صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7851. يا أبي: إن ربي تبارك وتعالى أرسل إلي أن اقرأ ....
اے ابی! میرے رب تبارک و تعالیٰ نے میری طرف ....
حدیث نمبر: 7841
«يا أبي: إن ربي تبارك وتعالى أرسل إلي أن اقرأ القرآن على حرف فرددت إليه: أن هون على أمتي فأرسل إلي الثانية أن اقرأه على حرفين فرددت إليه أن هون على أمتي فأرسل إلي الثالثة: أن اقرأه على سبعة أحرف ولك بكل ردة رددتها مسألة تسألنيها فقلت: اللهم اغفر لأمتي اللهم اغفر لأمتي وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي فيه الخلق كلهم حتى إبراهيم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابی! میرے رب تبارک و تعالیٰ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ قرآن ایک ہی قراءت پر پڑھا جائے، تو میں نے جواب بھیجا: میری امت پر آسانی فرما۔ پھر دوبارہ پیغام بھیجا کہ اسے دو قراءتوں پر پڑھا جائے، تو میں نے پھر جواب بھیجا: میری امت پر آسانی فرما۔ پھر تیسری بار پیغام بھیجا کہ اسے سات قراءتوں پر پڑھا جائے، اور ہر بار جو تم نے جواب بھیجا اس کے بدلے تمہیں ایک دعا مانگنے کا حق ہے جو تم مجھ سے مانگ سکتے ہو، تو میں نے کہا: اے اللہ! میری امت کو بخش دے، اے اللہ! میری امت کو بخش دے، اور تیسری دعا کو میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر دیا جس دن ساری مخلوق میری طرف رجوع کرے گی، حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7841]
”اے ابی! میرے رب تبارک و تعالیٰ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ قرآن ایک ہی قراءت پر پڑھا جائے، تو میں نے جواب بھیجا: میری امت پر آسانی فرما۔ پھر دوبارہ پیغام بھیجا کہ اسے دو قراءتوں پر پڑھا جائے، تو میں نے پھر جواب بھیجا: میری امت پر آسانی فرما۔ پھر تیسری بار پیغام بھیجا کہ اسے سات قراءتوں پر پڑھا جائے، اور ہر بار جو تم نے جواب بھیجا اس کے بدلے تمہیں ایک دعا مانگنے کا حق ہے جو تم مجھ سے مانگ سکتے ہو، تو میں نے کہا: اے اللہ! میری امت کو بخش دے، اے اللہ! میری امت کو بخش دے، اور تیسری دعا کو میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر دیا جس دن ساری مخلوق میری طرف رجوع کرے گی، حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7841]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م] عن أبي. صحيح أبي داود 1328.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7852. يا أبي: إنه أنزل القرآن على سبعة أحرف كلهم شاف ....
اے ابی! قرآن سات قراءتوں پر نازل کیا گیا ہے، ....
حدیث نمبر: 7842
«يا أبي: إنه أنزل القرآن على سبعة أحرف كلهم شاف كاف»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابی! قرآن سات قراءتوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7842]
”اے ابی! قرآن سات قراءتوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7842]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ن] عن أبي. صحيح أبي داود 1327.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7853. يا أبي: إني أقرئت القرآن فقيل لي: على حرف أو ....
اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا ....
حدیث نمبر: 7843
" يا أبي: إني أقرئت القرآن فقيل لي: على حرف أو حرفين؟ فقال الملك الذي معي: قل على حرفين قلت: على حرفين فقيل لي: على حرفين أو ثلاثة؟ فقال الملك الذي معي قل: على ثلاثة قلت: على ثلاثة حتى بلغ سبعة أحرف ثم قال: ليس منها إلا شاف كاف إن قلت: سميعا عليما وإن قلت: عزيزا حكيما ما لم تختم آية عذاب برحمة أو آية رحمة بعذاب"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا گیا: ایک قراءت پر یا دو پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: دو پر کہو۔ میں نے کہا: دو پر۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دو پر یا تین پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: تین پر کہو۔ میں نے کہا: تین پر، یہاں تک کہ سات قراءتوں تک پہنچ گیا۔ پھر فرمایا گیا: ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے، خواہ تم آیت کے آخر میں سمیعاً علیماً کہو یا عزیزاً حکیماً کہو، جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر یا رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7843]
”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا تو مجھ سے کہا گیا: ایک قراءت پر یا دو پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: دو پر کہو۔ میں نے کہا: دو پر۔ پھر مجھ سے کہا گیا: دو پر یا تین پر؟ تو میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: تین پر کہو۔ میں نے کہا: تین پر، یہاں تک کہ سات قراءتوں تک پہنچ گیا۔ پھر فرمایا گیا: ان میں سے ہر ایک شفا بخش اور کافی ہے، خواہ تم آیت کے آخر میں سمیعاً علیماً کہو یا عزیزاً حکیماً کہو، جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر یا رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7843]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د] عن أبي. صحيح أبي داود 1327: حم، الطحاوي في [المشكل] .»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7854. يا إخواني! لمثل هذا اليوم فأعدوا
اے میرے بھائیو! ایسے ہی دن کے لیے تیاری کرو۔
حدیث نمبر: 7844
«يا إخواني! لمثل هذا اليوم فأعدوا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے میرے بھائیو! ایسے ہی دن کے لیے تیاری کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7844]
”اے میرے بھائیو! ایسے ہی دن کے لیے تیاری کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7844]
تخریج الحدیث: «(حسن) [هـ هق] عن البراء. الصحيحة 1751.»
قال الشيخ الألباني: حسن
7855. يا أسامة! أتشفع في حد من حدود الله؟!
اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی ....
حدیث نمبر: 7845
«يا أسامة! أتشفع في حد من حدود الله؟!»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو؟!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7845]
”اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو؟!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7845]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق د] عن عائشة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7856. يا أسامة! كيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت ....
اے اسامہ! جب لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (اللہ کے سوا ....
حدیث نمبر: 7846
«يا أسامة! كيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة؟!»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اسامہ! جب «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) قیامت کے دن آئے گا تو تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7846]
”اے اسامہ! جب «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) قیامت کے دن آئے گا تو تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7846]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن جندب [الطيالسي البزار] عن أسامة بن زيد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7857. يا أسماء! إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن ....
اے اسماء! جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو اس ....
حدیث نمبر: 7847
«يا أسماء! إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها شيء إلا هذا وهذا» - وأشار إلى وجهه وكفيه -
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اسماء! جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کا کوئی حصہ نظر آنا درست نہیں سوائے اس کے اور اس کے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7847]
”اے اسماء! جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کا کوئی حصہ نظر آنا درست نہیں سوائے اس کے اور اس کے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7847]
تخریج الحدیث: «(حسن) [د] عن عائشة. الإرواء 1795، المشكاة 4372، حجاب المرأة ص 23.»
قال الشيخ الألباني: حسن
7858. يا أشج! إن فيك لخصلتين يحبهما الله: الحلم والتؤدة
اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند ....
حدیث نمبر: 7848
«يا أشج! إن فيك لخصلتين يحبهما الله: الحلم والتؤدة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے: بردباری اور سنجیدگی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7848]
”اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے: بردباری اور سنجیدگی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7848]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هـ] عن أبي سعيد. حم 3/23، م 1/36 - 37، م - ابن عباس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7859. يا أعرابي! إن الله غضب على سبطين من بني إسرائيل ....
اے دیہاتی! اللہ نے بنی اسرائیل کے دو قبیلوں پر ....
حدیث نمبر: 7849
«يا أعرابي! إن الله غضب على سبطين من بني إسرائيل فمسخهم دواب يدبون في الأرض فلا أدري لعل هذا منها يعني الضب فلست آكلها ولا أنهى عنها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے دیہاتی! اللہ نے بنی اسرائیل کے دو قبیلوں پر غضب فرمایا اور انہیں ایسے جانوروں میں مسخ کر دیا جو زمین پر رینگتے ہیں، مجھے نہیں معلوم شاید یہ (یعنی ضب) انہی میں سے ہو، اس لیے میں اسے نہیں کھاتا اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7849]
”اے دیہاتی! اللہ نے بنی اسرائیل کے دو قبیلوں پر غضب فرمایا اور انہیں ایسے جانوروں میں مسخ کر دیا جو زمین پر رینگتے ہیں، مجھے نہیں معلوم شاید یہ (یعنی ضب) انہی میں سے ہو، اس لیے میں اسے نہیں کھاتا اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7849]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أبي سعيد. مختصر مسلم 1324.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7860. * ... خير الرفقاء اربعة ... وخير السرايا أربعمائة وخير ....
بہترین ساتھی چار ہیں... اور بہترین دستہ چار سو کا ....
حدیث نمبر: 7850
«" *» ... خير الرفقاء اربعة... وخير السرايا أربعمائة وخير الجيوش أربعة آلاف ولن يغلب إثنا عشر ألفًا من قلة"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بہترین ساتھی چار ہیں... اور بہترین دستہ چار سو کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، اور بارہ ہزار کی تعداد کبھی کمی کی وجہ سے شکست نہیں کھائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7850]
”بہترین ساتھی چار ہیں... اور بہترین دستہ چار سو کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، اور بارہ ہزار کی تعداد کبھی کمی کی وجہ سے شکست نہیں کھائے گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7850]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هـ] عن أنس. الصحيحة 986.»
قال الشيخ الألباني: صحيح