🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11
وَعَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَتَّكِلُوا، فَقَالَ:" دَعْهُمْ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَتَّكِلُوا، قَالَ:" دَعْهُمْ يَتَّكِلُوا". وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کریں: جو شخص اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس صورت میں وہ لوگ اسی پر اکتفاء کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انہیں رہنے دو!
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر وہ لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں تکیہ کر لینے دو!
اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل راوی ہے جو اپنے خراب حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «اخرجة الامام ابو يعلى فى مسنده 1814، أورده المؤلف فى كشف الاستار 9، أورده المؤلف فى المقصد العلى 12، اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1814»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" نَادِ يَا عُمَرُ فِي النَّاسِ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَعْبُدُ اللَّهَ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ". قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" لَا، لَا يَتَّكِلُوا".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! لوگوں میں اعلان کر دو! کہ جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ اپنے دل کے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا اور اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سناؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! جی نہیں! وہ اسی پر اکتفاء کر لیں گے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 12]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ دَهْرِهِ، يُصِيبُهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے تو یہ کلمہ ایک نہ ایک دن اُسے فائدہ دے گا خواہ اُس شخص نے اس سے پہلے جو بھی عمل کیا ہو۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3486 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 140/1 أورده المؤلف فى كشف الاستار 3»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
وَعَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ مِنْ حَقِيقَةِ قَلْبِهِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ یہ کلمہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 11»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ". فَاسْتَأْذَنَهُ مُعَاذٌ لِيَخْرُجَ بِهَا إِلَى النَّاسِ فَيُبَشِّرَهُمْ، فَأَذِنَ لَهُ، فَخَرَجَ فَرِحًا مُسْتَعْجِلًا فَلَقِيَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: كَمَا أَنْتَ، لَا تَعْجَلْ. ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا، إِنَّ النَّاسَ إِذَا سَمِعُوا بِهَذَا اتَّكَلُوا عَلَيْهَا فَلَمْ يَعْمَلُوا، قَالَ:" فَرُدَّهُ، فَرَدَّهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَقَدْ ضُعِّفَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لا الہ الا للہ پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اس بات کو لے کر لوگوں کے پاس جائیں اور انہیں خوش خبری سنائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ خوشی کے عالم میں تیزی سے نکلے راستے میں اُن کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ٹھہر جاؤ اور جلدی نہ کرو! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ویسے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سب سے بہتر ہے لیکن لوگ اگر اس بارے میں سن لیں گے تو اسی پر اکتفاء کر لیں گے اور عمل نہیں کریں گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلا لو! اسے واپس بلا لو!
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 8»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ مَنْ رَوَى عَنْهُمَا الْبَزَّارُ لَمْ أَقِفْ لَهُمَا عَلَى تَرْجَمَةٍ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
جو شخص اخلاص کے ساتھ یہ کہے: کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ جنت میں داخل ہو گا
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام بزار نے جن دو حضرات سے اسے نقل کیا ہے میں (یعنی امام ہیشمی) اُن کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 7»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1026 اورده المؤلف فى زوائد المسند 23 أورده المؤلف فى كشف الاستار 6 كنر 328 17»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ". قِيلَ: وَمَا إِخْلَاصُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَحْجِزَهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِخْلَاصُهُ أَنْ تَحْجِزَهُ عَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ". وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ عرض کی گئی: اس کے اخلاص سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کے اخلاص سے مراد) یہ ہے کہ یہ کلمہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے روک کے رکھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے البتہ معجم کبیر میں ان کے الفاظ یہ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے اخلاص سے مراد یہ ہے کہ یہ کلمہ اس شخص کو ان چیزوں (کے ارتکاب) سے روک کے رکھے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہیں۔
اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن غزوان ہے جو وضاع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5074 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 1235»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
وَعَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا بِلَالُ، نَادِ فِي النَّاسِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ - دَخَلَ الْجَنَّةَ، أَوْ شَهْرٍ، أَوْ جُمُعَةٍ، أَوْ يَوْمٍ، أَوْ سَاعَةٍ، قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا: قَالَ: وَإِنِ اتَّكَلُوا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو! جو شخص مرنے سے پہلے لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، خواہ وہ (مرنے سے) ایک سال پہلے یا ایک ماہ پہلے یا ایک ہفتہ پہلے یا ایک دن پہلے یا ایک گھڑی پہلے (اس کلمہ کو پڑھ لے)۔
انہوں نے عرض کی: ایسی صورت میں وہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اکتفاء کر لیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی منھال بن خلیفہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 19]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَشِّرُ النَّاسَ:" أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں لوگوں کو یہ خوشخبری دوں کہ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو اس شخص کو جنت نصیب ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 20]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں