🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

183. بَابٌ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز میں رفع یدین کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.
وَقَدْ قَالَ مُرَّةُ: فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ الْيَمَامِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ، وَكَانَ يُلَقَّنُ فَيَتَلَقَّنُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2581]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2582
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا یہاں تک کہ انہیں (یعنی دونوں ہاتھوں کو) کانوں تک لے آئے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2582]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2583
وَعَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنَ الصَّلَاةِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا رَفْعَ الْيَدَيْنِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے یہ لوگ صرف نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: یہ حضرات پہلی تکبیر کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر حنفی یمامی ہے، جس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا باعث ہو گئی تھی اسے تلقین کی جاتی تھی تو وہ تلقین کو قبول کرتا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2583]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2584
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَالَ: فَرَفَعَ رَأَسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ كَفَّيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أَوْ بَلَغَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ: رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے، جس نے ایک دیہاتی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہتھیلیاں بلند کیں یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو کے برابر لے آئے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2584]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ:" وَالسُّجُودِ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ صَحِيحٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود میں رفع یدین کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”سجود میں“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2585]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2586
وَعَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا جب آپ رکوع میں گئے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا (تو بھی آپ نے رفع یدین کیا)“ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا“۔
اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2586]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَرِنَا كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَامَ فَصَلَّى فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قتادہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ آپ ہمیں دکھائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ وہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز ادا کی تو انہوں نے ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2587]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، كُلُّهُمْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ لِلسُّجُودِ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ہے یہ سب حضرات جب نماز کا آغاز کرتے تھے، اور جب رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے، اور جب (رکوع سے) سر اٹھانے کے بعد سجدے میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے، تو اس وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد اسلمی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2588]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا اسْتَفْتَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ وَلْيَسْتَقْبِلْ بِبَاطِنِهِمَا الْقِبْلَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَامَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز کا آغاز کرے تو وہ رفع یدین کرے اور اپنی ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رکھے کیونکہ اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمیر بن عمران ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2589]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ لِلرُّكُوعِ، وَعِنْدَ التَّكْبِيرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا التَّكْبِيرَ لِلسُّجُودِ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے والی تکبیر اور سجدے میں جانے والی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ ”صحیح“ میں بھی مذکور ہے، تاہم اس میں سجدے والی تکبیر کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کی سند صحیح ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2590]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں