سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُرْوَةَ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ فِيهِ
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے آپ میں دورانِ سفر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا روزہ رکھنے میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نہ رکھنا اللہ عزوجل کی طرف سے رخصت ہے۔ جو رخصت پر عمل کرے تو اچھی بات ہے اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن