سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: قَدْرِ مَا بَيْنَ السُّحُورِ وَبَيْنَ صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: سحری اور نماز فجر کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2157
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2157]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے اٹھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ درمیان میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: اتنا کہ آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 27 (575)، والصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1097)، سنن الترمذی/الصوم 14 (703)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1694)، (تحفة الأشراف: 3696)، مسند احمد 5/182، 185، 186، 188، 192، سنن الدارمی/الصوم 8 (1737) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه