مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. بَابٌ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز میں رفع یدین کرنا
حدیث نمبر: 2583
وَعَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنَ الصَّلَاةِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا رَفْعَ الْيَدَيْنِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا رَفْعَ الْيَدَيْنِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2583]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2583]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 2583 in Urdu