مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
حدیث نمبر: 21
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَشْجَعِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
سیدنا سلمہ بن نعیم اشجعی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اس میں ایک راوی عبداللہ بن حسین مصیصی ہے اور وہ متروک ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 21]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اس میں ایک راوی عبداللہ بن حسین مصیصی ہے اور وہ متروک ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6347 اورده المؤلف فى زوائد المسند 19»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مِشْرَحٍ أَوْ مِشْرَسٍ لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مِشْرَحٍ أَوْ مِشْرَسٍ لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی ابوشرح یا شاید ابومشرس ہے جس کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 22]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی ابوشرح یا شاید ابومشرس ہے جس کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7163 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2426»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 23
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادٍ - وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ - قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ؟" - يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ -. قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ:" ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا سَاعَةً ثُمَّ وَضَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ، وَأَمَرْتَنِي بِهَا، وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَبْشِرُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
یعلی بن شداد بیان کرتے ہیں: میرے والد سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی: جبکہ سیدنا عبادہ بن سامت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے اُن (یعنی میرے والد سیدنا شداد رضی اللہ عنہ) کی تصدیق کی میرے والد بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے درمیان کوئی اجنبی موجود ہے؟ (راوی بیان کرتے ہیں: اجنبی سے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل کتاب تھے، ہم نے عرض کی: جی نہیں! یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا: اپنے ہاتھ بلند کر لو! اور لا الہ الا اللہ پڑھو! ہم نے کچھ دیر تک ہاتھ بلند کئے رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک نیچے کیا اور فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 124/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 4582، أورده المؤلف فى كشف الاستار 10»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ وَلَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا التَّابِعِيَّ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَجَعَلَهُ مِنْ رِوَايَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا التَّابِعِيَّ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَجَعَلَهُ مِنْ رِوَايَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
ایک صاحب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیتا ہو تو ایسا شخص جنت میں داخل ہو گا اور اس کے ہمراہ کوئی گناہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا، جس طرح اگر وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا کہ وہ کسی کو اُس (یعنی اللہ تعالی) کا شریک قرار دیتا ہوتا، تو اُس (شخص) نے جہنم میں داخل ہونا تھا اور اُس (شرک) کے ہمراہ کسی نیکی نے اسے فائدہ نہیں دینا تھا۔“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ تابعی شخص کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا یہ روایت امام طبرانی نے مسروق کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 24]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ تابعی شخص کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا یہ روایت امام طبرانی نے مسروق کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 22»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى جِلْدَةِ صَدْرِهِ - حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ صَفْوَانَ، وَهُوَ وَاهِي الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ صَفْوَانَ، وَهُوَ وَاهِي الْحَدِيثِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالی اُس کا پروردگار ہے اور میں اس کا نبی ہوں اور وہ سچے دل کے ساتھ (اس بات کا اعتراف کرتا ہو)“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تو اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن عمر بن صفوان ہے اور وہ واہی الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 25]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن عمر بن صفوان ہے اور وہ واہی الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 124/18 كشف 14»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 26
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ مَغْفِرَتُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایسے عالم میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لئے مغفرت حلال ہو جائے گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 26]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 26]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ - أُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایسی حالت میں مرا ہو کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک قرار نہ دیتا ہو اور اس نے کسی کو ناحق قتل نہ کیا ہو تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا (اس دروازے سے) اُس کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 27]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 27]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 28
وَعَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ، وَقَالُوا: يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ. فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا رِجَالًا؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ، ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ - أَوْ سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ - فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ. فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَئُوهُ، وَبَقِيَ مَثَلُهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبَدٌ مُؤْمِنٌ بِهَا إِلَّا حَجَبَتْهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ. وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ دَعَا بِرَكْوَةٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصُبَّ فِيهَا، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ - فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَتَفَجَّرُ يَنَابِيعَ مِنَ الْمَاءِ - ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَمَلَئُوا قِرَبَهُمْ وَأَدَاوِيهِمْ. وَقَالَ:" لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ فِيهِ". وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ. وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ دَعَا بِرَكْوَةٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصُبَّ فِيهَا، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ - فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَتَفَجَّرُ يَنَابِيعَ مِنَ الْمَاءِ - ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَمَلَئُوا قِرَبَهُمْ وَأَدَاوِيهِمْ. وَقَالَ:" لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ فِيهِ". وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لیے گئے لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی سواری کے جانوروں میں سے کچھ کو ذبح کر لیں انہوں نے عرض کی: اللہ تعالٰی اس کے ذریعے ہمیں (منزل مقصود تک) پہنچا دے گا جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ اپنے سواری کے کچھ جانور ذبح کر لیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
یا رسول اللہ! اس وقت ہمارا کیا حال ہو گا؟ جب کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو ہم بھوکے ہوں گے اور پیادہ ہوں گے یا رسول اللہ! البتہ اگر آپ مناسب سمجھیں، تو لوگوں کو یہ حکم دیں کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے آئیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے اُس میں برکت کی دعا کر دیں، تو اللہ تعالٰی ہمارے لئے آپ کی دعا میں برکت رکھ دے گا (راوی کو شک ہے یا شاہد یہ الفاظ ہیں:) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہمارا مطلوب عطا کر دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے کر آئیں تو لوگ مٹھی بھر اناج یا اُس سے کچھ زیادہ لے کر آنے لگے جو شخص سب سے زیادہ اناج لے کر آیا تھا وہ کھجوروں کا ایک صاع لایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں کو جمع کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر والوں کو اپنے برتن لانے کا حکم دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی مٹھیاں بھر لیں، تو شکر میں موجود ہر برتن ان لوگوں نے بھر لیا اور پھر بھی اُتنا ہی اناج باقی بچ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ اس بات (یعنی کلمہ شہادت) پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاظر ہو گا
تو یہ کلمہ قیامت کے دن اسے جہنم سے محفوظ رکھے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں:
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا وہ اس میں ڈال دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں کلی کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھوٹی انگلی اس میں داخل کی تو میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے خود پانی پیا (اپنے جانوروں کو) پلایا اپنے مشکیزے اور برتن بھر لئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو بھی شخص قیامت کے دن ان دو کلمات کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اُسے جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ اُس (شخص) میں جو بھی خامیاں پائی جاتی ہوں
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 28]
یا رسول اللہ! اس وقت ہمارا کیا حال ہو گا؟ جب کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو ہم بھوکے ہوں گے اور پیادہ ہوں گے یا رسول اللہ! البتہ اگر آپ مناسب سمجھیں، تو لوگوں کو یہ حکم دیں کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے آئیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے اُس میں برکت کی دعا کر دیں، تو اللہ تعالٰی ہمارے لئے آپ کی دعا میں برکت رکھ دے گا (راوی کو شک ہے یا شاہد یہ الفاظ ہیں:) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہمارا مطلوب عطا کر دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے کر آئیں تو لوگ مٹھی بھر اناج یا اُس سے کچھ زیادہ لے کر آنے لگے جو شخص سب سے زیادہ اناج لے کر آیا تھا وہ کھجوروں کا ایک صاع لایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں کو جمع کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر والوں کو اپنے برتن لانے کا حکم دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی مٹھیاں بھر لیں، تو شکر میں موجود ہر برتن ان لوگوں نے بھر لیا اور پھر بھی اُتنا ہی اناج باقی بچ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ اس بات (یعنی کلمہ شہادت) پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاظر ہو گا
تو یہ کلمہ قیامت کے دن اسے جہنم سے محفوظ رکھے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں:
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا وہ اس میں ڈال دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں کلی کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھوٹی انگلی اس میں داخل کی تو میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے خود پانی پیا (اپنے جانوروں کو) پلایا اپنے مشکیزے اور برتن بھر لئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو بھی شخص قیامت کے دن ان دو کلمات کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اُسے جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ اُس (شخص) میں جو بھی خامیاں پائی جاتی ہوں
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 575/1، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 63 اورده المؤلف فى زوائد المسند 17»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 29
وَعَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ - أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ - فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟". فَلَمْ يَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا، وَقَالَ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ، لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ - إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ". قَالَ:" وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلُحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے، یہاں تک کہ جب ہم ”کدید“ یا ”قدید“ کے مقام پر پہنچے، تو کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے گھر جلدی چلے جائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، اور پھر ارشاد فرمایا: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ کہ اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ، اُن کے لیے دوسری طرف سے زیادہ ناپسندیدہ ہے، تو اس وقت ہر شخص رونے لگا، ایک صاحب بولے: اس کے بعد جو شخص اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہو گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور بھلائی کی بات کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں: کہ جو بھی بندہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ سچے دل سے (یہ گواہی دے) اور پھر سیدھے راستے پر گامزن رہے، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ نہ تو اُن سے حساب لیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں کوئی عذاب ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک تم لوگ، اور تمہارے آباؤ اجداد، تمہاری بیویوں، تمہاری اولاد میں سے نیک لوگ، جنت میں اپنا ٹھکانا نہیں بنا لیتے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 29]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 13»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 30
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ" هُمَا الْمُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عماره بن روبیه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
”دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں (ایک چیز یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو)، وہ جنت میں داخل ہو گا اور (دوسری چیز یہ ہے:) جو شخص ایسی حالت میں مرے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو)، وہ شخص جہنم میں داخل ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 30]
”دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں (ایک چیز یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو)، وہ جنت میں داخل ہو گا اور (دوسری چیز یہ ہے:) جو شخص ایسی حالت میں مرے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو)، وہ شخص جہنم میں داخل ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 30]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف