مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
حدیث نمبر: 1
وَبِسَنَدِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يُحَدِّثُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوَسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مَنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَسَلَّمَ عَلَيَّ فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلَا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ! وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ - فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - حَتَّى سَلَّمَا جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ فَسَلَّمَ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى، وَاللَّهِ قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ. قَالَ: قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ. وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ. فَقُلْتُ: أَجَلْ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ عُثْمَانُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَلَكِنَّ الزُّهْرِيَّ وَثَّقَهُ وَأَبْهَمَهُ، وَقَدْ ذَكَرْتُهُ بِسَنَدِهِ حَتَّى لَا أَبْتَدِئَ الْكِتَابَ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَلَكِنَّ الزُّهْرِيَّ وَثَّقَهُ وَأَبْهَمَهُ، وَقَدْ ذَكَرْتُهُ بِسَنَدِهِ حَتَّى لَا أَبْتَدِئَ الْكِتَابَ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ.
امام أحمد نے، اپنی سند کے ساتھ زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک اہل علم نے مجھے یہ بات بتائی: اُس نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حوالے سے (شدید) غم محسوس ہوا، یہاں تک کہ اُن میں سے بعض حضرات وسوسے کا شکار ہو جاتے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ایک مرتبہ میں ایک عمارت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا، اس دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام بھی کیا، لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ گزرے ہیں، یا انہوں نے سلام کیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اُن سے کہا: کیا آپ اس بات پر حیران نہیں ہوں گے؟ کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا، میں نے اُسے سلام کیا، لیکن اُس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، آئے یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے، اُن دونوں حضرات نے مجھے سلام کیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بھائی عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ وہ (آپ کے پاس سے) گزرے، اور انہوں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے انہیں جواب نہیں دیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ نے ایسا کیا ہے اے بنو امیہ! یہ آپ لوگوں کی خود پسندی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ گزرے ہیں، یا آپ نے سلام کیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان ٹھیک کہہ رہا ہے، یہ کسی پریشانی کی وجہ ہے تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا، میں نے کہا: جی ہاں! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ معاملہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بولے: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی، اس سے پہلے کہ میں اُن سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں اُٹھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے اُن سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: (ایک مرتبہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس معاملے کی نجات کیا ہے؟ تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لے، جو میں نے اپنے چچا کو پیش کیا تھا اور انہوں نے اُسے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ کلمہ اُس شخص کے لئے نجات کا باعث بن جائے گا۔“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ امام ابویعلیٰ نے اسے مکمل روایت
کے طور پر نقل کیا ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا تاہم
امام زہری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اسے ”مبهم“ رکھا ہے۔
میں نے اس کی سند اسی لئے بیان کر دی ہے تاکہ میں کتاب کا آغاز کسی ”منقطع“ سند کے ساتھ نہ کروں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 1]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ نے ایسا کیا ہے اے بنو امیہ! یہ آپ لوگوں کی خود پسندی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ گزرے ہیں، یا آپ نے سلام کیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان ٹھیک کہہ رہا ہے، یہ کسی پریشانی کی وجہ ہے تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا، میں نے کہا: جی ہاں! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ معاملہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بولے: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی، اس سے پہلے کہ میں اُن سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں اُٹھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے اُن سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: (ایک مرتبہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس معاملے کی نجات کیا ہے؟ تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لے، جو میں نے اپنے چچا کو پیش کیا تھا اور انہوں نے اُسے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ کلمہ اُس شخص کے لئے نجات کا باعث بن جائے گا۔“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ امام ابویعلیٰ نے اسے مکمل روایت
کے طور پر نقل کیا ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا تاہم
امام زہری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اسے ”مبهم“ رکھا ہے۔
میں نے اس کی سند اسی لئے بیان کر دی ہے تاکہ میں کتاب کا آغاز کسی ”منقطع“ سند کے ساتھ نہ کروں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 839,2، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 9، أورده المؤلف فى زوائد المسند 1، أورده المؤلف فى كشف الاستار 1، أورده المؤلف فى المقصد العلى 7 كنز العمال 1640، 1404، طبقات ابن سعد 285»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة شيخ الزهري
حدیث نمبر: 2
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ؟ قَالَ:" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ لَهُ نَجَاةٌ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ: كَوْثَرٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ: كَوْثَرٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس معاملے کی نجات کیا ہے؟ جس میں ہم ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو یہ اُس کے لیے نجات کا باعث ہو گا۔“ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ”کوثر“ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 2]
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو یہ اُس کے لیے نجات کا باعث ہو گا۔“ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ”کوثر“ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 19، أورده المؤلف فى المقصد العلى 1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَقِيَ طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ وَاجِمًا؟ قَالَ: كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْعُمُ أَنَّهَا مُوجِبَةٌ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَعْلَمُ مَا هِيَ، قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا وَائِلٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا وَائِلٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ.
ابووائل بیان کرتے ہیں: مجھے یہ روایت بیان کی گئی ہے:
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ایک کلمہ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تھا کہ وہ کلمہ واجب کر دیتا ہے، لیکن میں اُس کلمہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر سکا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے علم ہے کہ وہ کلمہ کون سا ہے؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون سا ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ لا الہ الا اللہ ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابووائل نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کا سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 3]
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ایک کلمہ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تھا کہ وہ کلمہ واجب کر دیتا ہے، لیکن میں اُس کلمہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر سکا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے علم ہے کہ وہ کلمہ کون سا ہے؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون سا ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ لا الہ الا اللہ ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابووائل نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کا سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده 97، اورده المؤلف فى المقصد العلي 6، المطالب العاليه 48/3»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 4
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَخَرَجْتُ فَلَقِيَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ فَقُلْتُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" فَقَالَ عُمَرُ: ارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا رَدَّكَ؟" فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عُمَرَ، فَقَالَ:" صَدَقَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم نکلو (یعنی باہر جاؤ:) اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو:
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نکلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے: تم نکلو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جائیں، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم واپس کیوں آ گئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 4]
تم نکلو (یعنی باہر جاؤ:) اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو:
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نکلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے: تم نکلو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جائیں، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم واپس کیوں آ گئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 100، أورده المؤلف فى المقصد العلى 2»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ". قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَلْزَمَهَا اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
قُلْتُ: لِعُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ.
قُلْتُ: لِعُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں ایک کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں، جسے کوئی بندہ سچے دل سے پڑھ لے، تو وہ آگ پر حرام ہو جاتا ہے“۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا:) کیا میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے؟ وہ کلمہ اخلاص ہے، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب پر لازم قرار دیا اور یہ تقویٰ والا وہ کلمہ ہے، جس کی تلقین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (جناب ابوطالب) کو ان کے انتقال کے وقت کی تھی، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ”میں یہ کہتا ہوں، سیدنا عمر کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر روایت کیا ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کو امام أحمد نے روایت کیا ہے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى زوائد المسند 3»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6
وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَدِيفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا سُهَيْلُ بْنَ الْبَيْضَاءِ"، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسَمِعَ النَّاسُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحُبِسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ، حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ، وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَدَارُهُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: قَدْ رُوِيَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ مُرْسَلًا، وَابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَدَارُهُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: قَدْ رُوِيَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ مُرْسَلًا، وَابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا.
سیدنا سہیل بن بیضا بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے سہیل بن بیضاء! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا شاید تین مرتبہ بلند آواز میں انہیں پکارا، ہر مرتبہ سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ نے آپ کو جواب دیا، جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں، تو جو لوگ آگے تھے، وہ رک گئے اور جو پیچھے تھے، وہ آ کر شامل ہو گئے، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دے دے گا اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا۔“
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کا مدار سعید بن صلت نامی راوی پر ہے، ابن ابوحاتم کہتے ہیں: یہ روایت سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ”متصل“ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 6]
”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دے دے گا اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا۔“
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کا مدار سعید بن صلت نامی راوی پر ہے، ابن ابوحاتم کہتے ہیں: یہ روایت سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ”متصل“ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6033، 6034 أورده المؤلف فى زوائد المسند 4، اخرجه السيوطي فى الدر المنثور 62/6»
الحكم على الحديث: وهلذا إسناد منقطع ، ولكن الحديث صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 7
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ:" أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُبَشِّرُ النَّاسَ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ میری قوم کے کچھ افراد تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں تک یہ خوشخبری پہنچا دو! کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا، رادی کہتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، ہماری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو وہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسی صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 7]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 7، كنز العمال ح 131»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ". قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ فَلَقِيَنِي عُمَرُ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ اتَّكَلُوا عَلَيْهَا. قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَأَخْبَرْتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ أَصَحُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ أَصَحُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو شخص یہ کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے
تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اُس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو خواہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو! (یعنی اسے یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے)۔
راوی کہتے ہیں: میں نکلا تاکہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کروں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ! کیونکہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا، تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں گئے راوی کہتے ہیں: تو میں واپس آ گیا
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند سب سے زیادہ مستند ہے اس میں ایک راوی ابن لیعہ ہے جس سے کئی حضرات نے استدلال کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 8]
جو شخص یہ کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے
تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اُس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو خواہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو! (یعنی اسے یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے)۔
راوی کہتے ہیں: میں نکلا تاکہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کروں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ! کیونکہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا، تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں گئے راوی کہتے ہیں: تو میں واپس آ گیا
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند سب سے زیادہ مستند ہے اس میں ایک راوی ابن لیعہ ہے جس سے کئی حضرات نے استدلال کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3400، أورده المؤلف فى زوائد المسند 10، اورده المؤلف فى كشف الاستار 5»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِذْ حَضَرَ، قَالَ: أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ، فَأُدْخِلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ"، وَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ، وَالشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ عُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ. فَانْطَلَقُوا إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، وَمَا كَانَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب اُن کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: لوگوں کو میرے پاس لے آؤ لوگ اُن کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا“
(پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں یہ حدیث صرف مرنے کے قریب سنا رہا ہوں اور اس روایت کے گواہ سیدنا عویمر ابودرداء ہیں، وہ لوگ سیدنا ابودردء رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی (یعنی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) نے سچ بیان کیا ہے اور انہوں نے موت کے قریب تمہیں یہ حدیث بیان کی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوصالح نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 9]
”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا“
(پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں یہ حدیث صرف مرنے کے قریب سنا رہا ہوں اور اس روایت کے گواہ سیدنا عویمر ابودرداء ہیں، وہ لوگ سیدنا ابودردء رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی (یعنی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) نے سچ بیان کیا ہے اور انہوں نے موت کے قریب تمہیں یہ حدیث بیان کی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوصالح نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى زوائد المسند 11، كنز العمال 325»
الحكم على الحديث: منقطع
حدیث نمبر: 10
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ شَهْرٍ وَمُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ رِوَايَتُهُ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ضَعِيفَةٌ، وَهَذَا مِنْهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ شَهْرٍ وَمُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ رِوَايَتُهُ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ضَعِيفَةٌ، وَهَذَا مِنْهَا.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے مجھ سے فرمایا:
”جنت کی کنجی اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس روایت میں شہر اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے اسماعیل بن عیاش نامی راوی اہل حجاز سے جو روایت نقل کرتا ہے وہ ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 10]
”جنت کی کنجی اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس روایت میں شہر اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے اسماعیل بن عیاش نامی راوی اہل حجاز سے جو روایت نقل کرتا ہے وہ ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى زوائد المسند 12، أورده المؤلف فى كشف الاستار 2 كنز العمال ح 1825 . اخرجه السيوطي فى الدر المنثور 343/5»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف