سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: الْحَجِّ بِالصَّغِيرِ
باب: چھوٹے بچے کو حج کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنا بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھوں پر بلند کیا اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تجھے ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج72 (1336)، (تحفة الأشراف: 6360)، مسند احمد (1/343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہو جائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہو گی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2647
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2647]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنا بچہ ہودج سے اٹھایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا کر آپ سے) کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تجھے ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا، فَقَالَتْ:" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2648]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک بچہ اٹھایا اور کہنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تیرے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن ابی داود/الحج 8 (1736)، (تحفة الأشراف: 6336)، موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 344) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2649
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2649]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج سے) واپس (مدینہ منورہ کو) تشریف لا رہے تھے۔ جب مقام روحاء پر پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ انھوں نے عرض کیا: ہم مسلمان ہیں، پھر وہ کہنے لگے: آپ کون ہو؟ حاضرین نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ تو ان کی ایک عورت نے ڈولی سے ایک بچہ اٹھایا اور کہنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ اور ثواب تیرے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ۳۶ میل (۷۵ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2650
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ ابْن أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَبُو الرَّبِيعِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، مَعَهَا صَبِيٌّ، فَقَالَتْ:" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2650]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج سے واپسی کے دوران میں) ایک عورت کے پاس سے گزرے، وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ تھا، وہ کہنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تیرے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2648 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون ذكر الخدر
قال الشيخ زبير على زئي: حسن