🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَخَرَجْتُ فَلَقِيَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ فَقُلْتُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" فَقَالَ عُمَرُ: ارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا رَدَّكَ؟" فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عُمَرَ، فَقَالَ:" صَدَقَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تم نکلو (یعنی باہر جاؤ:) اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو:
جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نکلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے: تم نکلو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جائیں، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم واپس کیوں آ گئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 100، أورده المؤلف فى المقصد العلى 2»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

Majma al-Zawa'id Hadith 4 in Urdu