🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. دحية بن خليفة الكلبي
سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ بِدِمَشْقَ الْمَزَّةِ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: «وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّنِي أَرَاهُ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ» ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «اللهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ»
منصور کلبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ اپنی بستی دمشق کی مزہ سے رمضان میں (سفر پر) نکلے، قریہ عقبہ کی مسافت تک پہنچے، پھر روزہ افطار کر لیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ افطار کیا جبکہ بعض نے افطار کرنا ناپسند کیا۔ جب وہ اپنی بستی لوٹے تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! آج میں نے ایک ایسی بات دیکھی جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں دیکھوں گا: کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریقے سے منہ موڑ لیا“ — یہ بات وہ روزہ رکھنے والوں کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ پھر اسی موقع پر فرمایا: ”اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4182]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 224، حدیث 4197»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا، يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنُوا لِرَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ قَيْصَرُ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ: أَدْخِلْهُ، فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَإِذَا فِيهِ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ» فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطٌ، فَقَالَ: لَا تَقْرَإِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ، لَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ، قَالَ: فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيَهُ وَعَنْ قَوْلِهِ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ قَالَ الْأُسْقُفُّ: هُوَ وَاللهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى، وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ، قَالَ قَيْصَرُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ ومُتَّبِعُهُ، فَقَالَ قَيْصَرُ: أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وقَتَلَنِي الرُّومُ
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روم کے بادشاہ قیصر کے پاس ایک خط دے کر بھیجا، تو میں نے (دربان سے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کے لیے اجازت طلب کرو۔ چنانچہ قیصر کے پاس جایا گیا اور اس سے کہا گیا: دروازے پر ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہے، تو وہ اس سے گھبرا گئے، تو اس (بادشاہ) نے کہا: اسے اندر لاؤ۔ چنانچہ مجھے اس کے پاس لے گئے، اس کے پاس اس کے سردار (بطارقہ) موجود تھے، میں نے اسے خط دیا تو وہ اس کے سامنے پڑھا گیا، اس میں یہ تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد اللہ کے رسول کی طرف سے، روم کے حکمران قیصر کے نام۔“ اس پر اس کے ایک سرخ، نیلی آنکھوں والے اور سیدھے بالوں والے بھتیجے نے آواز نکالی اور کہا: آج خط مت پڑھو، اس نے اپنی ذات سے آغاز کیا ہے، اور 'روم کے حکمران' لکھا ہے، 'روم کا بادشاہ' نہیں لکھا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ خط پڑھا گیا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے، پھر اس نے انہیں حکم دیا تو وہ اس کے پاس سے نکل گئے۔ پھر اس نے مجھے بلا بھیجا، میں اس کے پاس گیا، اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتایا۔ پھر اس نے بشپ کو بلا بھیجا، وہ اس کے پاس آیا، اور وہ ان کے معاملات کا نگران تھا، وہ اسی کی رائے اور بات کی طرف رجوع کرتے تھے۔ جب اس نے خط پڑھا تو بشپ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی وہ ہے جس کی خوشخبری موسیٰ اور عیسیٰ نے ہمیں دی تھی، جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔ قیصر نے کہا: تو تم مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں تو اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی پیروی کرتا ہوں۔ قیصر نے کہا: میں جانتا ہوں کہ ایسا ہی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا، اگر میں ایسا کروں تو میری بادشاہت جاتی رہے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4183]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 225، حدیث 4198»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4184
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاطِي فَأَعْطَانِي قُبْطِيَّةً فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَتَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ لِتَخْتَمِرَ بِهَا» فَلَمَّا أَدْبَرَتُ قَالَ: «مُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَ صَدْعَتِهَا ثَوْبًا لَا تَصِفُهَا»
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبطی کپڑے (اپنے پاس سے) لیے اور مجھے ایک قبطیہ عطا فرمایا اور فرمایا: ”اسے دو حصوں میں پھاڑ لو، ایک سے قمیص بنا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو کہ وہ اس سے اوڑھنی بنائے۔“ جب میں پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو فرمایا: ”اپنی بیوی سے کہو کہ وہ اس کپڑے کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ اس کا بدن نمایاں نہ ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4184]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 225، حدیث 4199»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا، يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: «أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ صُوفٌ وخُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْهُمَا ذَكَّيْنَاهُمَا أَمْ لَا»
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونی جبہ اور موزے ہدیہ کیے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے، اور آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی کھال کسی ذبح شدہ (حلال جانور) کی ہے یا نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4185]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 225، حدیث 4200»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. دغفل بن حنظلة
سیدنا دغفل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4186
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ أَبِي هِلَالٍ الرَّاسِبِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى دَغْفَلٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِيَّةِ وَعَنْ أَنْسَابِ النَّاسِ، وَسَأَلَهُ عَنِ النُّجُومِ، فَإِذَا عَالِمٌ فَقَالَ: يَا دَغْفَلُ مِنْ أَيْنَ حَفِظْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: «حَفِظْتُ هَذَا بِلِسَانٍ سَئُولٍ وَقَلْبٍ عَقُولٍ وَإِنَّ آفَةَ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ» ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِيَزِيدَ فَعَلِّمْهُ الْعَرَبِيَّةَ وَأَنْسَابَ قُرَيْشٍ وَالنُّجُومَ
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دغفل کی طرف آدمی بھیجا اور ان سے عربی زبان، لوگوں کے نسب اور ستاروں کے بارے میں پوچھا، تو وہ (اس فن کے) عالم نکلے، تو انہوں نے کہا: اے دغفل! تم نے یہ کہاں سے یاد کیا؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنے والی زبان اور یاد رکھنے والے دل سے یاد کیا، اور علم کی آفت بھول جانا ہے۔ انہوں نے کہا: پھر یزید کو لے جاؤ اور اسے عربی، قریش کے نسب اور ستاروں کی تعلیم دو۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 226، حدیث 4201»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4187
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالُوا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: «تُوُفِّيِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً»
دغفل بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی جبکہ آپ کی عمر پینسٹھ سال تھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 226، حدیث 4202»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، قَالَا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ:" كَانَ عَلَى النَّصَارَى صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَكَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ فَمَرِضَ، فَقَالَ: لَئِنْ شَفَاهُ اللهُ لَيَزِيدَنَّ عَشْرًا، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ بَعْدَهُ، فَأَكَلَ اللَّحْمَ فَوَجِعَ، فَقَالَ: لَئِنْ شَفَاهُ اللهُ لَيَزِيدَنَّ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ كَانَ مَلِكٌ بَعْدَهُ، فَقَالَ: مَا نَدَعُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ أَنْ نُتِمَّهَا وَنَجْعَلُ صَوْمَنَا فِي الرَّبِيعِ، فَفَعَلَ فَصَارَتْ خَمْسِينَ يَوْمًا"
دغفل بن حنظلہ بیان کرتے ہیں: عیسائیوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ فرض تھا۔ ان پر ایک بادشاہ تھا جو بیمار ہو گیا تو اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں (اس میں) ضرور دس دن کا اضافہ کروں گا۔ پھر ان پر اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا، اس نے گوشت کھایا تو بیمار پڑ گیا، اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں (اس میں) ضرور آٹھ دن کا اضافہ کروں گا۔ پھر ان پر اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا، اس نے کہا: ہم ان دنوں میں سے کچھ نہیں چھوڑیں گے بلکہ انہیں پورا کریں گے، اور اپنا روزہ بہار کے موسم میں رکھیں گے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، تو وہ پچاس دن کا ہو گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 226، حدیث 4203»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ديلم بن فيروز الحميري
سیدنا دیلم بن فیروز حمیری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4189
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، أَنَّ دَيْلَمَ الْحِمْيَرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِبَلَدٍ بَارِدٍ، وَإِنَّا نَشْرَبُ شَرَابًا نَتَقَوَّى بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلْ يُسْكِرُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا تَقْرَبُوهُ» ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْكِرُ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهُ» ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ لَنْ يَصْبِرُوا عَنْهُ قَالَ: «فَمَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَنْهُ فَاقْتُلُوهُ»
سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم ایک سرد علاقے میں ہیں، اور ہم ایک ایسا مشروب پیتے ہیں جس سے ہم طاقت حاصل کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا وہ نشہ لاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے قریب مت جاؤ۔“ پھر انہوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ لاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے قریب مت جاؤ۔“ انہوں نے کہا: لوگ اسے چھوڑ نہیں سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسے نہ چھوڑ سکے، اسے قتل کر دو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4189]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 227، حدیث 4204»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4190
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: «هَلْ يُسْكِرْ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ»
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس گندم سے بنا ایک مشروب جس سے ہم اپنے کاموں پر اور اپنے علاقے کی سردی میں طاقت حاصل کرتے ہیں (کیسا ہے؟)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے بچو۔“ پھر میں دوبارہ آپ کے سامنے آیا اور یہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے بچو۔“ میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 227، حدیث 4205»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4191
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ دَيْلَمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ نَصْنَعُ بِهَا شَرَابًا مِنَ الْقَمْحِ أَفَيَحِلُّ شُرْبُهُ قَالَ: «أَيُسْكِرُكُمْ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّهُ خَمْرٌ»
دیلم جیشانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایک سخت سرد علاقے میں ہیں، جہاں ہم گندم سے ایک مشروب بناتے ہیں، کیا اسے پینا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ تمہیں نشہ دیتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ خمر (شراب) ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الدال/حدیث: 4191]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 228، حدیث 4206»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»