مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
حدیث نمبر: 31
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَمَلَانِ مُنْجِيَانِ مُوجِبَانِ ; فَأَمَّا الْمُنْجِيَانِ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو عمل نجات دینے والے اور واجب کرنے والے ہیں، جہاں تک نجات دینے والے دو اعمال کا تعلق ہے تو جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی اور جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔“
(امام ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ مکمل روایت آگے چل کر روزوں سے متعلق کتاب میں آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 31]
(امام ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ مکمل روایت آگے چل کر روزوں سے متعلق کتاب میں آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 31]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 32
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ: فَمُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ; فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ: فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ. وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ - كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ. وَأَمَّا النَّاسُ: فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ".
قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ ذِكْرَ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمٍ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ ذِكْرَ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمٍ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اعمال چھ قسم کے ہیں اور لوگ چار قسم کے ہیں، دو قسم کے عمل واجب کرنے والے ہیں (ایک قسم کا عمل) برابر برابر کی بنیاد پر ہے (ایک قسم کا عمل یہ ہے) کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو گا (ایک قسم کا عمل ایسا ہے) کہ ایک نیکی کا بدلہ سات سو گنا ہو جہاں تک واجب کرنے والی دو چیزوں کا تعلق ہے تو جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتا ہو ایسا شخص جہنم میں جائے گا جہاں تک برابر برابر کی صورت کا تعلق ہے تو جو شخص نیکی کا پختہ ارادہ کرے اور اس کے دل کو اس نیکی کا شعور ہو اور اللہ تعالی کو اس شخص کے حوالے سے اس نیکی کا علم ہو (کہ وہ شخص واقعی وہ نیکی کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے لیکن پھر کسی وجہ سے وہ شخص وہ نیکی نہ کر سکے) تو اس شخص کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرئے تو اس کے لیے ایک برائی نوٹ کی جائے گی جو شخص کسی نیکی پر عمل کرئے تو اسے دس گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے گا اُسے سات سو گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جہاں تک (دو قسم کے) لوگوں کا تعلق ہے تو کچھ ایسے لوگ ہیں، جنہیں دنیا میں گنجائش نصیب ہوتی ہے اور وہ آخرت میں تنگی کا سامنا کریں گے اور کچھ ایسے ہیں، جنہیں دنیا میں تنگی کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے لیے آخرت میں کشادگی ہو گی۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جبکہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے: یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے اُن کے والد کے حوالے سے ان کے چچا یسیر بن عمیلہ سے منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 32]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جبکہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے: یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے اُن کے والد کے حوالے سے ان کے چچا یسیر بن عمیلہ سے منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 32]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4151، 4155 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4059 اورده المؤلف فى زوائد المسند 27 كنز 16142»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 33
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَقْتُلُ نَفْسًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ خَفِيفُ الظَّهْرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اس نے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو وہ شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اُس کی پشت ہلکی ہو گئی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 33]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11192»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 34
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - أَطَاعَ بِهَا قَلْبُهُ، وَذَلَّ بِهَا لِسَانُهُ - وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ پڑھے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے (اور اس کلمے کے حوالے سے اُس کا دل اس کی اطاعت کرے اور اس کی زبان اس کے حوالے سے عاجزی کرے) (اور وہ شخص یہ بھی پڑھے) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس (اللہ تعالیٰ) کے بندے اور اس کے رسول ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 34]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1364»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 35
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ الْمُسْلِمَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ مُنْذُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَى أَنْ يَقُومَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَإِنْ وَافَى اللَّهَ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا أَوْ بِاسْتِغْفَارٍ - كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسلمان شخص کو جب اُس کی ماں جنم دیتی ہے اُس وقت سے لے کر جب وہ شخص (مرنے کے بعد) اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا اُس وقت تک وہ اللہ کی پناہ میں رہتا ہے تو اگر وہ سچے دل کے ساتھ اس بات کی گواہی کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:) وہ”استغفار کے ہمراہ (حاضر ہو) تو اس شخص کے لیے جہنم سے بری ہونا نوٹ کر لیا جاتا ہے۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کو ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 35]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کو ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 12»
الحكم على الحديث: منقطع
حدیث نمبر: 36
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ أَحَدًا مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ مُوقِنًا بِقَلْبِهِ - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى جِلْدِهِ - حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْقَلُوصِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْقَلُوصِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی حدیث بیان نہ کروں؟ کہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وہ حدیث سنی ہے اُسے کسی کے سامنے اس اندیشے کے تحت بیان نہیں کیا کہ لوگ اسی پر اکتفاء کر لیں گے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:”جو شخص اپنے دل کے یقین کے ساتھ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کا پروردگار ہے اور میں اُس کا نبی ہوں۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القصیر ہے اور وہ متروک ہے ایک اور راوی عبداللہ بن ابوالقلوص ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 36]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القصیر ہے اور وہ متروک ہے ایک اور راوی عبداللہ بن ابوالقلوص ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 14»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 37
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَدْرَكْتُ آخِرَ الْحَدِيثِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ"، فَقُلْتُ بِيَدِي هَكَذَا - يُحَرِّكُ بِيَدِهِ أَنَّ هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَمَا فَاتَكَ مِنْ صَدْرِ الْحَدِيثِ أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ. قُلْتُ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَهَاتِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں آیا، نبی اکرم اُس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا آخری حصہ پایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے: ”جو شخص عصر سے پہلے چار رکعت (یعنی سنتیں) ادا کر لے گا اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی“۔ تو میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے۔ یہاں انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا۔ اس طرح اشارہ کر کے کہا: یہ تو بہت عمدہ بات ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بولے: اس حدیث کا ابتدائی حصہ جو تمہیں (سننے کو) نہیں ملا وہ تو بہت ہی زیادہ عمدہ ہے میں نے کہا: ہے: اے خطاب کے صاحبزادے! وہ آپ بیان کر دیں! تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے: ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس (کی سند) میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 37]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس (کی سند) میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2580»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 38
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ هَبَطَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ مِنْ ثَنِيَّةٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ وَحْدَهُ، فَلَمَّا أَسْهَلَتْ بِهِ الطَّرِيقُ ضَحِكَ وَكَبَّرَ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً، ثُمَّ ضَحِكَ وَكَبَّرَ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ، ثُمَّ أَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِكَ، وَلَا نَدْرِي مِمَّ ضَحِكْتَ! فَقَالَ:" قَادَ النَّاقَةَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا أَسَهَلَتِ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَبْشِرْ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَبْشِرْ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ لِأُمَّتِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقُوهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقُوهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا، آپ کی سواری ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے، جب راستہ سیدھا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے، ہم نے بھی تکبیر کہہ دی کچھ دیر چلنے کے بعد، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہنس پڑے اور اپنے تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہی، جب ہم آپ کے پاس پہنچے، تو حاضرین نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہہ دی تھی، لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس بات پر ہنسے تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ارشاد فرمایا: ”جبرائیل میری اونٹنی کو لے کر چل رہے تھے، جب راستہ سیدھا ہوا، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو بھی یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھ لے گا: اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کے کبریائی بیان کی، پھر کچھ چلنے کے بعد، وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بوئے: آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھے گا: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کی، اور میں اپنی امت کے لئے اس بات پر خوش ہو گیا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 38]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6522»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 39
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي: مَنْ يَرْعَى إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقَ فَنَقْتَبِسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْتَبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلِّي مَغْبُونٌ ; يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَا أَسْمَعُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَحَضَرْتُ يَوْمًا فَسَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". فَعَجِبْتُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَكَيْفَ لَوْ سَمِعْتَ الْكَلَامَ الْآخَرَ كُنْتَ أَشَدَّ عَجَبًا؟! فَقُلْتُ: ارْدُدْ عَلَيَّ - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاءَكَ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ". فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَهُ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ عَنِّي، فَقُمْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنِّي؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ:" أَوَاحِدٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ اثْنَا عَشَرَ؟" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بارہ افراد سمیت آیا، ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (یعنی مدینہ منورہ سے باہر) سواریاں کھڑی کیں، میرے ساتھیوں نے کہا: ہمارے اونٹوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ تاکہ ہم جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کریں، پھر جب وہ شخص آئے گا، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہو گا، وہ اسے بتائیں گے، میں نے کہا: میں ایسا کر لیتا ہوں، پھر میں نے دل میں سوچا، اس طرح تو میں گھاٹے کا سودا کروں گا، کیونکہ اس طرح میرے ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سن لیں گے، جو میں نے نہیں سنی ہوں گی، ایک دن میں موجود تھا، میں نے ایک شخص کو یہ - بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس (دروازے) میں سے چاہے، اندر داخل ہو جائے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، تو میں اُٹھا اور (دوسری طرف سے) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب چوتھی مرتبہ ہوئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے، یا بارہ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب میں نے یہ بات دیکھی، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ”صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 39]
”جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
”جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے، وہ جس (دروازے) میں سے چاہے، اندر داخل ہو جائے، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، تو میں اُٹھا اور (دوسری طرف سے) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ایسا تین مرتبہ ہوا، جب چوتھی مرتبہ ہوئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے، یا بارہ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب میں نے یہ بات دیکھی، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔
(علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے ”صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 7947»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 40
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" هُمَا الْمُوَجِبَتَانِ: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ.
سیدنا عماره بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
”یہ دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ شخص جنت میں جائے گا، اور جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں جائے گا“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 40]
”یہ دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ شخص جنت میں جائے گا، اور جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں جائے گا“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 5585»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف