قتل کرنے والے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1698
«إن الله أبى علي فيمن قتل مؤمنا ثلاثا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو (ناحق) قتل کرنے والے کے حق میں میری سفارش کو تین بار رد فرما دیا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ن ك] عن عقبة بن مالك. الصحيحة 689: ابن سعد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1701. إن الله احتجر التوبة على كل صاحب بدعة
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی شخص کے لیے توبہ ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
«إن الله احتجر التوبة على كل صاحب بدعة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی شخص کے لیے توبہ کا دروازہ بند کر رکھا ہے (جب تک کہ وہ اپنی بدعت کو چھوڑ نہ دے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ابن فيل طس هب الضياء] عن أنس. الصحيحة 1620.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1702. إن الله أحدث في الصلاة أن لا تكلموا إلا بذكر ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے حوالے سے یہ نیا ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
«إن الله أحدث في الصلاة أن لا تكلموا إلا بذكر الله وما ينبغي لكم وأن تقوموا لله قانتين»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے حوالے سے یہ نیا حکم جاری فرمایا ہے کہ تم اس میں سوائے اللہ کے ذکر اور جو کچھ تمہارے لیے مناسب ہے، کوئی اور بات چیت نہ کرو اور اللہ کے سامنے باادب اور فرمانبردار بن کر کھڑے ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ن] عن ابن مسعود. صحيح أبي داود 857.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1703. إن الله أخذ الميثاق من ظهر آدم بنعمان يوم عرفة ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے دن مقام نعمان (عرفات ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
"إن الله أخذ الميثاق من ظهر آدم بنعمان يوم عرفة وأخرج من صلبه كل ذرية ذرأها فنثرهم بين يديه كالذر ثم
كلمهم قبلا قال: {َألَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى}"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے دن مقام نعمان (عرفات کی ایک وادی) میں آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے عہد و پیمان لیا، اور ان کی پشت سے ان کی تمام وہ ذریت نکال لی جسے وہ پیدا کرنے والا تھا، پھر انہیں ان کے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلا دیا۔ پھر ان سے روبرو کلام کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا: کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا رب ہے)۔“ [سورة الأعراف: 172] “ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ن ك هق1 في الأسماء] عن ابن عباس. شرح الطحاوية: 219، الصحيحة 1623، السنة 87.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1704. إن الله أخذ ذرية آدم من ظهره ثم {أَشْهَدَهُمْ عَلَى ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
«إن الله أخذ ذرية آدم من ظهره ثم {أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} ثم أفاض بهم في كفيه فقال: هؤلاء في الجنة وهؤلاء في النار فأهل الجنة ميسرون لعمل أهل الجنة وأهل النار ميسرون لعمل أهل النار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا، پھر ﴿أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ ”انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں!“ [سورة الأعراف: 172] پھر انہیں اپنی دونوں مٹھیوں میں لے کر فرمایا: یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ پس جنتیوں کے لیے جنتیوں والے اعمال آسان کر دیے جاتے ہیں اور جہنمیوں کے لیے جہنمیوں والے اعمال آسان کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [البزار طب هق] عن هشام بن حكيم. الصحيحة 48.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1705. إن الله أخرجني من النكاح ولم يخرجني من السفاح
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (جائز) نکاح کے ذریعے پیدا ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
«إن الله أخرجني من النكاح ولم يخرجني من السفاح»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (جائز) نکاح کے ذریعے پیدا فرمایا ہے اور مجھے زنا (بدکاری کے راستے) سے پیدا نہیں فرمایا۔ (یعنی میرا سلسلہ نسب پاکیزہ اور شرعی نکاح پر مبنی ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [هب] عن محمد بن علي مرسلا.»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1706. إن الله إذا أحب أهل بيت أدخل عليهم الرفق
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھر والوں سے محبت کرتا ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
«إن الله إذا أحب أهل بيت أدخل عليهم الرفق»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھر والوں سے محبت کرتا ہے تو ان کے اندر نرمی اور ملائمت پیدا فرما دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ابن أبي الدنيا في ذم الغضب الضياء] عن جابر. الصحيحة 1239.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1707. إن الله تعالى إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
«إن الله تعالى إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني أحب فلانا فأحبه فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول: إن الله تعالى يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض وإذا أبغض عبدا دعا جبريل فيقول: إني أبغض فلانا فأبغضه فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلانا فأبغضوه فيبغضونه ثم يوضع له البغضاء في الأرض»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت (بغض) کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو۔ پس وہ سب بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے نفرت و بغض رکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1771.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1708. إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم فمن صبر فله الصبر ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1706
«إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم فمن صبر فله الصبر ومن جزع فله الجزع»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، پس جس نے (ان آزمائشوں پر) صبر کیا اس کے لیے صبر کا (بہترین اجر) ہے، اور جس نے بے صبری دکھائی اس کے لیے بے صبری کا (وبال) ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن محمود بن لبيد. الصحيحة 146.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں