علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : تأخير السحور وذكر الاختلاف على زر فيه
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان اور اس حدیث میں زر بن حبیش پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2154
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ:" أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ".
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1695)، (تحفة الأشراف: 3325)، مسند احمد 5/396، 399، 400، 405 (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہو جاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي | ثقة | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← زر بن حبيش الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن يحيى الثقفي، أبو يحيى محمد بن يحيى الثقفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ |
Sunan an-Nasa'i Hadith 2154 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي