سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. بَابُ: تَقْلِيدِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کے گلے میں قلادہ (پٹہ) ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2785
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَوَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2785]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے اونٹوں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بُنے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قلادے ان کے گلوں میں لٹکائے اور انہیں شعار کیا اور انہیں بیت اللہ کی طرف بھیجا مگر خود (مدینہ منورہ میں) تشریف فرما رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہ ہوئی جو پہلے حلال تھی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احرام کی پابندیاں لاگو نہ ہوئیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2774و2777 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2786
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بٹے (جو آپ نے پہنائے) پھر آپ محرم نہیں ہوئے، اور نہ آپ نے کپڑوں میں سے کوئی چیز پہننی چھوڑی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے اونٹوں کے قلادے تیار کیے، پھر آپ (انہیں حرم میں بھیجنے کے باوجود) نہ تو محرم بنے اور نہ کسی قسم کے کپڑے پہننے ترک کیے (جو محرم کو ترک کرنے پڑتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 70 (908)، (تحفة الأشراف: 17513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن