صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ كِسْوَةِ الْكَعْبَةِ:
باب: کعبہ پر غلاف چڑھانا۔
حدیث نمبر: 1594
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قال: جِئْتُ إِلَى شَيْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قال:" جَلَسْتُ مَعَ شَيْبَةَ عَلَى الْكُرْسِيِّ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: لَقَدْ جَلَسَ هَذَا الْمَجْلِسَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّ صَاحِبَيْكَ لَمْ يَفْعَلَا، قَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے واصل احدب نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند) اور ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے واصل سے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو شیبہ نے فرمایا کہ اسی جگہ بیٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ) فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ کعبہ کے اندر جتنا سونا چاندی ہے اسے نہ چھوڑوں (جسے زمانہ جاہلیت میں کفار نے جمع کیا تھا) بلکہ سب کو نکال کر (مسلمانوں میں) تقسیم کر دوں۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے ساتھیوں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے تو ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انہیں کی پیروی کر رہا ہوں (اسی لیے میں اس کو ہاتھ نہیں لگاتا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1594]
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا کہ اس جگہ پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر فرمایا: میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں جس قدر سونا چاندی موجود ہے، میں اسے تقسیم کر دوں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کے دونوں پیش رو ساتھیوں نے تو ایسا نہیں کیا۔ تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دونوں جلیل القدر انسان تھے، میں بھی ان کی اقتدا کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة