سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابُ: مَا يُفْتَلُ مِنْهُ الْقَلاَئِدُ
باب: ہار (قلادۃ) کس چیز سے بٹا جائے؟
حدیث نمبر: 2782
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا، فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ".
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے وہ قلادے اون سے بٹے تھے جو ہمارے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (قلادے والے جانوروں کو حرم بھیجنے کے بعد) ہم میں رہے، وہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کام کرتے تھے جو ایک حلال شخص یا عام آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 112 (1705)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الدارمی/المناسک 17 (1759)، (تحفة الأشراف: 17466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه