🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

31. بَابٌ فِي نِسَاءِ قُرَيْشٍ .
قریش کی خواتین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7425
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا: سَوْدَةُ -، وَكَانَتْ مُصْبِيَةً لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ مَاتَ - فَقَالَ [ لَهَا ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟". قَالَتْ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنْ أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ [ الصِّبْيَةُ ] عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً. قَالَ:" فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟". قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَرْحَمُكِ اللَّهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدِهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا، جن کا نام سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ تھا، وہ خاتون بیوہ تھیں، اُن کے پانچ، یا شاید چھ بچے تھے، ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم میرے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ شادی کرنے میں یہ چیز رکاوٹ نہیں ہے کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، بلکہ میں اس چیز سے بچنا چاہ رہی ہوں کہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے موجود ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کرے، خواتین جو اونٹوں کی پشت پر سوار ہوتی ہیں، ان میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو اپنی اولاد کے لئے اُن کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2686) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (13014) اخرجه احمد فى المسند (319,318/1)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7426
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْأَفَهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ".
ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبِ الْإِبِلَ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: وَقَدْ عَلِمَ إِلَى آخِرِهِ. فَإِنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الصَّحِيحِ، وَهُنَا مَرْفُوعٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں، سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے لئے ان کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کی غربت کے باوجود اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں (یا اس سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں)۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: آپ یہ بات جانتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے لے کر آخر تک کے کلمات نہیں ہیں صحیح میں
یہ روایت موقوف ہے اور یہاں مرفوع ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7426]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7427
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کے راستے میں، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اونٹ پر سوار ہونے والی خواتین میں، سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں، جو بچوں پر زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور شوہر کی زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7427]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1411)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7428
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" [ لِمَ؟ ] خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ".
قُلْتُ: لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے بے رغبت نہیں ہوں، لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں شادی کر لوں، جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں، جو بچوں پر ان کی کم سنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7428]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (269/2)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7429
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ وَأَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
وَفِي الْمَنَاقِبِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا.
زید بن ابوعتاب بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، انہوں نے یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں، سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو اپنے شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں اور اپنی اولاد پر، ان کی کمسنی میں، سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ مناقب سے متعلق باب میں اس نوعیت کی دیگر احادیث آئیں گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/19) اخرجه احمد فى المسند (101/4)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں