سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: تَقْلِيدِ الْهَدْىِ
باب: ہدی کو قلادۃ پہنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2783
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہوں گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2783]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے ہیں مگر آپ اپنے عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کو گوند لگائی ہے اور جانوروں کو قلادے ڈالے ہیں، لہٰذا میں حلال نہیں ہوں گا حتیٰ کہ میں جانور ذبح کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2783]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2683 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2784
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ لَبَّى وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ہدی کے دائیں کوہان کی جانب اشعار کیا پھر اس سے خون صاف کیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں، پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اور جب وہ آپ کو کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2784]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کی کوہان کی دائیں جانب اشعار کیا، پھر اس سے خون دور فرمایا اور دو جوتے اس کے گلے میں لٹکائے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔ جب وہ آپ کو لے کر بیداء پر چڑھی تو آپ نے «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہا اور ظہر کی نماز کے وقت احرام باندھا اور حج کا «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2784 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم