مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
حدیث نمبر: 39
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي: مَنْ يَرْعَى إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقَ فَنَقْتَبِسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْتَبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلِّي مَغْبُونٌ ; يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَا أَسْمَعُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَحَضَرْتُ يَوْمًا فَسَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". فَعَجِبْتُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَكَيْفَ لَوْ سَمِعْتَ الْكَلَامَ الْآخَرَ كُنْتَ أَشَدَّ عَجَبًا؟! فَقُلْتُ: ارْدُدْ عَلَيَّ - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاءَكَ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ". فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَهُ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ عَنِّي، فَقُمْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنِّي؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ:" أَوَاحِدٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ اثْنَا عَشَرَ؟" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بارہ افراد سمیت آیا، ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (یعنی مدینہ منورہ سے باہر) سواریاں کھڑی کیں، میرے ساتھیوں نے کہا: ہمارے اونٹوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ تاکہ ہم جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کریں، پھر جب وہ شخص آئے گا، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہو گا، وہ اسے بتائیں گے، میں نے کہا: میں ایسا کر لیتا ہوں، پھر میں نے دل میں سوچا، اس طرح تو میں گھاٹے کا سودا کروں گا، کیونکہ اس طرح میرے ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سن لیں گے، جو میں نے نہیں سنی ہوں گی، ایک دن میں موجود تھا، میں نے ایک شخص کو یہ - بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس (دروازے) میں سے چاہے، اندر داخل ہو جائے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، تو میں اُٹھا اور (دوسری طرف سے) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب چوتھی مرتبہ ہوئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے، یا بارہ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب میں نے یہ بات دیکھی، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ”صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 39]
”جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس (دروازے) میں سے چاہے، اندر داخل ہو جائے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، تو میں اُٹھا اور (دوسری طرف سے) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب چوتھی مرتبہ ہوئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے، یا بارہ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب میں نے یہ بات دیکھی، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ”صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 7947»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
Majma al-Zawa'id Hadith 39 in Urdu