🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2. ما أسند تميم الداري
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ طِيبَةَ الْمَدِينَةِ، وَمَا نَقَبٌ مِنْ نِقَابِهَا، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ أَبَدًا» وَقَالَ: أَبُو كُرَيْبٍ عُثْمَانُ بْنُ زَيْدٍ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طیبہ (مدینہ) کے ہر راستے پر ایک فرشتہ اپنی تلوار سونتے کھڑا ہے، دجال اس میں کبھی داخل نہیں ہو سکے گا“ اور ابوکریب نے (سند میں) عثمان بن زید کہا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1269»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَاسْتَقْبَلَنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْ وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ حَدَثَتْ، وَلَا لِرَهْبَةٍ إِلَّا لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِي بِهِ، تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَتَانِي فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا، مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ، وَهُمَا حَيَّانِ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، صَادَفُوا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَهُمْ قَرِيبًا مِنْ غُرُوبِ الشَّمْسِ، إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا نَحْنُ بِدَابَّةٍ أَهْلَبَ لَا يُعْرَفُ قُبُلُهَا، مِنْ دُبُرِهَا، قُلْنَا مَا أَنْتِ أَيَّتُهَا الدَّابَّةِ؟ فَكَلَّمَتْنَا بِإِذْنِ اللهِ بِلِسَانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: إِلَيْكُمْ عَنِّي عَلَيْكُمْ بِذَاكَ الدَّيْرِ فِي أَقْصَى الْجَزِيرَةِ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَتَيْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْظَمَ رَجُلٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ خَلْقًا، وأَجْسَمَهُ جِسْمًا، وَإِذَا هُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ نُخَامَةٌ فِي جِدَارٍ مُجَصَّصٍ، وَإِذَا يَدَاهُ مَغْلُولتانِ إِلَى عُنُقِهِ، وَإِذَا رِجْلَاهُ مَشْدُودَتَانِ بِالْكُبُولِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، إِلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَمَّا خَبَرِي فَقَدْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَخْبِرُونِي عَنْ خَبَرِكُمْ، مَا أَوْقَعَكُمْ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ؟ وَهَذِهِ الْجَزِيرَةُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا آدَمِيٌّ مُنْذُ صِرْتُ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَنَا: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ نَضَبَ مَاؤُهَا؟ وَهَلْ بَدَأَ فِيهَا مِنَ الْعَجَائِبِ؟ قُلْنَا لَهُ: لَا، قَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ مَا فَعَلَتْ؟، قُلْنَا لَهُ عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا؟ قَالَ: هَلْ يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا؟، قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَوْفَ يَغُورُ عَلَيْهَا مَاؤُهَا، وَلَا يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ مَا فَعَلَ؟، قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يُثْمِرُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ مَا فَعَلَ؟، قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ ظَهَرَ بَعْدُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَتْ مَعَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: مِنْهُمْ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّقَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ثَلَاثًا، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا خَبَرَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونِي؟ قُلْنَا: لَوْ عَرَفْنَاكَ مَا سَأَلْنَاكَ، قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَإِذَا خَرَجْتُ وَطِئْتُ جَزَائِرَ الْعَرَبِ كُلِّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، كُلَّمَا أَرَدْتُهما، اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ مَعَهُ السَّيْفُ صَلْتًا فَرَدَّنِي عَنْهَا، - قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: قَالَ عَامِرٌ: قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ إِنَّ هَذِهِ طَيْبَةُ» ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ إِنَّهُ فِي نَحْوِ الشَّامِ» ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ ارْتَجَّ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «بَلْ هُوَ فِي الْيَمَنِ» ثَلَاثًا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، وَارْتَجَّ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ، يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا يُقَالُ لَهَا رَسْتَقْبَاذُ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، مَعَهُ نَهْرَانِ، نَهَرٌ مِنْ مَاءٍ، وَنَهَرٌ مِنْ نَارٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْمَاءَ فَلَا يَدْخُلْهُ فَإِنَّهُ نَارٌ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ ادْخُلِ النَّارَ فَلْيَدْخُلْها فَإِنَّهُ مَاءٌ"
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو یہ اعلان کرتے سنا: ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“ تو میں انصار کی کچھ عورتوں کے ساتھ نکلی یہاں تک کہ ہم مسجد آ گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے، اور ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی نئی خواہش یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی حدیث کی وجہ سے جو تمیم داری نے مجھے سنائی، وہ میرے پاس آیا، مسلمان ہوا اور بیعت کی، تو اس نے مجھے بتایا کہ وہ تیس آدمیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا، جو لخم اور جذام قبیلوں سے تھے، اور یہ دونوں یمن کے عرب قبیلوں میں سے ہیں، تو انہیں سمندر نے موجزن حالت میں پکڑ لیا، اور لہریں انہیں ایک مہینے تک ان سے کھیلتی رہیں، پھر انہیں سورج ڈوبنے کے وقت کے قریب سمندر کے ایک جزیرے پر لا پھینکا، تو ہم نے وہاں ایک بہت بال والا جانور دیکھا جس کا آگا پیچھے سے پہچانا نہیں جا سکتا تھا، ہم نے کہا: اے جانور! تو کیا ہے؟ تو اس نے اللہ کے حکم سے فصیح و بلیغ زبان میں ہم سے بات کی اور کہا: میں جساسہ ہوں، ہم نے کہا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجھ سے آگے بڑھو، اس جزیرے کے آخری کونے میں اس خانقاہ کی طرف جاؤ، وہاں ایک آدمی ہے جو تمہاری خبر سننے کا بہت مشتاق ہے، تو ہم اس خانقاہ کی طرف گئے، وہاں ہم نے ایک ایسا آدمی دیکھا جو جثے میں سب سے بڑا اور جسم میں سب سے ضخیم تھا جو میں نے کبھی دیکھا، اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی تھی، گویا وہ پلستر کی گئی دیوار میں بلغم کا ایک قطرہ ہو، اور اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ زنجیروں میں بندھے تھے، اور اس کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے قدموں تک بیڑیوں میں جکڑی ہوئی تھیں، تو ہم نے اس سے کہا: اے آدمی! تو کون ہے؟ اس نے کہا: میرا حال تو تم پر ظاہر ہو ہی چکا، لیکن مجھے اپنا حال بتاؤ، تمہیں اس جزیرے میں کیا لایا؟ کیونکہ جب سے میں یہاں آیا ہوں کوئی انسان اس جزیرے تک نہیں پہنچا، پھر اس نے ہم سے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ کہ اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم اس کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کا پانی خشک ہو گیا ہے؟ اور کیا اس میں کوئی عجیب بات شروع ہو گئی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: عنقریب ایسا ہو گا، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے زُغَر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم اس کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کے باشندے اس چشمے کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: خبردار! عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے باشندے اس سے کھیتی نہیں کر پائیں گے، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ کہ ان کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم ان کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ پھل دیتی ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: خبردار! وہ عنقریب پھل نہیں دیں گی، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے اُمّی نبی کے بارے میں بتاؤ کہ ان کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم ان کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ ظاہر ہو چکے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: عربوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے کہا: ان میں سے کچھ نے ان سے لڑائی کی اور کچھ نے ان کی تصدیق کی، تو اس نے کہا: جس نے ان کی تصدیق کی اس کے لیے یہی بہتر ہے، یہ بات اس نے تین بار کہی، پھر ہم نے کہا: اے آدمی! ہمیں اپنا حال بتاؤ، تو اس نے کہا: کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ ہم نے کہا: اگر ہم تمہیں پہچانتے تو تم سے نہ پوچھتے، اس نے کہا: میں دجال ہوں، قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے، تو جب میں نکلوں گا تو مکہ اور طیبہ کے سوا عرب کے تمام جزیروں کو روند ڈالوں گا، جب بھی میں ان دونوں کا ارادہ کروں گا، ایک فرشتہ میرے سامنے کھلی تلوار لیے کھڑا ہو کر مجھے وہاں سے لوٹا دے گا“ ابوالاشہب کہتے ہیں: عامر (شعبی) نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا: ”سن لو، یہ طیبہ ہے“ تین بار، پھر فرمایا: ”سن لو، وہ (دجال) شام کی طرف ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دیر بےہوشی طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنبش ہوئی، پھر یہ کیفیت دور ہوئی، پھر فرمایا: ”بلکہ وہ یمن میں ہے“ تین بار، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دیر بےہوشی طاری ہوئی اور جنبش ہوئی، پھر یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، وہ اس وقت نکلے گا جب اصفہان نامی شہر کی ایک بستی سے نکلے گا جسے رستقباذ کہا جاتا ہے، وہ جب نکلے گا تو اس کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے جو طیلسان (چادریں) پہنے ہوں گے، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ایک پانی کی نہر اور ایک آگ کی نہر، تو تم میں سے جو کوئی وہ وقت پائے، اور اسے کہا جائے پانی میں داخل ہو، تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ حقیقت میں آگ ہے، اور جب اسے کہا جائے آگ میں داخل ہو، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ حقیقت میں پانی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1270»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ الْمِشْرَقِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ قَالَ: مِنْ نَحْوِ الْعِرَاقِ مَا هُوَ مِنْ نَحْوِ الشَّامِ مَا هُوَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ عراق کی جانب سے ہے، وہ شام کی جانب سے ہے“ اور پوری حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1271»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيَّ فَيَمُوتُ، قَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ النَّاسِ، بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی میرے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، پھر وہ مر جاتا ہے (کیا حکم ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے جینے اور مرنے دونوں کے سب سے زیادہ حقدار ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 56، حدیث 1272»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَوْهَبٍ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا السُّنَّةُ، فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک کافر آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو اس میں سنت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (مسلمان) اس کے جینے اور مرنے دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 56، حدیث 1273»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مشرکین میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے (کیا حکم ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (مسلمان) اس کے جینے اور مرنے دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1274»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ، أَهْدَى لَهُ رَاوِيَةً، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ» ، قَالَ: فَأَبِيعُها؟ قَالَ: «إِنَّهُ حَرَامٌ شِرَاؤُهَا، وَثَمَنُهَا»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا کرتے تھے، تو جس سال شراب حرام کی گئی، انہوں نے پھر بھی ایک مشکیزہ ہدیہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”یہ تو حرام کر دی گئی ہے“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے بیچ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خریدنا اور اس کی قیمت لینا دونوں حرام ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1275»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ، وَيَقْطَعُونَ أَذْنَابَ الْغَنَمِ، قَالَ: «كُلُّ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيِّ، فَهُوَ مَيِّتٌ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ اونٹوں کے کوہان کاٹ لیتے ہیں اور بکریوں کی دمیں کاٹ لیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ زندہ جانور سے کاٹا جائے وہ مردار ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1276»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُنَاسًا يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ، وَأَذْنَابَ الْغَنَمِ، وَهِي أَحْيَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ، وَهِي حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کچھ لوگ اونٹوں کے کوہان اور بکریوں کی دمیں ان کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹ لیتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ جانور سے اس کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹا جائے وہ مردار ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1277»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحِمْصِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً، وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ حَسَنَةً»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی دس بار گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ اولاد، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، تو اللہ اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1278»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں