سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ: فَتْلِ الْقَلاَئِدِ
باب: اونٹوں کے گلے کا ہار بٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2777
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی (قربانی کے جانور) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2777]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور مکہ مکرمہ کو بھیجا کرتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے (رسیاں) بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پرہیز نہیں فرماتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1698)، 107 (1699)، 108 (1700)، 109 (1702)، 110 (1703)، الوکالة 14 (2317)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1758)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (1094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 82، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 190، 191، 200، 208، 213، 216، 218، 225، 236، 253، 262) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ محض ہدی بھیجنے سے آدمی محرم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود ہدی کے ساتھ نہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2778
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر (یعنی قربان گاہ پر) پہنچے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2778]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے قلادے بٹتی (تیار کرتی) تھی، پھر آپ انہیں (حرم کے لیے) بھیج دیتے، پھر وہ سب کام کرتے جو ایک حلال شخص کرتا ہے، حالانکہ وہ جانور ابھی تک اپنی جگہ نہیں پہنچے ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17530)، مسند احمد (6/183، 238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2779
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُقِيمُ وَلَا يُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2779]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یقینا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کو بھیجے جانے والے جانوروں کے قلادے تیار کرتی تھی، پھر (انھیں بھیجنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہی میں ٹھہرتے اور محرم نہیں بنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 111 (1704)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1312)، (تحفة الأشراف: 17616)، مسند احمد (6/30، 35، 127، 190، 191، 208)، سنن الدارمی/المناسک 86 (1979) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مر جانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2780
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے۔ اور آپ خود مقیم رہتے، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2780]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے قلادے بٹتی (تیار کیا کرتی) تھی۔ آپ وہ قلادے ان جانوروں کو پہناتے، پھر انھیں حرم کے لیے بھیج کر خود مدینہ منورہ ہی میں رہتے اور کسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں فرماتے تھے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 119 (1702)، صحیح مسلم/الحج 14 (1321)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (3095)، (تحفة الأشراف: 15947)، مسند احمد (6/233) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2781
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلَالًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال (غیر محرم) ہی رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2781]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، فرماتی ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم کو بھیجی جانے والی بکریوں کے لیے قلادے تیار کرتی تھی، پھر آپ (انھیں حرم کی طرف بھیجنے کے بعد) حلال رہتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 110 (1703)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، (تحفة الأشراف: 15985)، مسند احمد (6/91، 174، 191، 253، 262)، ویأتي عند المؤلف: 2787، 2791، 2799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه