مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ .
اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟)
حدیث نمبر: 1272
وَعَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ رُفْغَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ"..
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَهُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا ذِكْرَهُ الْأُنْثَيَيْنِ وَالرُّفْغَيْنِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَهُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا ذِكْرَهُ الْأُنْثَيَيْنِ وَالرُّفْغَيْنِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ، یا خصیوں، یا شرمگاہ کے آس پاس کے حصے کو چھو لے، تو اُسے نماز کے وضو کی طرح وضو کرنا چاہیے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، یہ ”سنن“ میں منقول ہے، تاہم اس میں خصیوں، اور شرمگاہ کے آس پاس کے حصے کا ذکر نہیں ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1272]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، یہ ”سنن“ میں منقول ہے، تاہم اس میں خصیوں، اور شرمگاہ کے آس پاس کے حصے کا ذکر نہیں ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1272]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 1272 in Urdu