المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
259. مالك بن يخامر السكسكي، عن معاذ بن جبل
مالک بن یخامر سکسکی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17352
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْيَمَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلْفٍ الْعَمِّيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ قَالَ:" صَلَّيْتُ اللَّيْلَةَ مَا قُضِيَ لِي، وَوَضَعْتُ جَنْبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، وَالْكَفَّارَاتِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَراتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: سَلْ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعَلِّمُوهُنَّ وَادْرُسُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ حَقٌّ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے ہمارے پاس آنے سے اتنی دیر رکے رہے کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر پڑھائی تو فرمایا: ”میں نے آج رات وہی نماز پڑھی جو میرے مقدر میں تھی، پھر میں نے مسجد میں اپنا پہلو رکھا (یعنی سو گیا)، تو میرا رب سب سے بہترین صورت میں میرے پاس آیا اور فرمایا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ عالم بالا (ملأ اعلیٰ) کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، اے میرے رب! یہ بات آپ نے تین بار پوچھی، (ہر بار) میں نے عرض کیا: نہیں، اے میرے رب! پھر اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، تو میرے لیے ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے اسے پہچان لیا، تو میں نے عرض کیا: (وہ) درجات اور کفارات (کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں)، اس نے فرمایا: درجات کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، اور رات کو نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں، اس نے فرمایا: تم نے سچ کہا، پھر فرمایا: کفارات کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: سردی میں مکمل وضو کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اور جمعہ کے لیے قدم اٹھانا، اس نے فرمایا: تم نے سچ کہا، پھر فرمایا: مانگو اے محمد! میں نے عرض کیا: اے اللہ! میں تجھ سے نیک اعمال کرنے، برے کاموں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو اپنے بندوں میں کوئی فتنہ برپا کرنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے جبکہ میں فتنے میں مبتلا نہ ہوا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور اس کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھے، اور اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں سیکھو اور انہیں پڑھو، کیونکہ یہ حق ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17352]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 109، حدیث 216»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17352 in Urdu