مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14303
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا رَأَتْ رَجُلًا مَارًّا وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا، فَقِيلَ لَهَا: صِفِي لَنَا أَبَا بَكْرٍ. فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ نَحِيفًا، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ، أَحْنًا لَا تَسْتَمْسِكُ إِزْرَتُهُ تَسْتَرْخِي عَنْ حِقْوَيْهِ، مَعْرُوقَ الْوَجْهِ، غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئَ الْجَبْهَةِ، عَارِيَ الْأَشَاجِعِ. هَذِهِ صِفَتُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ہودج میں موجود تھیں، انہوں نے ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھا، تو یہ فرمایا: میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا، جو اس شخص سے زیادہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشابہت رکھتا ہو، ان سے کہا: گیا: آپ ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کریں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے ہلکے رخساروں والے ایک شخص تھے، ان کا تہبند ایک جگہ پر ٹکتا نہیں تھا، بلکہ ان کے پہلو سے ڈھلک جاتا تھا، ان کے چہرے پر گوشت کم تھا، آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت کم تھا، یہ ان کا حلیہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14303]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14303]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (21)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 14303 in Urdu