صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3029. ثلاث أقسم عليهن: ما نقص مال عبد من صدقة ولا ....
تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں: صدقے سے کسی ....
حدیث نمبر: 3024
"ثلاث أقسم عليهن: ما نقص مال عبد من صدقة ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها إلا زاده الله عز وجل عزا ولا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر وأحدثكم حديثا فاحفظوه إنما الدنيا لأربعة نفر: عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعمل لله فيه حقا فهذا بأفضل المنازل وعبد رزقه الله تعالى علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول: لو أن لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته فأجرهما سواء وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما يخبط في ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه ولا يصل فيه رحمه ولا يعمل لله فيه حقا فهذا بأخبث المنازل وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول: لو أن لي مالا لعملت فيه بعمل فلان فهو بنيته فوزرهما سواء"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں: صدقے سے کسی بندے کا مال کم نہیں ہوتا، اور جو بندہ کسی ظلم پر صبر کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے مزید عزت عطا فرماتا ہے، اور جو بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں، اسے یاد رکھو: دنیا صرف چار طرح کے لوگوں کے لیے ہے: ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم دونوں سے نوازا، تو وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، اور اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ سب سے بہترین درجے پر ہے۔ دوسرا وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہیں دیا، اور وہ نیت میں سچا ہو کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں شخص جیسا عمل کرتا، تو وہ اپنی نیت کے سبب پہلے کے برابر اجر پاتا ہے۔ تیسرا وہ بندہ جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہیں دیا، تو وہ اپنے مال میں بغیر علم کے من مانی کرتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے، اور نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ سب سے بدترین درجے پر ہے۔ چوتھا وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا اور نہ علم، تو وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں شخص جیسا عمل کرتا، تو وہ اپنی نیت کے سبب اسی کے برابر گناہ گار ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الثاء./حدیث: 3024]
”تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں: صدقے سے کسی بندے کا مال کم نہیں ہوتا، اور جو بندہ کسی ظلم پر صبر کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے مزید عزت عطا فرماتا ہے، اور جو بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں، اسے یاد رکھو: دنیا صرف چار طرح کے لوگوں کے لیے ہے: ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم دونوں سے نوازا، تو وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، اور اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ سب سے بہترین درجے پر ہے۔ دوسرا وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہیں دیا، اور وہ نیت میں سچا ہو کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں شخص جیسا عمل کرتا، تو وہ اپنی نیت کے سبب پہلے کے برابر اجر پاتا ہے۔ تیسرا وہ بندہ جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہیں دیا، تو وہ اپنے مال میں بغیر علم کے من مانی کرتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے، اور نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ سب سے بدترین درجے پر ہے۔ چوتھا وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا اور نہ علم، تو وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں شخص جیسا عمل کرتا، تو وہ اپنی نیت کے سبب اسی کے برابر گناہ گار ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الثاء./حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ت] عن أبي كبشة الأنماري. صحيح الترغيب 14 وزاد أحمد والترمذي عند ابن ماجه بلفظ آخر، المشكاة 5287.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sahih al-Jami' al-Saghir wa Ziyadatuhu Hadith 3024 in Urdu