صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1709. إن الله تعالى إذا أراد رحمة أمة من عباده قبض ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی امت ....
حدیث نمبر: 1707
«إن الله تعالى إذا أراد رحمة أمة من عباده قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها وإذا أراد هلكة أمة عذبها ونبيها حي فأهلكها وهو ينظر فأقر عينه بهلكتها حين كذبوه وعصوا أمره»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کو اس سے پہلے وفات دے دیتا ہے، اور اسے اس امت کے لیے آگے پیش خیمہ اور میرِ سامان بنا دیتا ہے۔ اور جب اللہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں اس حالت میں عذاب دیتا ہے کہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے، پس وہ انہیں اس کے سامنے ہلاک کر دیتا ہے اور ان کی ہلاکت کے ذریعے اس نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1707]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کو اس سے پہلے وفات دے دیتا ہے، اور اسے اس امت کے لیے آگے پیش خیمہ اور میرِ سامان بنا دیتا ہے۔ اور جب اللہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں اس حالت میں عذاب دیتا ہے کہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے، پس وہ انہیں اس کے سامنے ہلاک کر دیتا ہے اور ان کی ہلاکت کے ذریعے اس نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] 1 عن أبي موسى. مختصر مسلم 1596.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1710. إن الله إذا استودع شيئا حفظه
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جب کوئی چیز امانت کے ....
حدیث نمبر: 1708
«إن الله إذا استودع شيئا حفظه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جب کوئی چیز امانت کے طور پر کی جاتی ہے تو وہ اس کی (بہترین) حفاظت فرماتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1708]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جب کوئی چیز امانت کے طور پر کی جاتی ہے تو وہ اس کی (بہترین) حفاظت فرماتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حب هق] عن ابن عمر. الكلم 168، الصحيحة 14.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1711. إن الله إذا أطعم نبيا طعمة فهي للذي يقوم من ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو کوئی روزی (جائیداد ....
حدیث نمبر: 1709
«إن الله إذا أطعم نبيا طعمة فهي للذي يقوم من بعده»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو کوئی روزی (جائیداد یا مال) عطا فرماتا ہے، تو وہ (اس کی وفات کے بعد) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا جانشین (یعنی خلیفہ) بنتا ہے (اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1709]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو کوئی روزی (جائیداد یا مال) عطا فرماتا ہے، تو وہ (اس کی وفات کے بعد) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا جانشین (یعنی خلیفہ) بنتا ہے (اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ] عن أبي بكر. الإرواء 1241.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1712. إن الله تعالى إذا أنزل سطواته على أهل نقمته فوافت ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب غضب کے مستحق لوگوں پر اپنے ....
حدیث نمبر: 1710
«إن الله تعالى إذا أنزل سطواته على أهل نقمته فوافت آجال قوم صالحين فأهلكوا بهلاكهم ثم يبعثون على نياتهم وأعمالهم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب غضب کے مستحق لوگوں پر اپنے عذاب نازل فرماتا ہے اور اسی دوران کچھ نیک لوگوں کی موت کا وقت بھی آ جاتا ہے، تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پھر (قیامت کے دن) وہ اپنی نیتوں اور اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1710]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب غضب کے مستحق لوگوں پر اپنے عذاب نازل فرماتا ہے اور اسی دوران کچھ نیک لوگوں کی موت کا وقت بھی آ جاتا ہے، تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پھر (قیامت کے دن) وہ اپنی نیتوں اور اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هب] عن عائشة. الصحيحة 1622: حب.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1713. إن الله تعالى إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام ....
حدیث نمبر: 1711
«إن الله تعالى إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر النعمة عليه ويكره البؤس والتباؤس ويبغض السائل الملحف ويحب الحيي العفيف المتعفف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام کرتا ہے تو اسے پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر مفلسی کا اظہار کرنے کو ناپسند کرتا ہے، چمٹ کر (اصرار سے) مانگنے والے سائل سے بغض رکھتا ہے، اور حیا دار، پاک دامن اور سوال کرنے سے بچنے والے کو پسند کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1711]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام کرتا ہے تو اسے پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر مفلسی کا اظہار کرنے کو ناپسند کرتا ہے، چمٹ کر (اصرار سے) مانگنے والے سائل سے بغض رکھتا ہے، اور حیا دار، پاک دامن اور سوال کرنے سے بچنے والے کو پسند کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة 1320.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1714. إن الله إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر اپنی کوئی نعمت ....
حدیث نمبر: 1712
«إن الله إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر نعمته على عبده»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر اپنی کوئی نعمت نازل فرماتا ہے تو اسے یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1712]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر اپنی کوئی نعمت نازل فرماتا ہے تو اسے یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب هق] عن عمران بن حصين. الصحيحة 1290.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1715. إن الله إذا كان يوم القيامة ينزل إلى العباد ليقضي ....
بلاشبہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ....
حدیث نمبر: 1713
«إن الله إذا كان يوم القيامة ينزل إلى العباد ليقضي بينهم وكل أمة جاثية فأول من يدعو به رجل جمع القرآن ورجل قتل في سبيل الله ورجل كثير المال فيقول الله للقارئ: ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت بما علمت؟ قال: كنت أقوم به آناء الليل وآناء النهار فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله له: بل أردت أن يقال فلان قارئ فقد قيل ذلك; ويؤتى بصاحب المال فيقول الله له: ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد؟ قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت فيما آتيتك؟ قال: كنت أصل الرحم وأتصدق فيقول الله له: كذبت وتقول الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال: فلان جواد فقد قيل ذلك; ويؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقول الله: في ماذا قتلت؟ فيقول: أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك; يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی، تو سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں وہ شخص ہوگا جس نے قرآن یاد کیا، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا اور وہ شخص جو بہت مالدار تھا۔ اللہ تعالیٰ قاریِ قرآن سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے وہ نہیں سکھایا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں دن رات اس کے ذریعے قیام کرتا تھا۔ تو اللہ اسے فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا قاری ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھ پر اتنی وسعت نہیں کی تھی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں چھوڑا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا، تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں مارا گیا، اللہ اس سے پوچھے گا: تو کس لیے قتل ہوا؟ وہ کہے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، تو میں نے لڑائی کی یہاں تک کہ مارا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ فرشتے بھی اسے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تو نے تو یہ چاہا تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اے ابو ہریرہ! یہی وہ تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1713]
”بلاشبہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی، تو سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں وہ شخص ہوگا جس نے قرآن یاد کیا، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا اور وہ شخص جو بہت مالدار تھا۔ اللہ تعالیٰ قاریِ قرآن سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے وہ نہیں سکھایا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں دن رات اس کے ذریعے قیام کرتا تھا۔ تو اللہ اسے فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا قاری ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھ پر اتنی وسعت نہیں کی تھی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں چھوڑا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا، تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں مارا گیا، اللہ اس سے پوچھے گا: تو کس لیے قتل ہوا؟ وہ کہے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، تو میں نے لڑائی کی یہاں تک کہ مارا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ فرشتے بھی اسے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تو نے تو یہ چاہا تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اے ابو ہریرہ! یہی وہ تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ت ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب 20.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1716. إن الله أذن لي أن أحدث عن ديك قد مرقت ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ....
حدیث نمبر: 1714
"إن الله أذن لي أن أحدث عن ديك قد مرقت رجلاه الأرض وعنقه مثنية تحت العرش وهو يقول: سبحانك ما أعظمك!
فيرد عليه: لا يعلم ذلك من حلف بي كاذبا"
فيرد عليه: لا يعلم ذلك من حلف بي كاذبا"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ایک ایسے مرغ (کی شکل والے فرشتے) کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین کی گہرائیوں کو پار کر چکے ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے مڑی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہا ہے: «سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ» (اے اللہ!) تو پاک ہے، تیری عظمت کس قدر بڑی ہے۔ تو اسے (اللہ کی طرف سے) جواب دیا جاتا ہے کہ: اس حقیقت کو وہ شخص نہیں جانتا جو جھوٹے طور پر میری قسم اٹھاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1714]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ایک ایسے مرغ (کی شکل والے فرشتے) کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین کی گہرائیوں کو پار کر چکے ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے مڑی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہا ہے: «سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ» (اے اللہ!) تو پاک ہے، تیری عظمت کس قدر بڑی ہے۔ تو اسے (اللہ کی طرف سے) جواب دیا جاتا ہے کہ: اس حقیقت کو وہ شخص نہیں جانتا جو جھوٹے طور پر میری قسم اٹھاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [أبو الشيخ في العظمة طس ك] عن أبي هريرة. الصحيحة 150.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1717. إن الله أرسلني مبلغا ولم يرسلني متعنتا
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (دین کا) پیغام پہنچانے والا ....
حدیث نمبر: 1715
«إن الله أرسلني مبلغا ولم يرسلني متعنتا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (دین کا) پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور مجھے مشقت میں ڈالنے والا (یا خوامخواہ کی سختی کرنے والا) بنا کر نہیں بھیجا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1715]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (دین کا) پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور مجھے مشقت میں ڈالنے والا (یا خوامخواہ کی سختی کرنے والا) بنا کر نہیں بھیجا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن عائشة. الصحيحة 1516: ت، حم، جابر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
1718. إن الله استقبل بي الشام وولى ظهري اليمن وقال لي: ....
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف اور ....
حدیث نمبر: 1716
«إن الله استقبل بي الشام وولى ظهري اليمن وقال لي: يا محمد إني جعلت لك ما تجاهك غنيمة ورزقا وما خلف ظهرك مددا ولا يزال الإسلام يزيد وينقص الشرك وأهله حتى تسير المرأتان لا تخشيان إلا جورا والذي نفسي بيده لا تذهب الأيام والليالي حتى يبلغ هذا الدين مبلغ هذا النجم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف اور میری پیٹھ یمن کی جانب کی، اور مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں نے آپ کے سامنے والے حصے کو آپ کے لیے مالِ غنیمت اور رزق بنا دیا ہے، اور آپ کی پشت کے حصے کو آپ کے لیے مددگار بنا دیا ہے۔ اسلام ہمیشہ بڑھتا رہے گا اور شرک اور مشرکین گھٹتے رہیں گے، یہاں تک کہ دو عورتیں اکٹھی سفر کریں گی اور انہیں کسی ظلم کے سوا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ یہ دین وہاں تک نہ پہنچ جائے جہاں تک یہ ستارہ پہنچتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1716]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف اور میری پیٹھ یمن کی جانب کی، اور مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں نے آپ کے سامنے والے حصے کو آپ کے لیے مالِ غنیمت اور رزق بنا دیا ہے، اور آپ کی پشت کے حصے کو آپ کے لیے مددگار بنا دیا ہے۔ اسلام ہمیشہ بڑھتا رہے گا اور شرک اور مشرکین گھٹتے رہیں گے، یہاں تک کہ دو عورتیں اکٹھی سفر کریں گی اور انہیں کسی ظلم کے سوا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ یہ دین وہاں تک نہ پہنچ جائے جہاں تک یہ ستارہ پہنچتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن الله/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة 35.»
قال الشيخ الألباني: صحيح