سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: تَأْخِيرِ السَّحُورِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى زِرٍّ فِيهِ
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان اور اس حدیث میں زر بن حبیش پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2154
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ:" أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ".
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2154]
حضرت زر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کس وقت کھائی؟ انہوں نے فرمایا: دن شروع ہونے ہی کو تھا، بس سورج طلوع نہ ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1695)، (تحفة الأشراف: 3325)، مسند احمد 5/396، 399، 400، 405 (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہو جاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2155
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ:" تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ".
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2155]
حضرت زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، جب ہم مسجد میں آئے تو دو رکعتیں پڑھیں، اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی اور سنتوں اور اقامت کے درمیان بالکل معمولی فاصلہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2156
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ:" تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا".
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، (اتنے میں) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2156]
حضرت صلہ بن زفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی۔ پھر ہم مسجد کو چلے۔ ہم نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں، اتنے میں نمازِ فجر کی اقامت ہوگئی تو ہم نے فرض نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2154 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح