صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7901. * ... لا تقوموا حتى تروني
جب تک تم مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7891
«*... لا تقوموا حتى تروني»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جب تک تم مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7891]
”جب تک تم مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7891]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت ك] عن جابر. الإرواء 228.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7902. يا بلال! أقم الصلاة أرحنا بها
اے بلال! نماز کھڑی کرو، اس کے ذریعے ہمیں راحت ....
حدیث نمبر: 7892
«يا بلال! أقم الصلاة أرحنا بها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بلال! نماز کھڑی کرو، اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7892]
”اے بلال! نماز کھڑی کرو، اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7892]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د] عن رجل. المشكاة 1253.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7903. يا بلال! قم فأذن: لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن ....
اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کر دو: جنت میں ....
حدیث نمبر: 7893
«يا بلال! قم فأذن: لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کر دو: جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، اور اللہ اس دین کو بدکار آدمی کے ذریعے بھی تقویت پہنچاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7893]
”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کر دو: جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، اور اللہ اس دین کو بدکار آدمی کے ذریعے بھی تقویت پہنچاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7893]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7904. يا بلال! بم سبقتني إلى الجنة؟ ما دخلت الجنة قط ....
اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں ....
حدیث نمبر: 7894
" يا بلال! بم سبقتني إلى الجنة؟ ما دخلت الجنة قط إلا سمعت خشخشتك أمامي إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي فأتيت على قصر مربع مشرف من ذهب فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لرجل من قريش فقلت: أنا قرشي لمن هذا القصر؟ قالوا لرجل من أمة محمد فقلت: أنا محمد لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی۔ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، پھر میں ایک چوکور، بلند و بالا سونے کے محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو قریشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7894]
”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی۔ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، پھر میں ایک چوکور، بلند و بالا سونے کے محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو قریشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7894]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت حب ك] عن بريدة. صحيح الترغيب 196، 1/313.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7905. يا بنت أبي أمية! سألت عن الركعتين بعد العصر وإنه ....
اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی ....
حدیث نمبر: 7895
«يا بنت أبي أمية! سألت عن الركعتين بعد العصر وإنه أتاني ناس من عبد القيس فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، عبدالقیس قبیلے کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مشغول کر دیا تھا، پس یہی وہ رکعتیں ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7895]
”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، عبدالقیس قبیلے کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مشغول کر دیا تھا، پس یہی وہ رکعتیں ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7895]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ د] عن أم سلمة. صحيح أبي داود 1155، الإرواء 440: م.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7906. يا بني بياضة! أنكحوا أبا هند وانكحوا إليه
اے بنو بیاضہ! ابوہند سے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو ....
حدیث نمبر: 7896
«يا بني بياضة! أنكحوا أبا هند وانكحوا إليه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو بیاضہ! ابوہند سے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو اور ان کے ہاں اپنے بیٹوں کا نکاح کراؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7896]
”اے بنو بیاضہ! ابوہند سے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو اور ان کے ہاں اپنے بیٹوں کا نکاح کراؤ۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7896]
تخریج الحدیث: «(حسن) [د ك] عن أبي هريرة. الصحيحة 2446: تخ، ع، ابن الأعرابي، حب، عد.»
قال الشيخ الألباني: حسن
7907. يا بني سلمة! ألا تحتسبون آثاركم إلى المسجد؟
اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد تک اپنے قدموں کے ....
حدیث نمبر: 7897
«يا بني سلمة! ألا تحتسبون آثاركم إلى المسجد؟»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد تک اپنے قدموں کے نشانات کا ثواب نہیں سمجھتے؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7897]
”اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد تک اپنے قدموں کے نشانات کا ثواب نہیں سمجھتے؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7897]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم خ هـ] عن أنس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7908. يا بني سلمة! دياركم تكتب آثاركم
اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں ....
حدیث نمبر: 7898
«يا بني سلمة! دياركم تكتب آثاركم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7898]
”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7898]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م] عن جابر. المشكاة 700.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7909. يا بني عبد المطلب! سقايتكم ولولا أن يغلبكم عليها الناس ....
اے بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانا تمہارا ہی کام ....
حدیث نمبر: 7899
«يا بني عبد المطلب! سقايتكم ولولا أن يغلبكم عليها الناس لنزعت»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانا تمہارا ہی کام رہے گا، اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ اس میں تم پر غالب آ جائیں گے تو میں خود بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7899]
”اے بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانا تمہارا ہی کام رہے گا، اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ اس میں تم پر غالب آ جائیں گے تو میں خود بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7899]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت] عن علي. حجة النبي صلى الله عليه وسلم ص 91: حم، مختصر مسلم 707 - جابر1.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7910. يا بني عبد مناف! لا تمنعوا أحدا طاف بهذا البيت ....
اے بنو عبدِ مناف! کسی کو بھی اس گھر کعبہ ....
حدیث نمبر: 7900
«يا بني عبد مناف! لا تمنعوا أحدا طاف بهذا البيت وصلى أية ساعة شاء من ليل أو نهار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے بنو عبدِ مناف! کسی کو بھی اس گھر کعبہ کا طواف کرنے اور جس گھڑی چاہے رات یا دن میں نماز پڑھنے سے نہ روکو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7900]
”اے بنو عبدِ مناف! کسی کو بھی اس گھر کعبہ کا طواف کرنے اور جس گھڑی چاہے رات یا دن میں نماز پڑھنے سے نہ روکو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7900]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم 4 حب ك] عن جبير بن مطعم. المشكاة 1045، الإرواء 481.»
قال الشيخ الألباني: صحيح