🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2181
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ:" أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے؟ تو انہوں نے کہا: آپ (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے، اور آپ (اس تسلسل سے) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2181]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ (نفل) روزے نہ رکھتے تھے، (یوں سمجھیے کہ) پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن ابن ماجہ/الصوم 30 (1710)، (تحفة الأشراف: 17729)، مسند احمد 6/39 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ (تقریباً) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ (نفل) روزے نہ رکھتے تھے، (یوں سمجھیے کہ) پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 52 (1970)، صحیح مسلم/الصیام 34 (782)، (تحفة الأشراف: 17780)، مسند احمد 6/84، 128، 189، 233، 244، 249 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں (بہت زیادہ) روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2184]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن مجید پڑھا ہو یا کسی رات (شروع سے آخر تک) مسلسل نماز پڑھتے رہے ہوں یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1642، 2350 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا: (تو) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس تسلسل سے) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ روزے (ہی) رکھتے رہیں گے، اور (کبھی آپ اس تسلسل سے) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے (اب) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2185]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ رکھتے ہی رہیں گے اور چھوڑتے تو ہم کہتے: چھوڑے ہی رہیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد رمضان المبارک کے علاوہ کبھی مسلسل ایک مہینہ روزے نہیں رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، (پھر) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کسی مہینے کے تمام دنوں کا ناغہ کیا بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، والصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16217)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (4)، مسند احمد 6/171، 218، 204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے مکمل روزے چھوڑے، بلکہ کچھ نہ کچھ روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، (تحفة الأشراف: 16211)، مسند احمد 6/218 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں