🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: وُجُوبِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ:" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ، فَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر (زکاۃ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2437]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف (مبلغ و حاکم بنا کر) بھیجا تو ان سے فرمایا: تو وہاں اہل کتاب (یہودیوں) کے پاس جا رہا ہے۔ جب تو ان کے پاس پہنچے تو ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول و پیغمبر ہیں۔ اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ عزوجل نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی کے محتاج لوگوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ اگر وہ تیری یہ بات تسلیم کر لیں تو (زکاۃ کی وصولی اور دیگر انتظامی معاملات میں) مظلوم کی بددعا سے بچنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 1 (1395)، 41 (1458)، 63 (1496)، المظالم 10 (2448)، المغازی 60 (4347)، والتوحید 1 (7372)، صحیح مسلم/الإیمان 7 (19)، سنن ابی داود/الزکاة 4 (1584)، سنن الترمذی/الزکاة 6 (625)، البر 68 (2014)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 1 (1783)، (تحفة الأشراف: 6511)، مسند احمد 1/233، سنن الدارمی/الزکاة 1 (1655)، 9 (671)، ویأتی عند المؤلف فی باب 46 برقم2523 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس طرح کہ زکاۃ کی وصولی میں ظلم و زیادتی نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تقسیم میں، مثلاً کسی سے اس کا بہت اچھا مال لے لو یا کسی کو ضرورت سے زیادہ دے دو اور کسی کو کچھ نہ دو کہ وہ تم سے دکھی ہو کر تمہارے حق میں بد دعا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْيِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ"، قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے (اسلام لاتے وقت) کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے یہاں آپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد (یعنی دس) سے بھی زیادہ دفعہ قسم کھائی تھی کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ (لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے تو حاضر ہو گیا ہوں)۔ میں بے سمجھ آدمی ہوں، مجھے کچھ معلوم نہیں مگر جو اللہ عز وجل اور اس کا رسول مجھے سکھائیں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے واسطے سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام دے کر۔ میں نے عرض کیا: اسلام کی امتیازی باتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو کہے: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے لیے مطیع کر دیا ہے اور میں ہر قسم کے شرک سے لا تعلق ہو گیا ہوں۔ اور تو نماز (باجماعت) پڑھے اور زکاۃ کی ادائیگی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11388)، مسند احمد 5/4، 5، ویأتي عند المؤلف، بأرقام: 2567، 2569، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2536) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ".
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو (ثواب) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت (دلیل) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2439]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ کہنا میزان (ترازو) کو بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، زکاۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة5 (280)، (تحفة الأشراف: 2163)، مسند احمد 5/342، 343، سنن الدارمی/الطہارة2 (679)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة1 (223)، سنن الترمذی/الدعوات86 (3517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْ أَبِي سَعِيدٍ، يَقُولَانِ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَكَبَّ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي، لَا نَدْرِي عَلَى مَاذَا حَلَفَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَى، فَكَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيُخْرِجُ الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، إِلَّا فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ , فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ بِسَلَامٍ".
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ادا کرے، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2440]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے تین دفعہ فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک جھکا لیا، ہم میں سے ہر شخص بھی سر جھکا کر رونے لگا، اور ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز پر قسم کھائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا تو چہرے میں خوشی کے آثار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی ہمارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پانچ فرض نمازیں پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، زکاۃ ادا کرے اور سات کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے، اس کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دیے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4079، 13509)، مسند احمد 3/79 (ضعیف) (اس کے راوی صہیب عتواری لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ساتوں کبائر یہ ہیں: (۱) شراب پینا (۲) جادو کرنا (۳) ناحق خون بہانا (۴) سود کھانا (۵) یتیم کا مال کھانا (۶) جہاد سے بھاگنا (۷) پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2441
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ , يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ لَكَ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" , يَعْنِي: أَبَا بَكْرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ (و زکاۃ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ (زکاۃ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ باب الریان (ریان کے دروازہ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2441]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے، اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ (دروازہ) تیرے لیے بہتر ہے۔ اور جنت کے بہت سے دروازے ہیں۔ جو شخص نماز کا عادی ہوگا، اسے نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد کا شائق تھا، اسے جہاد والے دروازے سے آواز دی جائے گی اور جو صدقے سے خصوصی رغبت رکھنے والا ہوگا، اسے صدقے والے دروازے سے دعوت دی جائے گی اور جو روزے کا رسیا ہوگا، اسے «بَابُ الرَّيَّانِ» باب الریان سے داخل ہونے کو کہا جائے گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کسی شخص کو کوئی ضرورت تو نہیں کہ اسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے مگر کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے آوازیں دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے، اے ابوبکر! تم انہی میں سے ہوگے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں