مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابٌ فِي نِسَاءِ قُرَيْشٍ .
قریش کی خواتین کا بیان
حدیث نمبر: 7425
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا: سَوْدَةُ -، وَكَانَتْ مُصْبِيَةً لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ مَاتَ - فَقَالَ [ لَهَا ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟". قَالَتْ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنْ أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ [ الصِّبْيَةُ ] عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً. قَالَ:" فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟". قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَرْحَمُكِ اللَّهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدِهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا، جن کا نام سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ تھا، وہ خاتون بیوہ تھیں، اُن کے پانچ، یا شاید چھ بچے تھے، ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم میرے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ شادی کرنے میں یہ چیز رکاوٹ نہیں ہے کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، بلکہ میں اس چیز سے بچنا چاہ رہی ہوں کہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے موجود ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کرے، خواتین جو اونٹوں کی پشت پر سوار ہوتی ہیں، ان میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو اپنی اولاد کے لئے اُن کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7425]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2686) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (13014) اخرجه احمد فى المسند (319,318/1)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
Majma al-Zawa'id Hadith 7425 in Urdu