المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. ما أسند تميم الداري
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 1266
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَا بَهْرَامَ الْإِيذَجِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: اسْتَقْطَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْضًا بِالشَّامِ قَبْلَ أَنْ تُفْتَحَ، فَأَعْطَانِيهَا فَفَتَحَهَا عُمَرُ فِي زَمَانِهِ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا، مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ ثُلُثَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ، وَثُلُثًا لِعِمَارَتِها، وَثُلُثًا لَنَا»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شام کی ایک زمین جاگیر کے طور پر مانگی، اس وقت جب وہ ابھی فتح نہیں ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے عطا فرما دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ فتح ہوئی تو میں ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں سے فلاں تک زمین عطا فرمائی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک تہائی مسافروں کے لیے، ایک تہائی اس کی آبادکاری کے لیے، اور ایک تہائی ہمارے لیے مقرر کر دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1279»
حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ عَافِيَةَ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أنَّ أَبَا يَحْيَى سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الدِّينُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ، حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَ الْمَدَرِ، وَبَيْتَ الْوَبَرِ، حَتَّى يُعِزَّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَيُذِلَّ الْكُفَّارَ» قَالَ تَمِيمٌ: «قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي قَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ، وَالشَّرَفُ، وَالْعِزُّ، وَأَصَابَ مَنْ ثَبَتَ مِنْهُمْ عَلَى الْكُفْرِ الذُّلُّ، وَالصَّغَارُ، وَالْجِزْيَةُ»
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے، یہاں تک کہ ہر مٹی کے گھر اور ہر بالوں کے خیمے میں داخل ہو گا، یہاں تک کہ اللہ اس کے ذریعے اسلام کو عزت دے گا اور کفار کو ذلیل کرے گا“ تمیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے یہ اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ان میں سے جس نے اسلام قبول کیا اسے بھلائی، شرف اور عزت ملی، اور جو کفر پر جما رہا اسے ذلت، پستی اور جزیہ ملا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1280»
حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَتَاهُ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ، وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ، فَقَالَ لِعُمَرَ: لِمَ ضَرَبْتَنِي؟ قَالَ: لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَإِنِّي" قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «إِنِّي لَيْسَ بِي إِيَّاكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ، يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعةِ، الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِيهَا، كَمَا وَصَلُوا بَيْنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانَ، وَفُلَانَ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ»
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: تمیم داری رضی اللہ عنہ نے خود مجھے بتایا - یا مجھے ان کے بارے میں بتایا گیا - کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کرنے کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، تو عمر ان کے پاس آئے اور انہیں دُرّے سے مارا، تو تمیم رضی اللہ عنہ نے، جبکہ وہ اپنی نماز میں تھے، انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جائیں، تو عمر بیٹھ گئے یہاں تک کہ تمیم فارغ ہوئے، تو انہوں نے عمر سے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں مارا؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ تم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں جن سے میں نے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ رکعتیں تم سے بہتر شخصیت کے ساتھ پڑھی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا مقصد تمہیں منع کرنا نہیں تھا اے گروہ، بلکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں جو عصر سے مغرب تک نماز پڑھتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اس وقت میں بھی داخل ہو جائیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، جیسے انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان کو ملا دیا، پھر کہیں گے: ہم نے فلاں اور فلاں کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1281»
3. أبو رفاعة العدوي واسمه تميم بن أسيد
سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ، ان کا نام تمیم بن اسید ہے
حدیث نمبر: 1269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: «كَانَ أَبُو رِفَاعَةَ يُسَخِّنُ الْمَاءَ لِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ يَقُولُ أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ مِنْ هَذَا، فَسَأُحْسِنُ مِنْ هَذَا فَيَتَوَضَّأُ، بِالْمَاءِ الْبَارِدِ»
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ”ابورفاعہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے لیے پانی گرم کرتے، پھر کہتے: اس سے اچھی طرح وضو کرو، اور میں اس (دوسرے پانی) سے اچھی طرح وضو کروں گا، پھر وہ خود ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1282»
حدیث نمبر: 1270
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو ظُفُرَ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ صِلَةُ بْنُ أَشْيَمٍ: «أُصِيبَ أَبُو رِفَاعَةَ، وَكُنَّا فِي غَزَاةٍ فَرَأَيْتُ كَأَنِّي أَرَى أَبَا رِفَاعَةَ عَلَى نَاقَةٍ سَرِيعَةٍ، وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ قَطُوفٍ، وَأَنَا عَلَى أَثَرِهِ فَيُعَرِّجُها، حَتَّى أَقُولَ الْآنَ أُسْمِعُهُ الصَّوْتَ، ثُمَّ يُسَرِّحُها فَتَنْطَلِقُ، وَأَتْبَعُهُ، فَأُوِّلَتْ رُؤْيَاي أَنَّهُ طَرِيقُ أَبِي رِفَاعَةَ آخُذُهُ، وَأَنَا أَكَدُّ الْعَمَلَ بَعْدَهُ كَدًّا»
صلہ بن اشیم بیان کرتے ہیں: ”ابورفاعہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، اور ہم ایک غزوے میں تھے، تو میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ابورفاعہ کو ایک تیز رفتار اونٹنی پر دیکھ رہا ہوں، اور میں ایک سست رفتار اونٹ پر ہوں، اور میں ان کے پیچھے ہوں، تو وہ اسے موڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ میں کہتا ہوں کہ اب میں اسے آواز سنا دوں گا، پھر وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو وہ آگے نکل جاتی ہے، اور میں ان کا پیچھا کرتا رہتا ہوں، تو میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر کی کہ یہ ابورفاعہ کا راستہ ہے جو میں اختیار کرتا ہوں، اور میں ان کے بعد سخت محنت کرتا ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1283»
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ الْعَدَوِيُّ:" انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ، ثُمَّ أَتَى بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا"
سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک اجنبی آدمی آیا ہے جو اپنے دین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا خطبہ چھوڑ دیا، پھر ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے میرے خیال میں لوہے کے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے، اور مجھے وہ چیزیں سکھانے لگے جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی تھیں، پھر اپنا خطبہ جاری رکھا اور اسے پورا کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1284»
4. تميم بن زيد أبو عباد الأنصاري ثم المازني
سیدنا تمیم بن زید انصاری مازنی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعباد
حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَبَدَأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ»
عباد بن تمیم اپنے والد سیدنا تمیم بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنا چہرہ اور اپنے بازو دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 60، حدیث 1285»
حدیث نمبر: 1273
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَلُولٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ بِالْمَاءِ عَلَى لِحْيَتِهِ، وَرِجْلَيْهِ»
عباد بن تمیم اپنے والد سیدنا تمیم بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنی داڑھی اور اپنے پیروں پر پانی سے مسح کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 60، حدیث 1286»
5. تميم بن عبد عمرو أبو الحسن المازني " وكان عاملا لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه على المدينة حين خرج إليه سهل بن حنيف "
سیدنا تمیم بن عبدعمرو مازنی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوالحسن، وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کے عامل تھے، جب سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے تھے
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ: «جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى اسْمُهُ تَمِيمُ بْنُ عَمْرٍو اسْتَعْمَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْمَدِينَةِ حِينَ خَرَجَ إِلَى الْعِرَاقِ حِينَ خَرَجَ إِلَيْهِ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ»
ابوالحسن مازنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عمرو بن یحییٰ کے دادا کا نام تمیم بن عمرو تھا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ پر عامل مقرر کیا جب وہ عراق کی طرف نکلے، اس وقت جب سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 60، حدیث 1287»
6. تميم بن يعار الأنصاري، ثم الخدري بدري
سیدنا تمیم بن یعار انصاری خدری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی
حدیث نمبر: 1275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ:" فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: تَمِيمُ بْنُ يُعَارٍ بْنُ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ"
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں، انصار میں سے، پھر بنی خدرہ بن عوف بن حارث بن خزرج میں سے: تمیم بن یُعار بن قیس بن عدی تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 61، حدیث 1288»