سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: إِبَاحَةِ الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانے کی اباحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2685
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگائی آپ کے احرام کے وقت جب آپ نے احرام کا ارادہ فرمایا اور حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت (خوشبو لگائی) پہلے اس سے کہ آپ مکمل حلال ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16091)، مسند احمد (6/106، 107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2686
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور آپ کے حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت طواف زیارت کرنے سے پہلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1189)، سنن ابی داود/المناسک 11 (1745)، (تحفة الأشراف: 17518)، موطا امام مالک/الحج 7 (17) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور حلال ہونے کے وقت خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 73 (5922)، (تحفة الأشراف: 17529)، مسند احمد (6/238)، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت آپ کو خوشبو لگائی، اور جب آپ جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد حلال ہوئے اس وقت بھی خوشبو لگائی اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16446) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2689
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْلَالِهِ، وَطَيَّبْتُهُ لِإِحْرَامِهِ طِيبًا لَا يُشْبِهُ طِيبَكُمْ هَذَا" تَعْنِي: لَيْسَ لَهُ بَقَاءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہوتے وقت خوشبو لگائی اور احرام باندھنے کے وقت بھی ایسی خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کی طرح نہیں تھی، یعنی جو باقی نہیں رہتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16523) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2690
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" بِأَطْيَبِ الطِّيبِ عِنْدَ حُرْمِهِ وَحِلِّهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2690]
حضرت عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین خوشبو لگائی، احرام باندھنے کے وقت بھی اور حلال ہونے کے وقت بھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 79 (5928)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16365)، مسند احمد (6/38، 130، 161، سنن الدارمی/المناسک 10 (1843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2691
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2691]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے کے وقت بہترین خوشبو لگایا کرتی تھی جو میرے پاس ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 2685 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2692
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ لِحُرْمِهِ، وَلِحِلِّهِ وَحِينَ يُرِيدُ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھتے اور کھولتے وقت اور جس وقت آپ بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتے بہترین خوشبو جو میں پا سکتی لگاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2692]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے کے وقت اور حلال ہونے کے وقت اور جب آپ بیت اللہ کا طوافِ زیارت کرنے چلے، اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2687 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2693
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2693]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے قبل اور قربانی والے دن طوافِ بیت اللہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں کستوری شامل تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1191)، سنن النسائی/الحج 77 (917)، (تحفة الأشراف: 17526)، مسند احمد (6/186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2694
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ , عَنْ سُفْيَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاق يَعْنِي الْأَزْرَقَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَبِيصِ طِيبِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ احمد بن نصر نے اپنی روایت میں «وبيص الطيب في رأس رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «وبيص طيب المسك في مفرق رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی خوشبو کی چمک) روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2694]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں ہیں۔ (استاد) احمد بن نصر کی حدیث میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں (دوران احرام) کستوری کی خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، سنن ابی داود/المناسک 11 (1746)، (تحفة الأشراف: 15925)، مسند احمد (6/38، 245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه